بلوچستان: قتل کے خلاف عدالتوں کا بائیکاٹ

فائل فوٹو، وکلاء کا احتجاج ُ
Image caption صوبائی حکومت عوام کی جان اور مال کی تحفظ میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے: وکلا

صوبہ بلوچستان کی مختلف وکلاء تنظیموں نے زمان مری ایڈوکیٹ کے قتل کے خلاف دو دن کے لیے صوبے بھر میں تمام عدالتوں کا بائیکاٹ شروع کردیا ہے۔

بدھ کو بلوچستان ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر ہادی شکیل ایڈووکیٹ نے کوئٹہ میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ’ پاکستا ن کے خفیہ ادارے بلوچستان میں بے گناہ وکلاء کو اغواء کرکے ان کی لاشیں پھینکنے میں ملوث ہیں جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔‘

اس موقع پر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر امان اللہ کنرانی، بلوچستان بار ایسوسی ایشن کے صدر بازمحمد کاکڑ، بلوچستان بار کونسل کے نائب چیئرمین محسن جاوید، بلوچ بار ایسوسی ایشن کے صدر شہک بلوچ بھی موجود تھے۔

نامہ نگار ایوب ترین کا کہنا ہے کہ ہادی شکیل ایڈوکیٹ نے بلوچستان کے دورے پر کوئٹہ میں موجود وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک سے مطالبہ کیا ہے کہ ’فرنٹیئرکور کو فی الفور کوئٹہ شہر سے واپس بلا کر امن و امان برقرار رکھنے کے لیے بلوچستان کانسٹیبلری کو تعینات کیا جائے۔ بقول ان کے آئی جی ایف سی کی موجودگی میں بلوچستان میں حالات روز بروز خراب ہوتے جا رہے ہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ’منیر احمد ایڈوکیٹ کو تین ماہ قبل ریاستی فورسز نےاغواء کیا تھا لیکن ابھی تک انہیں منظر عام پر نہیں لایا گیا ہے۔‘

انھوں نے کہاکہ وکلاء کو خدشہ ہے کہ جس طر ح زمان مری ایڈووکیٹ کو اغواء کرنے کے بعد قتل کیا گیا اسی طرح منیر احمد ایڈووکیٹ کے ساتھ بھی نہ ہو جائے۔

بلوچستان کے وکلاء نے مطالبہ کیا ہے کہ بلوچستان ہائی کورٹ کی طرح سپریم کورٹ آف پاکستا ن کو بھی چاہیے کہ وہ بلوچستان میں دیگر لاپتہ افراد کی طرح زمان مری ایڈوکیٹ کے قتل اور منیر احمد ایڈووکیٹ کے اغواء کا نوٹس لیں اور زمان مری کےقتل میں سرکاری اداروں کے خلاف قتل کی ایف آئی درج کی جائے۔

وکلاء رہنماؤں نے اس کی ذمہ داری صوبائی حکومت پر عائد کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت عوام کی جان اور مال کی تحفظ میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے جس کے باعث صوبے میں بے گناہ افراد کی اغواء اور میں انہیں قتل کرنے کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔

اسی بارے میں