بھوک کا خوف اور بے یقینی

ملتان کیمپ میں مقیم ایک بچہ
Image caption متاثرین کا کہنا ہے کہ بھوک کا خوف واپسی کی راہ میں حائل سب سے بڑی رکاوٹ ہے

جنوبی پنجاب کے متاثرین کی ایک بڑی تعداد محض اس لیے واپس نہیں جانا چاہتی کہ سیلاب نے ان کے سر کی چھت، سال بھر کی خوراک کا ذخیرہ اور روزگار سمیت وہ تمام ذرائع چھین لیے ہیں جو ان کی عمر بھر کی پونجی اور زندگی بسر کرنے کے آسرے تھے۔

جنوبی پنجاب کے سیلاب زدہ علاقوں میں متاثرین کی واپسی کا جزوی عمل شروع ہوگیا ہے اور ملتان کے قریب سڑکوں پر ایسے مناظر دیکھنے کو ملتے ہیں جہاں لوگ ٹریکٹر ٹرالی پر ٹرک پر یا پیدل یا دیگر سواریوں پر واپس جارہے ہیں۔

ملتان کے ضلعی رابطہ افسر کے مطابق سرکاری کیمپوں میں پناہ گزین سترہ ہزار میں سے دس ہزار کے قریب واپس لوٹ چکے ہیں جبکہ ملتان سے پیپلز پارٹی کے رکن صوبائی اسمبلی ملک عامر ڈوگر کا کہنا ہے کہ ان کے شہر میں متاثرین کی تعداد پچاس ہزار کے قریب تھی اور پچاس فیصد واپس جاچکے ہیں۔ البتہ انہوں نے کہا کہ ایک بڑی تعداد ایسے لوگوں کی ہے جن کا گھر بار مکمل طور پر پانی میں ڈوب گیا، کھیت کھلیان ختم ہوگئے اور مویشی پانی میں بہہ گئے یا مر گئے۔

انہوں نے کہا کہ لوگ جو اناج کا ذخیرہ اور اپنی جمع پونجی چھوڑ کر آئےتھے وہ بھی لوٹ لی گئی اور اب وہ کس سہارے واپس جاسکتے ہیں۔

متاثرین کی ایک بڑی تعداد کا کہنا ہے کہ بھوک کا خوف واپسی کی راہ میں حائل سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

پنجاب میں سب سے زیادہ متاثرین مظفر گڑھ کے ہیں لیکن اسی ضلع میں واپس جانے والوں کی تعداد بھی سب سے زیادہ ہے۔ مظفر گڑھ میں زیادہ تباہی دریائے چناب کی وجہ سے ہوئی ہے۔

لیہ کے سابق سٹی ناظم عبدالرحمان مانی کا کہنا ہے کہ دریائے چناب اور دریائے سندھ کے متاثرین میں فرق ہے۔ ان کے بقول سندھ جن کو تباہ کرتا ہے ان کی بحالی کوئی آسان کام نہیں ہوتی۔

ایک اندازے کےمطابق پاکستان میں سیلاب کی نوے فیصد سے زیادہ تباہی دریائے سندھ میں طغیانی کی وجہ سے ہوئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ضلع لیہ دریائے سندھ کی ایک ایسی آبادی ہے جو اس کے قدرتی کٹاؤ پر واقع ہے۔ یہاں دریائے سندھ اپنا راستہ تبدیل کرتا رہتا ہے اور سینکڑوں ہزاروں ایکٹر اراضی کبھی دریا برد ہوتی ہے اور کبھی خشکی کا سندیسہ دیتی ہے۔

عبدالرحمان مانی کا کہنا ہے کہ اس سیلاب نے ضلع لیہ کو مکمل تباہ کردیا ہے لیکن امدادی اداروں اور حکومت کی اس ضلع کی طرف توجہ باقی علاقے کے مقابلے میں نہ ہونے کے برابر ہے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ حکومتی اور امدادی اداروں کی عدم توجہی ایک ایسی شکایت ہے جس کی گونج ہر سیلاب زدہ علاقے میں سنائی دیتی ہے۔

سیلاب نے پاکستان کے جن علاقوں میں تباہی پھیلائی ہے وہ ملک کے پسماندہ ترین علاقے ہیں۔ خود بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کی سربراہ فرزانہ راجہ کا کہنا ہے کہ دو کروڑ متاثرین میں سے ساٹھ لاکھ ایسے ہیں جو غربت کی لیکر سے نیچے ہونے کی وجہ سے حکومتی امداد کے لیے پہلے رجسٹرڈ تھے۔

ایسے متاثرین کی ایک بڑی تعداد موجود ہے جو کہتی ہے کہ ان کے پاس پہلے ہی کچھ نہیں تھا اب سیلاب نے انہیں ہجرت پر مجبور کر ہی دیا ہے تو ان میں یہ سوچ پیدا ہوئی ہے کہ وہ اب واپس جا کر کریں گے بھی کیا؟

ایسے لوگوں کا کہنا ہے کہ پہلے ہی ان کے پاس کچھ نہیں تھا اور جو تھوڑا بہت تھا وہ سیلاب بہا کر لے گیا اب اس پسماندہ علاقے میں جسے سیلاب نے مزید تباہ کر دیا ہے وہاں واپس جانے کا اب انہیں کوئی فائدہ نہیں ہے۔

بعض متاثرین نے ہمیشہ کہ لیے اپنے علاقے کو خیرباد کہہ دیا ہے۔

ایک بیوہ عورت کلثوم بی بی کی جوان بیٹی کا جہیز سیلاب میں بہہ گیا تھا۔ وہ بھیک مانگ مانگ کر لاہور تک پہنچی ہیں اور اب واپس نہیں جانا چاہتیں۔

کلثوم بی بی نے کہا کہ دس برس پہلے جب ان کی تیسری بیٹی ان کے پیٹ میں تھی تو ان کا شوہر فوت ہوگیا۔ علاقے کے ایک نسبتاً متمول گھرانے نے انہیں پناہ دی اور ایک گھر دے دیا۔ ’میں انہی کے کھیتوں میں کام کرتی تھی اور ان کے مویشیوں کی دیکھ بھال کرتی تھی لیکن جب سیلاب نے ان کے پورے گھر کو ڈبو دیا اور انہی کو سڑک پر لے آیا تو اب میں واپس کس کے سہارے جاؤں؟

کلثوم نے چند روز ایک کیمپ میں گزارنے کے بعد اب دو ہزار روپے ماہوار پر ایک گھر کرائے پر لیا ہے اور وہ اور ان کی تین بیٹیاں لاہور کے لوگوں کے گھروں میں کام کاج کر کے اپنے پیٹ کا دوزخ بھر رہی ہیں۔

سیلاب نے بعض علاقوں میں غریب اور امیر کا فرق مٹا دیا ہے۔ البتہ سفید پوشوں کی ایک ایسی تعداد پناہ گزین کیمپوں میں یا اپنے عزیز رشتہ داروں کے گھروں میں موجود ہے جو واپس جانا چاہتی ہے لیکن ان کے پاس نہ تو واپسی کا کرایہ ہے اور نہ ہی چند روز زندہ رہنے کا راشن ہے۔

ملتان سے پیپلز پارٹی کے رکن صوبائی اسمبلی ملک عامر ڈوگر کا کہنا ہے کہ ایسے لوگوں کی ایک بڑی تعداد موجود ہے جو تمام تر یقین دہانیوں کے باجود خود کو بے بس محسوس کرتی ہے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر سیلاب سے متاثرہ افراد کی ان کے گھروں کو واپسی کے لیے حالات ساز گار نہ بنائے جاسکے تو شہروں کی آبادی میں اضافہ کے علاوہ ایک بڑا انسانی المیہ جنم لے سکتا ہے۔

اسی بارے میں