لٹیروں کی بارات!!

غوث پور
Image caption غوث پور میں کئی جگہ سات آٹھ فٹ پانی کھڑا ہے جس سے فصلیں اور فیکٹریاں تباہ ہو گئی ہیں

بی بی سی اردو کے وسعت اللہ خان پاکستان میں آنے والے سیلاب سے متاثرہ علاقہ جات کے دورے کا احوال ایک ڈائری کی صورت میں بیان کر رہے ہیں۔ پیش ہے اس سلسلے کی تئیسویں کڑی جو انہوں نے غوث پور سے بھیجی ہے۔

منگل اکتیس اگست ( غوث پور)

کل شام توڑی بند تک سفر کے دوران گفتگو تو میں سپیڈ بوٹ میں بیٹھے حکام سے کر رہا تھا لیکن ذہن کی سپیڈ بوٹ کسی اور ہی دنیا میں رواں تھی۔اس دوران ڈی سی او کشمور عابد علی شاہ نے میرا اگلا شیڈول کیا پوچھ لیا کہ بلی کے بھاگوں گویا چھینکا ٹوٹ گیا۔

سیلاب کی ڈائری: خصوصی ضمیمہ

مجھے غوث پور جانا ہے۔

غوث پور کیسے جائیں گے۔ وہ تو چاروں طرف سے کٹا ہوا ہے۔

جیسے چاروں طرف سے کٹے ہوئے توڑی بند کو دیکھنے جا رہا ہوں۔ ویسے ہی غوث پور بھی جاؤں گا۔

عابد علی شاہ نے میرے فقرے میں چھپے ہوئے حسنِ طلب کو فوراً ناپ لیا۔ ٹھیک ہے آپ غوث پور ضرور جائیں گے۔ اور بات اگلے پندرہ گھنٹے کے لیے آئی گئی ہوگئی۔

آج صبح فشر فوک فورم نامی این جی او کے ضلعی نگراں محمد اسحاق ڈی سی او کے حوالے کے ساتھ میرے پاس تشریف لائے۔اسوقت اسحاق کا گاؤں میانی سہراب بھی توڑی بند کے پانی تلے ہے۔ اسی لیے اسحاق کا خاندان گھوٹکی میں ہے اور وہ خود کندھ کوٹ کے مضافات میں اس عارضی بوٹنگ پوائنٹ پر اپنی تنظیم کی چار امدادی کشتیوں کی نگرانی کر رہے ہیں جو چار کلومیٹر پرے جزیرہ بن جانے والے غوث پور اور آس پاس کے جزیرائی گھوٹھوں کے اندر مرضی سے رہ جانے والے خاندانوں کو لانے لے جانے اور سامانِ ضروریات ڈھونے کا کام کر رہی ہیں۔

Image caption سیلاب کی تباہی کے بعد ڈاکوؤں نے تباہی پھیلائی اور دکانوں کو لوٹ لیا

یہ بوٹنگ پوائنٹ جس جگہ ہے اسکے بازو میں انڈس ہائی وے نے غوث پور کی طرف جاتے جاتے پل سے اچانک چھلانگ لگائی اور توڑی بند سے آنے والے تاحدِ نگاہ پانی میں ڈوب گئی۔ اب تو محض سڑک کا اندازہ ہی بچا ہے۔ اور اس اندازے پر سے بھی کشتیاں مغرور ٹرکوں اور سر جھکائی مسافر ویگنوں پر طنزیہ نگاہ ڈالتے ہوئے گذر رہی ہیں۔ اہلِ چشم کو اور کتنی عبرت درکار ہے؟

بہت کام کیا ہے محمد اسحاق کے اس فشرفوک فورم نےبھی۔ تین اگست سے دس اگست تک کشمور کے کچے سے لگ بھگ تیس ہزار افراد اور توڑی بند ٹوٹنے کے بعد مزید پندرہ ہزار گھرے ہوئے افراد کو نکالنے میں بھر پور مدد دی۔اور اب پانچ ہزار خاندانوں کو ایک ایک مہینے کا راشن بانٹا جا رہا ہے۔

کندھ کوٹ کے اس بوٹنگ پوائنٹ سے غوث پور اور اسکے شمالاً جنوباً شرقً غرباً جہاں تک بھی نگاہ جائے پانچ تا آٹھ فٹ پانی کھڑا ہے ۔یہ چاول کی زمین ہے اور اتنی زرخیز کہ نو اگست کی صبح تک بھی یہاں کے ایک ایکڑ کی قیمت دس لاکھ روپے سے کم نہ تھی۔اسں لمحے دس روپے کا ٹکڑا بھی دکھائی نہیں دے رہا۔ اور تم خدا کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے۔

غوث پور جہاں مجھے فشر فوک فورم کی سپیڈ بوٹ لیے جا رہی ہے دو سو برس سے بھی زائد پرانا قصبہ ہے۔ اس پر سخی شاہ غوث حسین اور ان کے نیاز مند بابا غریب داس کا سایہ ہے۔

Image caption کہتے ہیں کہ غوث پور سخی شاہ غوث حسین اور ان کے نیاز مند بابا غریب داس کا سایہ ہے

جب سپیڈ بوٹ ایک گلی کے نکڑ پر کنارے لگی تو آس پاس کے مکانات، دو سو کے لگ بھگ دوکانیں (جن میں سے متعدد قصبے کی دھلیز سے گذرنے والی انڈس ہائی وے یا اسکے آزو بازو تھیں) آٹھ رائس ملز، ان ملز میں موجود تیس ہزار من دھان ، دس ہزار من چاول اور ایک پٹرول پمپ بھی ڈوب گیا۔ یوں سمجھئے کہ پچھتر فیصد قصبہ زیرِ آب آگیا لیکن قلبِ شہر خشک رہا۔ مگر ایسی خشک گلیاں کس کام کی جہاں عاق شدہ گائیں اور بچھڑے زیادہ اور انسان کم کم۔

ڈھائی ہزار ہندوؤں سمیت قصبے کی تیس ہزار آبادی میں سے اسی فیصد پانی آنے سے پہلے کندھ کوٹ سمیت جہاں جس کے سینگ سمائے نکل لی یا نکال لی گئی۔

غوث پور کے قلبِ شہر کو سیلاب نے میرے یہاں پہنچنے سے اکیس دن پہلے گھیرا تھا۔ آبی محاصرہ اتنا مکمل ہے کہ گائے اور بچھڑے تو رہے ایک طرف، کچرے کے ڈھیر میں سے خوراک پانے کے متمنی قناعت پسند کتے کی پسلیاں بھی دور سے گنی جاسکتی ہیں۔

گلیوں گلیوں گذرتے ہوئے مجھے بابا غریب داس مندر لے جایا گیا۔ یہاں دوپہر کے لنگر کے لئے پیازیں چھیلی جارہی ہیں۔تیس چالیس جوان اور بوڑھے موجود ہیں۔کچھ مصروف ہیں اور بیشتر چارپائیوں پر بیٹھے ٹک ٹک دیکھ رہے ہیں۔

جب سے بابا غریب داس مندر کھلا ہے نہ تو دروازہ بند ہوا ہے، نہ لنگر اور نہ گیتا اور گرنتھ صاحب کا پاٹ۔ ایک ڈیڑھ گھنٹے بعد جب لنگر تیار ہوجائے گا تو ہندو مسلمان سب کے لیے کھل جائےگا۔ کھانے کا کوئی عقیدہ نہیں ہوتا۔

مندر کے ایک عمر رسیدہ ٹرسٹی آوت رام ، انکے برابر میں بیٹھے نوجوان کریانہ فروش کمل کمار اور انکے برابر بیٹھے چاول چھڑنے کے زیرِ آب کارخانے کے مالک سنیل کمار سے گفتگو کا خلاصہ یوں ہے:

’جب آٹھ اگست کی صبح توڑی بند ٹوٹا تب بھی غوث پور والے اطمینان سے تھے کیونکہ قصبے اور توڑی بند کے پانی کے درمیان بیگاری سندھ کینال فیڈر کا پشتہ حائل تھا۔ ہمارے گمان میں بھی نہ تھا کہ اتنی بڑی مقدار میں پانی آئے گا کہ نہر اور اسکے پشتے بھی ہتھیار ڈال دیں گے۔

پانی راستے میں ہی تھا کہ قصبہ خالی کرا لیا گیا۔ ہندو مسلمان سب ملا کر دو ہزار کے لگ بھگ لوگ پیچھے بچے۔ایس ایچ او اور دو سپاہیوں نے بھی قصبہ نہیں چھوڑا۔

پانی نے جب چاروں طرف سے گھیر لیا تو تقریباً چھ گھنٹے بعد ٹیوب والی کشتیوں میں لٹیروں کی بارات آنی شروع ہوئی۔پہلے ایک درجن ، پھر پچاس ، پھر سو ، پھر چار۔۔۔۔کچھ مسلح تو کچھ غیر مسلح۔

قلبِ شہر کی مارکیٹ کی لگ بھگ چار سو میں سے ڈھائی سو دکانوں میں ہندو کاروبار کرتے ہیں۔ لوہے اورسپئر پارٹس کی دکانیں، درزی، کپڑا فروش، دوا فروش، کریانہ فروش، جنرل سٹورز ۔۔۔اسی فیصد دوکانوں کے تالے ٹوٹے یا جست کے شٹر پھاڑ دئیے گئے۔ گھر صرف پانچ چھ ہی لوٹے گئے۔نیشنل بینک کی واحد شاخ کا دروازہ بھی توڑا گیا۔ لیکن اس میں لوٹنے کے لیے کچھ تھا ہی نہیں۔سب کچھ وارننگ ملتے ہی کندھ کوٹ شفٹ کردیا گیا تھا۔

Image caption غوث پور کا پچھتر فیصد قصبہ زیرِ آب آگیا

اگلے دن گیارہ اگست کی شام کو دس پولیس والے کندھ کوٹ سے یہاں بھیجے گئے۔ایک ایس ایچ او اور دو سپاہی پہلے سے موجود تھے۔انکے آنے سے لوٹ مار کی شدت میں کچھ کمی ضرور آئی۔ لیکن تیرہ پولیس والے سینکڑوں لٹیروں کو کتنا روک سکتے ہیں۔ تیسرے دن شام کو بیس مزید پولیس والے اور بیس آرمی کے جوان قصبے میں پہنچائے گئے ۔انہوں نے اعلان کیا کہ جو آٹھ بجے شام کے بعد باہر دیکھا گیا اسے گولی مار دی جائے گی۔

گیارہ آدمی گرفتار ہوئے۔ایک گولی لگنے سے زخمی ہوا اور بائیس کے خلاف پرچہ کاٹا گیا۔ان اقدامات کے بعد کچھ گلیوں میں لوٹا ہوا سامان گھروں سے باہر پھینک دیا گیا۔ پتہ یہ چلا کہ غیروں کی دیکھا دیکھی کچھ اپنے بھی لوٹ مار میں شامل ہوگئے۔یعنی مصیبت زدہ نے مصیبت زدہ کو ہمسائے نے ہمسائے کو لوٹ لیا۔ کشتیوں پر لے جایا گیا کچھ سامان بند پر بیٹھے لوگوں سے بھی برآمد ہوا ۔سب ہی آس پاس کے ہی لوگ ہیں ۔اب کسی ایک کا کیا نام لینا۔۔۔‘

میں بابا غریب داس مندر میں لگ بھگ ایک گھنٹہ رکا۔ پھرگلیوں گلیوں اس مارکیٹ میں پہنچا جہاں توڑے جانے والے پرانے تالوں کی جگہ نئے تالے لگ چکے ہیں۔کچھ دوکانوں کے شٹرز کے پیٹ پھٹے ہوئے ہیں۔ایک آدھ کو آگ لگانے کی کوشش میں چوکھٹ سیاہ بھی ہوئی ہے۔کچھ چاک شدہ دکانوں کی سترپوشی کے لیے ان کے سامنے الماریاں دھری گئی ہیں یا پرانی کرسیاں اوپر نیچے رکھ دی گئی ہیں یا اینٹوں کو ترتیب سے اٹھا دیا گیا ہے۔

مجھے لٹی ہوئی خالی دکانوں کی سترپوشی سمجھ میں نہیں آئی۔لیکن ایک منٹ ۔۔۔۔ شاید میں غلط ہوں ۔یہ لٹی ہوئی دوکان کی سترپوشی نہیں ۔اندر کی بے بسی ، عدم تحفظ ، خالی پن اور دوسرے کی شرمناکی کو ڈھانپنے کی اپنی سی کوشش ہے۔

اس مارکیٹ کی ویرانی چیرتا ہوا میں اس چوڑی گلی میں پہنچا جہاں غوث پور کے سر پرست ولی سخی شاہ غوث حسین محوِ خواب ہیں۔ انکے پرانے اور سادہ سے مقبرے کے پہلو میں ایک جدید شاندار مسجد اور مدرسہ تقریباً مکمل ہے۔

مسجد کی دھلیز پر ایک خانہ ساز مورخ نے بتایا کہ شاہ غوث حسین بکریاں چراتے تھے۔وہ جتنا پیار انسانوں سے کرتے تھے اتنا ہی اپنی بکریوں سے بھی کرتے تھے۔اوگائی قوم کے مولویوں کو شاہ غوث سے حسد ہوگیا اور انہوں نے ایک دن اسے گاؤں سے باہر قتل کردیا۔ تب سے یہ قصبہ سکون میں نہیں ۔لیکن شاہ غوث آج بھی اپنے بے ایمانوں سے پیار کرتا ہے۔

جب پانی آیا تو شاہ غوث کے اس مزار کے گنبد میں سے پہلے ایک سنہری روشنی نکلی اور پھر اسی روشنی سے بنے دو ہاتھ نظر آئے جو ایسے نمونے سےجھٹک رہے تھے جیسے پانی کو دور ہوجا دور ہوجا کہہ رہے ہوں۔ میں نے ان صاحب سے پوچھا کہ آپ نے یہ منظر خود دیکھا تھا۔ کہنے لگے میں نے تو نہیں مگر بہت سے اور لوگوں نے دیکھا تھا آپ کہیں تو میں ملوا دوں ان سے۔ میں ان لوگوں سے بھی ضرور ملتا اگر محمد اسحاق یہ نہ یاد دلاتے کہ بوٹنگ پوائنٹ پر بہت سے مسافر اس کشتی کے انتظار میں ہیں۔

شاہ غوث حسین کے مزار سے باہر کی گلی میں ایک چائے خانہ اور کریانے کی دکان کھلی ہوئی ہے۔گلی کے عین بیچ میں لگے درخت کے نیچے مقامی بلو باربر ایک صاحب کی شیو کر رہا ہے اور پولیس کے تین مسلح سپاہی بنچ پر بیٹھے بیٹھے بلو باربر کی فنکاریاں چیک کر رہے ہیں۔

واپسی کے سفر میں دور سے میر سندر خان سندرانی کا پانی میں ڈوبا ہوا گاؤں دڑی بھی نظر آیا۔مرحوم سندر خان سندرانی سے میری ملاقات سن دو ہزار میں اسی ڈوبے ہوئے گاؤں میں ہوئی تھی۔ایک بڑی سی مسہری پر بیٹھا بھاری بھرکم سندر خان سندرانی سردیوں میں ریچھ اور سور سے کتے کی لڑائی دیکھنے کا رسیا ۔کہتے ہیں دور دور سے بڑا بڑا ریچھ اور بڑا بڑا سور آتا تھا۔اور اسکے لیے بڑی سی حویلی سے متصل ایک چھوٹا سا سٹیڈیم نما میدان بھی مختص کیا گیا تھا۔

اس علاقے کے ڈاکو جن لوگوں کو اغوا کرتے تھے انہیں آزاد کرانے کے لیے حکومت میر سندر خان کا اثرو رسوخ کام میں لاتی تھی۔ اس ملاقات میں سندر خان کے کچھ فقرے اسوقت بھی مجھے یاد آرہے ہیں جب سپیڈ بوٹ ان کے گوٹھ کو بہت دور سے تاکتی گذر رہی ہے۔

’مجھے لوگ کہتے ہیں کہ میں یہاں کا پتھارے دار ہوں۔اگر اس میں کوئی سچائی ہوتی تو پچھلے ہفتے ہی سندر خان کو اپنا ایک عزیز لاکھ روپیہ دے کر کیوں چھڑوانا پڑتا بھلا؟ ابھی لوگ سلیم جان مزاری کے پاس جاتے ہیں۔

پہلے کے ڈاکوؤں کی آنکھ میں کچھ شرم تھی۔ابھی تو وہ کہتے ہیں کہ ڈاکہ نقصان کا کاروبار ہے۔جان کا خطرہ الگ بدنامی الگ۔اس سے تو اچھا ہے مانہو سیاستداں ہی بن جائے۔چار پیسے تو بچیں گے۔۔یہ کہہ کر میر سندر خان زور سے ہنسے ۔۔۔ابھی تم مٹھائی کھاؤ نا ! اتنی دور سے اس موٹے تھلے کو ملنے جو آیا ہے۔۔۔‘

بوٹنگ پوائنٹ پر غوث پور سے واپسی کا سفر مکمل ہوا۔ محمد اسحاق نے مجھے اپنی گاڑی میں کندھ کوٹ چھوڑا۔ اب میں سیدھا جیکب آباد کی تحصیل ٹھل جا رہا ہوں۔جس پمپ سے ڈیزل لیا ہے۔ اس کا مالک بڑا زندہ دل ہے۔ میں نے اسے بتایا کہ غوث پور گیا تھا۔ پوچھنے لگا سندرانیوں کی دڑی دیکھی؟

ہاں دور سے دیکھی ڈوبی ہوئی۔

یہ سندرانیوں کی آٹھویں دڑی ہے جو ڈوبی ہے۔کیونکہ انکے بزرگوں نے اندھڑ قوم کے ایک فقیر کو سونے سے بنا کشکول چھیننے کے لیے قتل کردیا تھا۔ فقیر مرتے مرتے کہہ گیا۔

’جہاں میر ہوگا وہ سیر ہوگا‘

یعنی جہاں جہاں سردار جائے گا دریا کا دھارا بھی پیچھے پیچھے آئے گا۔

اسی بارے میں