پانی دادو میں کیوں پھیل رہا ہے؟

دادو میں سیلاب
Image caption بعض نہروں میں ضروری شگاف ڈالے جاتے تو ضلع دادو کے شہر سیلاب سے محفوظ رہ سکتے تھے: ماہرین

پاکستان کے صوبہ سندھ میں سیلابی پانی ضلع دادو کی حدود میں سے گزر رہا ہے اور حکام کا کہنا ہے کہ ضلع کے دو بڑے شہروں جوہی اور میہڑ سے تاحال خطرہ نہیں ٹلا ہے۔

میہڑ اور جوہی شہروں سے لاکھوں لوگ نقل مکانی کر چکے ہیں اور سیلابی پانی ان شہروں سے آدھے کلومیٹر دور بنائے گئے حفاظتی پشتوں سے ٹکراتا ہوا گزر رہا ہے۔

آبپاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹوڑھی شگاف سے نکلنے والے سیلابی ریلے کو ضلع دادو میں اگر بروقت راستہ دیا جاتا اور بعض نہروں میں ضروری شگاف ڈالے جاتے تو دادو کے شہر سیلاب سے محفوظ رہ سکتے تھے۔ دادو کے منتخب اراکین کے اعتراضات کی وجہ سے دھامراہ واہ اور جوہی برانچ نہروں کو بروقت کٹ نہیں لگائے گئے۔

جبکہ سندھ کے سینئر وزیر پیر مظہر کا کہنا ہے کہ سیلابی پانی بہت بڑی تعداد میں ہے اور نہروں کو شگاف ڈالنے سے بھی مسئلہ حل نہیں ہوتا۔ ان کا کہنا ہے کہ فیصلہ سازی میں دیر کے الزامات مبالغہ آرائی ہیں۔

آبپاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ ضلع دادو کے منتخب اراکین نے پانی کو آگے کا راستہ دینے یا نہ دینے پر فیصلہ سازی میں دیر کردی جس وجہ کی سے دادو کے تمام شہروں کے زیر آب آنے کے خطرات بڑھ گئے ہیں۔ آبپاشی کے سابق صوبائی سیکرٹری ادریس راجپوت کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ بروقت کیا جاتا تو خیرپور ناتھن شاہ شہر بھی بچ سکتا تھا۔

ادریس راجپوت کے مطابق پانی کو اپنا قدرتی راستہ دینا ضروری تھا۔ ان کے مطابق جب ضلع قمبر شہداد کوٹ کے بعد یہ پانی دھامراہ برانچ پر جمع ہوا تو سپریو بند کے شگاف سے پہلے اگر نیچے جوہی برانچ میں ایک کٹ دیکر اس پانی کو جوہی اور ایم این وی ڈرین کے درمیاں سے گزار کر منچھر جھیل میں چھوڑ دیتے تو اوپر کا دباؤ کم ہوسکتا تھا اور سپریو بند میں شگاف نہ پڑتا۔ اگر یہ کٹ بروقت دیتے تو سپریو بند میں شگاف نہ پڑتا، خیرپور ناتھن شاہ ڈوبتا نہ ہی پانی انڈس ہائی وی کو کراس کرتا اور میہڑ تک نہ پہنچتا۔ ان کے مطابق اب کٹ تو دے دیے ہیں مگر بہت دیر بعد۔

سیلابی پانی ضلع دادو کی تین تحصیلوں کے درجنوں دیہات زیر آب کرچکا ہے۔ جبکہ پانی جوہی اور میہڑ شہروں کے حفاظتی پشتوں سے ٹکرا گیا ہے۔ دونوں شہروں سے لاکھوں کی تعداد میں لوگوں نے نقل مکانی کردی ہے اور بقیہ آبادی پانی کے خوف میں ہے۔ میہڑ سے سابق رکن صوبائی اسمبلی قاضی شفیق مہیسر کا کہنا ہے کہ سیلابی پانی کے راستہ کے فیصلے کا اختیار منتخب ارکین کو نہیں آبپاشی ماہرین کو ہونا چاہیے تھا۔

انہوں نے بتایا ہے کہ فیصلوں میں دیر کی وجہ سے لاکھوں لوگوں کی زندگیاں برباد ہو رہی ہیں۔ قاضی شفیق کے مطابق انہوں نے پہلے بھی فیصلہ کرنے میں دیر کردی اور اب بھی دیر کر رہے ہیں۔ جس کی وجہ سے دادو کے وہ علاقے بھی زیر آب آ رہے ہیں جن کو سیلاب کا براہ راست کوئی خطرہ نہیں تھا۔

سیلابی پانی نے دادو ضلع کی وسیع اراضی کو زیرآب کر دیا ہے۔ جبکہ مرکزی شہر دادو اور زم زما گیس فیلڈ کو محفوظ بنانے کے لیے ان کے گرد نئے حفاظتی پشتے تعمیر کیے گئے ہیں۔ سندھ کے سینئر وزیر پیر مظہر نے سیلاب کی ہنگامی صورتحال کی وجہ سے اپنے آبائی علاقے دادو میں کیمپ قائم کر رکھا ہے۔ پیر مظہر نے فیصلہ سازی میں دیر کے الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پانی کی مقدار بہت زیادہ تھی۔

سینئر وزیر پیر مظہر کا کہنا ہے کہ یہ سیلاب زدگان کی نفسیات بن گئی ہے کہ اگر اس نہر کو کٹ لگتا تو ہم بچ سکتے تھے اور اس نہر کو کٹ کیوں نہیں لگا وغیرہ۔ ان کے مطابق یہ صرف سندھ کی نہیں پورے پاکستان کی بات ہے۔ ان کے مطابق ناسا کے ادارے سے لیے گئے سیٹلائٹ امیجز دیکھنے کے بعد وہ حیران رہ گئے ہیں کہ دادو میں اتنا پانی کہاں سے آگیا ہے۔ پیر مظہر کے مطابق فیصلہ سازی میں دیر صرف مبالغہ آرائی ہے اور اگر اس میں کوئی حقیقت ہے تو اس کی جانچ ضرور ہونی چاہیے۔

صوبائی وزیر کا کہنا ہے کہ سیلابی پانی کو راستہ کہاں سے کٹ لگا کر دینا ہے یہ فیصلہ آبپاشی کے حکام کر رہے ہیں نا کہ منتخب اراکین۔ یہ ایک غلط رائے عامہ بن گئی ہے۔ مگر ان کے مطابق خود آبپاشی کے حکام کو پتہ نہیں چل رہا ہے کہ کہاں سے پانی کو راستہ دیا جائے۔

ٹوڑھی شگاف سے نکلنے والا سیلابی ریلا دادو کی حدود میں سے گزرتا ہوا سیہون کے قریب اپنی آخری منزل منچھر جھیل پہنچے گا۔ جہاں سے جھیل کی سطح بلند ہونے کے بعد پانی کو دوبارہ دریائے سندھ میں ایک نہر کے ذریعے روانہ کیا جائے گا۔ آبپاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ سیلابی پانی کی وجہ سے دادو کے شہروں کے لیے آئندہ چند دن بہت اہم ہیں۔

اسی بارے میں