دہشت گردی کی نئی لہر

پاکستانی طالبان
Image caption شدت پسند تنظیموں کو موجودہ سیلاب نے موقع فراہم کیا ہے کہ وہ دوبارہ اکھٹی ہو جائیں۔

پاکستان میں ایک بار پھر شدت پسندی کے واقعات میں اضافے کے بعد ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسی صورت حال میں جب حکومت اور فوج سیلاب سے متاثرہ افراد کی دیکھ بھال میں لگی ہوئی ہے شدت پسند تنظیموں کے اراکین دوبارہ اکھٹے ہو رہے ہیں۔

یہ شدت پسند ایک سال پہلے جنوبی وزیرستان اور دیگر علاقوں میں جاری آپریشن کے بعد روپوش ہوگئے تھے۔

دفاعی امور اور شدت پسندی کے واقعات پر نظر رکھنے والے پروفیسر حسن عسکری کا کہنا ہے کہ یہ ایک پاور گیم ہے اور شدت پسند اس طرح کے خودکش حملے اور بم دھماکے کرنے کے بعد کچھ علاقوں میں اپنا اثرو رسوخ بڑھانا چاہتے ہیں۔

بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگرچہ پاکستانی افواج نے جنوبی وزیرستان اور دیگر علاقوں سے فوج کو نہیں نکالا اور سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں امدادی کاموں میں دیگر علاقوں سے فوج طلب کی گئی ہے لیکن اس کے باوجود بھی شدت پسندی کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے۔

پروفیسر حسن عسکری کا کہنا تھا کہ ہمارے معاشرے میں ایسے افراد موجود ہیں جو کھلے عام ان شدت پسند تنظیموں کی حمایت کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اور فوج کو شدت پسند تنظیموں کے خاتمے کے لیے اپنے عزم میں لچک کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہیے۔

پروفیسر حسن عسکری کا کہنا تھا کہ شدت پسندوں کو اس بات سے کوئی سروکار نہیں کہ رمضان کا مہینہ ہے یا کوئی اور اُنہیں اپنے ایجنڈے سے مطلب ہے جس کی تکمیل کے لیے وہ خودکش حملے اور بم دھماکوں بھی کرواتے ہیں۔

آریانہ انسٹیٹیوٹ سے وابسطہ پروفیسر خادم حسین کا کہنا ہے کہ شدت پسند تنظیمیں جن کا نیٹ ورک پہلے سے ہی موجود ہے جو گُزشتہ ایک سال سے فیلڈ میں نہیں تھیں اُنہیں موجودہ سیلاب نے موقع فراہم کیا ہے کہ وہ دوبارہ اکھٹے ہو جائیں۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں حکومت اور فوج کی زیادہ توجہ سیلاب سے متاثرہ افراد کی مدد کرنے پر مرکوز ہے۔ ایسے حالات میں بڑی تعداد میں بلخصوص نوجوان مل جاتے ہیں جو لاپتہ ہوئے ہوتے ہیں اُن کو بھرتی کرنے میں شدت پسند تنظیموں کو آسانی ہوتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان شدت پسند تنظیموں کے خلاف مربوط حکمت عملی اپنانے کی ضرورت ہے۔

خادم حسین کا کہنا ہے کہ شدت پسندی کے واقعات میں اضافے میں صرف جمہوری حکومت کو مورود الزام ٹھرانا مناسب نہیں ہے اس میں ان اداروں کے متعلق بھی بات ہونی چاہیے جو شدت پسندی کے خلاف کارروائیوں میں مصروف ہیں۔

انہوں نے کہا کہ شدت پسندی کے خلاف جنگ میں ربط کا فقدان نظر آرہا ہے اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ حکومت اور فوج علیحدہ علیحدہ شدت پسندی کے خلاف جنگ میں مصروف ہیں۔

خادم حسین کا کہنا کہ سیکورٹی اداروں کو اس بات کو ذہن میں رکھنا چاہیے کہ شدت پسندی کے خلاف جنگ میں بیرونی ممالک سے جو کچھ بھی ملتا ہے وہ جمہوری حکومت کی وجہ سے ہی ملتا ہے۔

سندھ پولیس کے سابق سربراہ افضل شگری کا کہنا ہے کہ ان شدت پسند تنظیموں کا ایک ہی ایجنڈا ہے کہ ملک کو عدم استحکام کی طرف لے جایا جائے اور شدت پسندی کے واقعات کروا کر حکومت کو اس راستے کی طرف لے جایا جائے جو اُن کے نزدیک بہتر ہے۔

بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جہاں جہاں مزاحمتی تحریک جاری ہے وہاں پر فوج ان افراد کے ساتھ نبرد آزما ہے لیکن شہروں میں جو واقعات ہو رہے ہیں اُن کو روکنے کے لیے پولیس کی کارکردگی کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔

سندھ پولیس کے سابق سربراہ کا کہنا تھا کہ شدت پسندوں کا نیٹ ورک توڑنے کے لیے انٹیلیجنس اداروں میں تعاون انتہائی ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ پاکستان کے ہمسایہ ملکوں میں حالات کیسے ہیں اور وہاں سے ان شدت پسندوں کو کیسی امداد مل رہی ہے۔

افضل شگری کا کہنا تھا کہ پولیس کو اس حوالے سے زیادہ متنظم کرنے کی ضرورت ہے۔

’جب تک یہ نہ ہوا اچھے نتائج نہیں مل سکتے۔ ہوسکتا ہے کہ موجودہ حالات میں کچھ کامیابیاں مل بھی جائیں لیکن یہ کامیابیاں دیرپا نہیں ہوں گی‘۔

اسی بارے میں