’بلوچستان میں اب ڈنڈا استعمال کریں گے‘

Image caption دہشت گردی کے مسئلے کے حل کے لیے عید کے بعد ملک بھر کے علماء کا ایک اجلاس بلایا جا ئے گا: رحمان ملک

پاکستان کے وزیرِ داخلہ رحمان ملک نے کہا ہے کہ بلوچستان میں کچھ لوگوں کو حکومت کی پیار کی بات سمجھ میں نہیں آئی ہے اب حالات کو بہتر کرنے کے لیے ڈنڈے کا استعمال کیا جائے گا۔

انھوں نے کہا کہ بلوچستان میں سیاسی جماعتوں کی جگہ مسلح تنظیموں (بی ایل ا ے) اور (بی ایس او) نے لے رکھی ہے جن کے خلاف کاروائی کی جائے گی۔ ’بہت ہوگیا، اب حکومت بلوچستان میں رٹ قائم کرکے دم لیے گی۔‘

وفاقی وزیرداخلہ رحمان ملک نے بلوچستان کے دو روزہ دورے پر کوئٹہ پہنچنے کے بعد ایئرپورٹ پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کراچی کے بعد وہ کوئٹہ اس وقت تک آتے جاتے رہیں گے جب تک بلوچستان میں دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ کے واقعات بند نہیں ہوں گے۔

کوئٹہ میں بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق انہوں نے کہاکہ بلوچستان میں سیاسی جماعتوں کی جگہ مسلح تنظیموں بی ایل اے اور بی ایس او نے لےلی ہے جن کے خلاف اس وقت تک کاروائی کی جائے گی جب تک یہاں دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ کے واقعات ختم نہیں ہوں گے۔ انہوں نے کہاکہ اس مقصد کے لیے وزیراعلیٰ بلوچستان سیمت تمام سیاسی جماعتوں اور قانوں نافذکرنے والے اداروں کو اعتماد میں لیا جائے گا۔

جمعہ کو کوئٹہ میں ہونے والے خودکش حملے کے بارے ایک سوال کے جواب میں وفاقی وزیر نے کہا کہ خود کش حملے میں لشکر جھنگوی، تحریک طالبان اور القاعدہ ملوث ہیں اور ان کے خلاف کام کرنا وقت کی اشد ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ مذہبی جماعتوں کے جلوسوں پر پابندی عائد کرنے کا کوئی ادارہ نہیں ہے لیکن حکومت نے خودکش حملے کی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔

’لیکن اس وقت ملک میں جو حالات ہیں اس میں دہشت گرد فائدہ اٹھاکر اس طرح کے جلوسوں پر حملے کرتے ہیں لہذا ہم نے مذہبی رہنماؤں سےگذارش کی ہے کہ جو جلوس ہے اس کو کم کردیں یا پھر کسی چاردیواری میں کریں۔‘

رحمان ملک نے کہا کہ اس مسئلے کے حل کے لیے عید کے بعد ملک بھر کے علماء کا ایک اجلاس بلایا جا ئے گا جس میں اس مسئلے کا مستقل حل نکالا جائے گا۔

اسی بارے میں