’امدادی اپیل کا چونسٹھ فیصد ہی ملا ہے‘

اقوامِ متحدہ کا کہنا ہے کہ پاکستان میں سیلاب متاثرین کی تعداد دو کروڑ دس لاکھ تک پہنچ گئی ہے لیکن ان کے لیے بین الاقوامی امداد تاحال سست روی کا شکار ہے۔

ادارے کا یہ بھی کہنا ہے کہ سیلاب کی تازہ صورتحال کی وجہ سے سترہ ستمبر کو از سرِ نو امداد کی اپیل کی جائے گی۔

سیلاب ڈائری:خصوصی ضمیمہ

بھوک کا خوف اور بےیقینی

انسانی امداد کے امور کے لیے اقوامِ متحدہ کے ادارے ’اوچا‘ کی جانب سے جاری کردہ تازہ اعدادوشمار کے مطابق پاکستان میں سیلاب سے متاثرہ لوگوں کی تعداد دو کروڑ دس لاکھ ہونے کو ہے اور صوبہ سندھ کے زیریں علاقوں میں سیلابی ریلے کی موجودگی کی وجہ سے اس میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔

Image caption میہڑ سے لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کا سلسلہ جاری ہے

ادارے کا کہنا ہے کہ سیلاب سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد ایک ہزار سات سو باون تک پہنچ گئی ہے جبکہ اٹھارہ لاکھ سے زائد گھر یا تو سیلاب میں بہہ چکے ہیں یا انہیں شدید نقصان پہنچا ہے۔

’اوچا‘ کا کہنا ہے کہ اقوامِ متحدہ نے متاثرین کے لیے چار سو انسٹھ ملین ڈالر کی جو ابتدائی اپیل جاری کی تھی، اس مد میں اب تک صرف چونسٹھ فیصد رقم ہی حاصل ہو چکی ہے اور اب سیلاب سے ہونے والے مزید نقصان کے پیشِ نظر سترہ ستمبر کو ایک نئی امدادی اپیل بھی جاری کی جائے گی۔

ادھر سندھ کے ضلع دادو میں حکام دادو شہر اور میہڑ کو سیلابی پانی سے بچانے کی کوششوں میں مصروف ہیں اور علاقے سے بڑی تعداد میں لوگ محفوظ مقامات پر منتقل ہو رہے ہیں۔

وزیراعلیٰ سندھ کے مشیرِ اطلاعات جمیل سومرو نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس وقت ضلع دادو میں صورتحال بہت خراب ہے اور ضلع کی چار تحصیلوں میں سے دو خیرپور ناتھن شاہ اور جوہی زیرآب آ چکی ہیں۔

انھوں نے کہا کہ اس وقت دادو شہر اور میہڑ کو سیلاب سے بچانے کی کوشش کی جا رہی ہے اور حوالے سے ان شہروں کے گرد حفاظتی پشتوں کو مضبوط کیا جا رہا ہے۔

جمیل سومرو نے کہا کہ اس وقت سیلاب سے متاثرہ دو تحصیلوں سے لوگ کا انخلاء ہو رہا ہے اور اب میہڑ تحصیل سے بھی لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کا سلسلہ شروع کیا گیا ہے۔ جبکہ دادو شہر میں لوگ کو الرٹ کیا گیا ہے لیکن وہاں سے ابھی انخلا شروع نہیں کیا گیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ لوگوں کی ایک بڑی تعداد میں نقل مکانی کر رہی ہے لیکن محفوظ مقامات پر واقع سکولوں اور سرکاری عمارتوں میں بڑی تعداد میں لوگوں کو ٹھہرانے کی گنجائش نہیں ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس وقت انہیں خیموں کی شدید کمی کا سامنا ہے۔

ضلع دادو سے بڑی تعداد میں سیلاب متاثرین ضلع جامشورو کی جانب بھی نقل مکانی کر رہے ہیں جہاں انھیں کھانے پینے کی اشیا اور عارضی رہائش گاہوں کی کمی کا سامنا ہے۔ جامشورو کے ضلعی رابطہ افسر سمیع الدین صدیقی کا کہنا ہے کہ ضلع دادو کی تحصیل جوہی اور خیرپور ناتھن شاہ میں سیلاب کی وجہ سے وہاں سے بڑی تعداد میں نقل مکانی کر کے ضلع جامشورو میں آنا شروع ہوئے ہیں۔

متاثرین کو خوراک کی عدم دستیابی کی اطلاعات پر انھوں نے کہا کہ ضلع دادو میں دریا کی پٹی ایک سو ستر کلومیٹر طویل ہے اور وہاں سے لوگ نقل مکانی کر کے جب ضلع جامشورو کے مختلف علاقوں میں آتے ہیں تو جب تک ان کی رجسٹریشن یا شناخت نہیں ہوتی اس وقت تک انھیں امداد کے حصول میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

اسی بارے میں