بلوچستان: ’دہشتگرد‘ تنظیموں پر پابندی

Image caption وفاقی وزیر داخلہ نے الزام عائد کیا کہ بلوچ ری بپلیکن پارٹی کے سربراہ براہمداغ بگٹی اس وقت کابل میں ہیں اور ’میں نے کئی بار افغانستان کے صدر حامد کرزئی، امریکی اور انڈین حکام سے سخت احتجاج بھی کیا ہے‘

پاکستان کے وزیر داخلہ رحمان ملک نے کہا ہےکہ حکومت نے بلوچستان میں دہشت گردی میں ملوث ایک سیاسی جماعت سمیت چار دیگر مسلح تنظیموں پر فوری طور پر پابندی عائد کردی ہے۔

وزیرِ داخلہ نے کہا کہ بلوچستان میں امن وامان برقرار رکھنے کے لیے تین ماہ تک فرنٹیئرکور کے اختیارات صوبائی حکومت کے حوالے کردیے گئے ہیں اور صوبائی حکومت کے ماتحت فرنٹیئر کور پولیس کی حثیت سے دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کرے گی۔

وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک نے کوئٹہ میں ایک پریس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت نے بلوچستان میں مسلح کارروائیوں میں ’ملوث‘ ایک بلوچ قوم پرست رہنماء براہمداغ بگٹی کی سیاسی جماعت بلوچ ری بپلیکن پارٹی سمیت چار دیگر مسلح تنظیموں بلوچ لیبریشن آرمی ( بی ایل اے ) بلوچ یونائیٹڈ فرنٹ ( بی ایل یو ایف ) بلوچ ری بپلیکن آرمی (بی آر اے ) اور بلوچ مسلح دفاع تنظیم پر فوری طور پر پابندی عائد کر دی ہے۔

انھوں نے کہا کہ ان تنظیموں کے عائد کرکے ان کے دفاتر سِیل کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے بینک اکاونٹس بھی مجمند کردیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ اگرکسی اور جماعت یا تنظیم پر پابندی عائد کرنے کی ضرورت ہوئی تو اس کے خلاف بھی کارروائی کی جائے گی۔

رحمان ملک نے کہا کہ جن تنظیموں پر پابندی عائد کی گئی ہے وہ پاکستان میں کام نہیں کرسکتیں۔ ’اس کے باوجود اگر ان تنظیموں کے کسی کارکن کو دہشت گردی کےکسی واقعہ میں ملوث پایا گیا تو انہیں تین ماہ سے ایک سال تک جیل میں رکھ سکتا ہے۔‘

کوئٹہ میں بی بی سی کے نامہ نگار ایوب ترین کے مطابق کہ وفاقی وزیر داخلہ نے الزام عائد کیا کہ بلوچ ری بپلیکن پارٹی کے سربراہ براہمداغ بگٹی اس وقت کابل میں ہیں اور ’میں نے کئی بار افغانستان کے صدر حامد کرزئی، امریکی اور انڈین حکام سے سخت احتجاج بھی کیا ہے اور انہیں بتایا ہے کہ افغانستان میں نہ صرف ان کے تربیتی کیمپس ہیں بلکہ وہاں سے دہشت گردی کے لیے پاکستان میں لوگ بھی آرہے ہیں۔ اس کے علاوہ سفارتی حوالے سے بھی کئی بار احتجاج کیا ہے اور احتجاج کا یہ سلسلہ اس وقت تک جاری رہے گا جب تک بلوچستان میں حالات ٹھیک نہیں ہوں گے۔‘

بلوچستان میں امن وامان کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں رحمان ملک نے کہا کہ تین ماہ تک فرنٹیئرکور صوبائی حکومت کے ماتحت رہتے ہوئے کام کر ے گی اور جہاں ضرورت ہوگی صوبائی حکومت فرنٹیئر کور کی خدمات بطور پولیس، دہشت گردوں کے خلاف استعمال کرسکے گی۔

’جس جس جگہ پر صوبائی حکومت کو فرنٹیئرکور کی ضرورت ہوگی وہاں ایف سی ملک دشمن عناصر کے خلاف اس وقت کارروائی کرے گی جب انہیں مکمل یقین ہو کہ فلاں شخص فلاں جرم میں ملوث ہے۔ لیکن یہ وزیرستان کی طرح بلوچستان میں کوئی آپریشن نہیں ہوگا اور نہ ہی بلوچستان میں فاٹا کی طرح صورتحال ہے۔ تاہم یہاں اس وقت تک فورسز کی کارروائی جاری رہے گی جب تک بلوچستان میں ٹارگٹ کلنگ کے واقعات اور خودکش بم حملے بند نہیں ہوں گے۔‘

خیال رہے کہ وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک نے منگل کو کوئٹہ میں کہا تھا کہ اب وہ بلوچستان میں حالات درست کرنے کے لیے ڈنڈا چلایا جائے گا جس کی مخالفت کرتے ہوئے بلوچستان کے وزیر داخلہ میر ظفر زہری نے کہا تھا کہ صوبائی حکومت کسی کو بلوچستان میں کسی بلوچ کے خلاف آپریشن کی اجازت نہیں دے گی۔

ان کا کہنا تھا ’کیونکہ ہم بلوچوں کی نمائندے ہیں اور ہم سے زیادہ قوم پرست کوئی نہیں ہے لہذار ایسا کچھ ہونے نہیں دیاجائے گا جس سے بلوچستان میں ایک بار پھر خون خرابہ ہو۔ اگر کسی نے کوئی کاروائی کرنی بھی ہوگی تو ہمیں اعتماد میں لیکر کرے گا کیونکہ کل ہم اس کے ذمہ دار بھی ہوں گے۔‘

اسی بارے میں