سیلاب: کشمور بندوں میں شگاف بند

Image caption ضلع دادو میں اسّی ہزار متاثرین کو امدادی کیمپوں میں رکھا گیا ہے

حکام کے مطابق دریائے سندھ میں کشمور ضلعے کے ٹوڑی اور غوث پور بندوں میں پڑنے والے شگاف ستر فیصد بند کردیے گئے ہیں اور گڈو، سکھر اور کوٹڑی بیراجوں پر پانی کی سطح میں نمایاں طور پر کمی واقع ہوئی ہے۔ لیکن دادو ضلعے میں سیلابی پانی کا دباؤ برقرار ہے۔

جیکب آباد میں سوا لاکھ سے زیادہ لوگ واپس آگئے ہیں لیکن ریل اور اہم شاہراہ کے ذریعے بلوچستان کا رابطہ کٹا ہوا ہے۔ تاہم بلوچستان سے جیکب آباد ضلعے کا لنک روڈ کا راستہ کھل گیا ہے۔

سیلاب ڈائری: ایشیا کا سب سے بڑا شگاف!

پانی کم ہو رہا ہے عذاب نہیں: ویڈیو

گڈو بیراج کے چیف انجینئر ظفر اللہ مہر نے بی بی سی کو بتایا کہ ٹوڑی بند میں پڑنے والے دو شگاف اور انڑ واہ سے بہنے والا پانی بند ہوگیا ہے جب کہ غوث پور بند میں پڑنے والا شگاف بھی کافی حد تک بند ہوگیا ہے اور امید ہے آئندہ چھتیس گھنٹوں میں وہ بھی مکمل طور پر بند کر دیا جائے گا۔

انہوں نے بتایا کہ اب بھی غوث پور کے شگاف میں سے پانچ ہزار کیوسکس کے قریب پانی بہہ رہا ہے لیکن سیلاب کی صورتحال ختم ہو چکی ہے۔ ان کے مطابق گڈو بیراج سے تین لاکھ کیوسکس سے بھی کم پانی بہہ رہا ہے۔

ظفر اللہ نے بتایا کہ اگر با اثر لوگ اپنے شہر اور دیہات بچانے کے لیے پانی کا راستہ نہ روکتے اور قدرتی طریقے سے پانی کو اپنی گذر گاہ سے جانے دیا جاتا تو اتنا نقصان نہ ہوتا جتنا کہ ہو چکا ہے۔

کشمور ضلعے کے انتظامی سربراہ یعنی ’ڈی سی او‘ سید عابد علی شاہ نے بی بی سی کو بتایا کہ دریا کا پانی اترنے کے بعد کچھ کے علاقے میں تیس فیصد یا تیس ہزار لوگ واپس جا چکے ہیں۔ لیکن ان کے بقول اب بھی ہزاروں افراد کیمپوں میں ہیں جہاں حکومت ان کی دیکھ بھال کر رہی ہے۔

جیکب آباد ضلعے کے انتظامی سربراہ یا ’ڈی سی او‘ کاظم جتوئی نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے ضلعے میں اب تک سوا لاکھ کے قریب لوگ واپس آئے ہیں۔

Image caption ضلع دادو میں ڈھائی سو دیہات زیرِ آب آ چکے ہیں

ان کے مطابق بلوچستان سے پٹ فیڈر، صحبت پور اور مانجھی پور سے جیکب آباد ک تحصیل ٹلھ کا راستہ ٹریکٹر اور ویگن کے لیے کھل گیا ہے لیکن کاریں اب بھی نہیں آ سکتیں۔ تاہم انہوں نے کہا کہ ریل اور اہم شاہراہ کے رابطے اب بھی کٹے ہوئے ہیں۔

ادھر دادو سے رکن قومی اسمبلی اور وزیر مملکت برائے خوراک و زراعت رفیق احمد جمالی نے بھی بی بی سی کو بتایا کہ شہریوں اور انتظامیہ نے دادو اور جوہی شہروں کے چاروں طرف ’رنگ بند‘ تعمیر کر لیے ہیں اور تاحال دونوں شہروں میں پانی داخل نہیں ہوا۔

لیکن انہوں نے کہا کہ دادو ضلعے کی تحصیل خیرپور ناتھن شاہ شہر سمیت ڈوبی ہے جب کہ ضلعے کی چاروں تحصیلوں کے متعدد دیہات زیر آب آچکے ہیں اور اب بھی پانی کا دباؤ برقرار ہے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ کشمور، شکارپور، شہداد کوٹ اور بلوچستان سے سیلابی پانی آنے اور حمل جھیل کے تمام دروازے کھولنے کی وجہ سے مہا نارا ویلی (ایم این وی) ڈرین میں گنجائش سے زیادہ پانی ہے اور یہی وجہ ہے کہ اس ڈرین کے پشتے کئی جگہوں سے ٹوٹ چکے ہیں۔

جب رفیق احمد جمالی سے پوچھا گیا کہ بعض مقامی لوگوں کا کہنا ہے انہوں نے جوہی اور دادو شہر کو بچانے کے لیے ’ایم این وی ڈرین‘ کے پشتے خود توڑے ہیں تو انہوں نے تردید کرتے ہوئے کہا کہ پشتے توڑنے کا فیصلہ وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ کی سربراہی میں آب پاشی کے ماہرین کی سفارش پر کیا گیا۔

اسی بارے میں