ستمبر: پہلے سات روز میں 136 ہلاکتیں

Image caption ستمبر میں شدت پسندی کا پہلا واقعہ لاہور میں پیش آیا

پاکستان میں سیلاب کے دوران شدت پسندی کے واقعات میں کمی دیکھنے میں آئی تھی لیکن اب ایک بار پھر ان میں تیزی آئی ہے اور ستمبر کے پہلے سات روز میں پانچ مختلف واقعات میں ایک سو چھتیس افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

یکم ستمبر کو صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں حضرت علی کی شہادت کی یاد میں نکلنے والے جلوس میں دو خودکش حملوں میں پینتیس افراد ہلاک اور دو سو کے قریب زخمی ہو گئے۔

اس واقعے کی ذمہ داری تحریک طالبان نے قبول کی تھی۔

اس واقعے کے دو روز بعد تین سمتبر کو بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں جمعہ کو القدس ریلی میں ہونے والے خودکش حملے میں چونسٹھ ہلاک ہو گئے۔کالعدم جماعت لشکر جھنگوی نے خود کش حملے کی ذمہ داری قبول کرلی ہے

Image caption کوئٹہ میں خودکش حملے کے بعد کے مناظر

تین سمتبر کو کوئٹہ میں خودکش حملے سے چند گھنٹے پہلے صوبہ خیبر پختون خواہ کے شہر مردان میں ایک مبینہ خودکش حملہ آور نے احمدیوں کی عبادت گاہ پر حملے کی کوشش کی جس میں حملہ آور سمیت دو افراد ہلاک ہوگئے۔

تین دن بعد چھ سمتبر کو خیبر پختونخواہ کے علاقے لکی مروت میں ایک خود کش حملے میں سترہ افراد ہلاک اور چونتیس زخمی ہوئے۔

یہ حملہ سوموار کو علی الصبح اس وقت ہوا جب خود کش حملہ آور نے بارود سے بھری گاڑی لکی مروت میں واقع پولیس سٹیشن کی عمارت سے ٹکرانے کی کوشش کی۔ ہلاک والوں میں پولیس اہلکاروں کے علاوہ عام شہری بھی شامل تھے۔

کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان احسان اللہ احسان نے بی بی سی سے ٹیلی فون پر بات کرتے ہوئے اس واقعے کی ذمہ داری قبول کر لی۔

Image caption کوہاٹ میں کار بم دھماکہ اس وقت ہوا جب پولیس کے رہائشی کواٹرز میں لوگ افطاری کر رہے تھے

اس حملے سے اگلے روز سات ستمبر کی شام کو صوبہ خیبر پختونخوا کے شہر کوہاٹ میں پولیس لائنز کے قریب پولیس کے فیملی کواٹرز کے مرکزی دروازے پر ایک کار بم دھماکے میں آٹھ بچوں اور پانچ خواتین سمیت اٹھارہ افراد ہلاک اور اٹھہتر زخمی ہو گئے۔

اس حملے کے ذمہ داری بھی کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان نے قبول کی ہے۔

رواں ماہ ستمبر کے پہلے سات روز میں پاکستان کے تین صوبوں میں شدت پسندی کے پانچ واقعات میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد ایک سو چھتیس ہو گئی ہے اور تین سو سے زائدزخمی ہوئے ہیں۔

اسی بارے میں