’عام خاتون کا پارلیمان پہنچنا مشکل‘

پاکستان سپریم کورٹ
Image caption جسٹسس جوادایس خواجہ کا کہنا تھا کہ مخصوص نشستوں پر انتخابات کا طریقہ کار ناقص ہے

پاکستان کے سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ اسمبلیوں میں مخصوص نشستوں پر خواتین کا انتخابی طریقہ کار غیر جمہوری ہے اور اس طریقہ کار سے عام خاتون کبھی بھی پارلیمنٹ میں نہیں پہنچ سکتی۔

اٹھارہویں آئینی تیرمیم کی کچھ شقوں کے خلاف دائر درخواستوں کی سماعت کرتے ہوئے سپریم کورٹ کے سترہ رکنی بینچ میں شامل جسٹسس جوادایس خواجہ کا کہنا تھا کہ مخصوص نشستوں پر انتخابات کا طریقہ کار ناقص ہے۔

اٹارنی جنرل مولوی انوار الحق نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ مخصوص نشستوں پر خواتین اور اقلیتی نمائندوں کا طریقہ کار جیسا بھی ہے لیکن اس سے ان لوگوں کی پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیوں میں نمائندگی تو موجود ہے۔

بینچ میں شامل جسٹس جاوید اقبال کا کہنا تھا کہ ان مخصوص نشستوں پر جیتنے والے افراد کو عوامی نمائندے نہیں کہا جاسکتا۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں اس پر اعتراض نہیں ہے کہ خواتین اسمبلیوں میں کیوں ہیں، اعتراض اس بات پر ہے کہ اُن کے انتخابات کا طریقہ کار درست نہیں ہے۔

اٹارنی جنرل نے کہا کہ مخصوص نشستوں پر اُمیدواروں کی فہرست پولنگ بوتھ میں آویزاں کردی جائے تاکہ عام ووٹرز کو بھی اس عمل کا حصہ بنایا جاسکتا ہے۔

جسٹس جاوید اقبال کا کہنا تھا کہ موجودہ اسمبلیوں میں کوئی عام گھرانے کی خاتون نظر نہیں آئے گی بلکہ اس میں مخصوص گھرانوں کی خواتین نظر آرہی ہیں۔

جسٹس راجہ فیاض نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ وہ اس طریقہ کار کو کیسے تبدیل کرسکتے ہیں انہوں نے تو اٹھارہویں ترمیم میں سیاسی جماعتوں میں انتخابات کی شق ہی ختم کردی ہے۔

اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ پارلیمنٹ کی مشترکہ آئینی اصلاحاتی کمیٹی کے چیئرمین رضا ربانی آئندہ ہفتے عدالت میں پیش ہونا چاہتے ہیں اور اپنا موقف عدالت میں پیش کریں گے جس پر عدالت کا کہنا تھا کہ آئندہ ہفتے عدلیہ کا نیا سال شروع ہو رہا ہے اس میں دیکھیں گے کہ عدالت کے پاس مقدمات کی نوعیت کیا ہے۔

درخواست گُزار احمد رضا قصوری کا کہنا تھا کہ اٹھارہویں ترمیم میں 63 اے کا نفاذ پارلیمانی آمریت کے مترادف ہے۔

انہوں نے کہا کہ اختلاف رائے کی وجہ سے پارٹی کا سربراہ اگر کسی پارٹی کے رکن کی اسمبلی کی رکنیت معطل کرتا ہے تو یہ ہٹلر جیسی جمہوریت ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ کو آئین میں ترمیم کا مکمل اختیار ہے لیکن بنیادی ڈھانچے میں کوئی تبدیلی نہیں کی جاسکتی۔ ان درخواستوں کی سماعت منگل تک لے لیے ملتوی کردی۔

اسی بارے میں