سائیں ایسے نہ کریں

بی بی سی اردو کے وسعت اللہ خان پاکستان میں آنے والے سیلاب سے متاثرہ علاقہ جات کے دورے کا احوال ایک ڈائری کی صورت میں بیان کر رہے ہیں۔ پیش ہے اس سلسلے کی پچیسویں کڑی جو انہوں نے شکار پور سے بھیجی ہے۔

جمعرات دو ستمبر ( شکار پور)

جو بھی جیکب آباد کی تحصیل ٹھل میں رہتا ہے اس کے لئے قریب ترین کاروباری مرکز اور ایئرپورٹ سکھر ہے۔آپ نارمل حالات میں ٹھل سٹی سے پورا جیکب آباد اور شکار پور ضلع عبور کرتے ہوئے بذریعہ کار و جیپ ڈیڑھ گھنٹے میں سکھر پہنچ سکتے ہیں۔لیکن یہ نارمل حالات نہیں ہیں۔

سیلاب کی ڈائری: خصوصی ضمیمہ

ٹھل کو جیکب آباد سے ملانے والی کوئٹہ سکھر ہائی وے کا سیلاب نے ہر چند کلومیٹر کے وقفے سے بلاد کار کیا ہے۔لہذا آپ ٹھل سے جیکب آباد ، شکار پور یا سکھر نہیں جاسکتے۔متبادل راستہ یہ ہے کہ آپ ٹھل سے کندھ کوٹ پہنچیں اور وہاں سے انڈس ہائی وے لے کر شکار پور پہنچ جائیں۔مگر اسکا کیا کیجیے کہ کندھ کوٹ سے ذرا آگے شکار پور کی جانب رواں انڈس ہائی وے کا بیس کلومیٹر کا ٹکڑا بھی گذشتہ بائیس روز سے بفیضِ شگاف ِ توڑی بند پانچ تا سات فٹ پانی میں ڈوبا ہوا ہے۔کوئی صورت نظر نہیں آتی ، کوئی امید بر نہیں آتی۔

اب ایک دو ہی راستے ہیں۔شمال سے جنوب یا مشرق سے مغرب میں سفر کرکے شکار پور پچپن منٹ میں پہنچنے کی حسرت پر یا تو آنسو بہا کے سوجا یا پھر الٹا سفر کر۔ٹھل سے کندھ کوٹ ، کندھ کوٹ سے مشرق کی سمت کشمور سٹی، کشمور سٹی سے جنوب کی سمت گڈو بیراج ، گڈو بیراج سے پھر مغرب کی سمت نیشنل ہائی وے، اور نیشنل ہائی وے کے زریعے گھوٹکی، پنوں عاقل، روہڑی سکھر بائی پاس کو نظرانداز کرکے ضلع خیرپور کی حدود میں داخل ہو اور شمال کی جانب سکھر ایئرپورٹ جانے والی سڑک پر مڑ کر لائیڈز بیراج پار کرتے ہوئے پھر مغرب کی جانب شکار پور کا رخ کرلے اور لکھی پار کرتے ہوئے شکار پور میں داخل ہوجا۔کیسا آسان اور سیدھا راستہ بتایا۔اور مذاق کر دریا کے ساتھ ۔۔۔۔

یوں میں پچپن منٹ کا سفر ساڑھے سات گھنٹے میں طے کرکے غروبِ آفتاب سےذرا پہلے شکار پور شہر کی حدود میں داخل ہوا۔بائیں جانب دیکھتے ہی طبعیت شاد ہوگئی۔ایک قلعہ نما اونچی طویل دیوار کے صدر دروازے کے باہر لوہے کے پھاٹک کی مہراب پر لکھا تھا۔

ویلکم ٹو ڈسٹرکٹ جیل شکار پور۔

مگر جیل کے اندر صرف تنہائی ہی قید تھی۔قیدی اگست کے دوسرے ہفتے میں ہی یہاں سے سکھر جیل منتقل کردیے گئے تھے۔میں سوچنے لگا کہ اگر ریاست اپنے شہریوں کو قیدی کا درجہ ہی دے دیتی تو آج لاکھوں لوگ سڑکوں اور حفاظتی پشتوں پر یوں آزادانہ پڑے نہ ہوتے۔

شکار پور کا حال اس قدر بے حال ہے کہ وہاں کے ہر باسی نے فرار کے لیے ایک مکان سرزمینِ ماضی میں بھی بنا رکھا ہے۔’شکار پور پہلے ایسا نہیں تھا‘۔یہ جملہ معذرت خواہانہ انداز میں جس قدر شکار پور میں بولا جاتا ہے شاید ہی کہیں اور بولا جاتا ہو۔

یہ شہر کلہوڑوں کے سر کا تاج تھا۔ستہرویں صدی کا شکار پور سات دروازوں کے اندر تھا۔لکھی در، ہزاری در، ہاتھی در، خانپوری در ، کارانی در، وگانو در ، سیوی در۔ ہیں۔ فصیل کے باہر ایک گول گول نہر تھی جسے انگریزوں نے پاٹ دیا اور پھر اس پر سرکلر روڈ بن گئی۔

شکار پور کے تاجر وسطِ ایشیا سے ملاکا اور کلکتے سے استنبول تک یوں مشہور تھے جیسے زمانہ قدیم کے فونیقی تاجر، جنیوآ کے اطالوی ، ایمسٹرڈیم کے ڈچ اور ایسٹ لندن کے کوکنی تاجر، یمن و شام کے عرب تاجر اور صحارا پار کرنے والے ٹمبکٹو کے تاجر۔شکارپور کی ہندو ’بھائی بند کمیونٹی‘ کے تاجر ہنڈی کے ذریعے کاروبار کرتے تھے۔ساکھ کا یہ عالم تھا کہ ہاتھ سے لکھی پرچی پر ہزاروں میل دور سمرقند ، بخارا اور استنبول میں مال اور پیسہ مل جاتا تھا۔

یہ تاجر سال دو سال کے تجارتی سفر کے بعد جب وطن لوٹتے تھے تو خوب پیسہ لٹاتے تھے۔یہاں سمرقند ، بخارا اور استنبول کی دیکھا دیکھی لکڑی کی چھتوں سے کور کیا گیا ایک کلومیٹر طویل بازار تھا۔افغانستان و ایران سے آنے والے خشک میوہ جات کے تاجر قافلہ قلعہ میں قیام کرتے تھے۔ عالی شان حویلیاں تھیں۔یہ حویلیاں سوئمنگ پول کے بغیر نامکمل سمجھی جاتی تھیں۔جن گھروں میں سوئمنگ پول نہیں تھے وہاں بڑے بڑے کنوئیں تھے۔ان کنوؤں میں سیڑھیاں اترتی تھیں اور وسط میں ایک منڈیر ہوا کرتی تھی جس پر کرسیاں یا صوفے دھرے ہوتے تھے۔تاکہ سخت گرمیوں کے موسم میں راحت کا سانس آسکے۔

ان تاجروں کی جمالیاتی ضروریات پوری کرنے کے لیے شکار پور میں عطر کی صنعت وجود میں لائی گئی۔شام کو جب متمولانِ شکارپور دو گھوڑوں سے جتی منقش بگھیوں میں بیٹھ کر لکھی در سے نکلتے تھے تو اردگرد کی فضا خوشبو سے مہک جاتی تھی۔شہر کے اندر اور اردگرد دو سو کے لگ بھگ چھوٹے بڑے باغات تھے۔ شہر میں نکاسی کا اس زمانے کے لحاظ سے جدید ترین نظام تھا۔سڑکوں کی رات ڈھلنے کے بعد باقاعدہ دھلائی ہوتی تھی۔گھوڑا گاڑیاں عام سواری کے لیے استعمال ہوتی تھیں۔جس گھوڑا گاڑی کا مالک اپنے جانور کے پیچھے کپڑے کی تھیلی باندھنا بھول جاتا ۔سڑک پر گندگی پھیلانے کے جرم میں اس پر جرمانہ عائد ہوتا تھا۔شہر کو بجلی سپلائی کرنے کے لیے دیوان شام لال کا پاور ہاؤس تھا۔یہ پاور ہاؤس سن ساٹھ کے عشرے تک کارآمد رہا۔

مگر یہ عجیب و غریب لوگ محض اپنی ذات پر ہی پیسہ نہیں لٹاتے تھے۔چالیس فیصد ہندؤں اور ساٹھ فیصد مسلمانوں پر مشتمل پچاس ہزار کے لگ بھگ آبادی اس زمانے کے مخیر حضرات کے قائم کردہ اعلی تعلیمی و طبی اداروں سے فائدہ اٹھانے کی اہل تھی۔

رائے بہادر اودھے داس تارہ چند ہسپتال میں مفت علاج ہوتا تھا۔رائے بہادر نے انسانیت سےمحبت اور عاجزی ظاہر کرنے کے لئے اسپتال کی سیڑھیوں پر اپنا نام کچھ اس طرح سے لکھوایا کہ اس پر قدم رکھے بغیر کوئی بھی عمارت کے اندر داخل نہیں ہوسکتا تھا۔ہیرا نند گنگا بائی لیڈیز ہسپتال عورتوں کے جملہ مسائل کے لئے بلاقیمت میسر تھا۔ سندھ میں لڑکیوں کا پہلا ایشوریا بائی گرلز سکول ، قاضی ملاح نادر وارا بوائز سکول اور پہلا کالج چیلا سنگھ سیتل داس کے نام سے شکار پور میں ہی قائم ہوا۔

سن انیس سو تیس میں شکارپور میں ستر گریجویٹ تھے۔ باقی سندھ میں سات گریجویٹ تھے۔سندھ اسمبلی کے پہلے سپیکر آغا بدر الدین اور پہلے وزیرِ اعلی اللہ بخش سومرو کو اسی مٹی نے جنم دیا۔سندھی شاعری کے چار ستونوں شاہ لطیف، سچل سرمست ، سامی اور شیخ ایاز میں سے آخری دو ستون شکار پور نے فراہم کیے۔

بیسویں صدی کے چوتھے عشرے تک بیگاری کنال پر ہولی کے موقع پر سات دن کی ناٹک سبھا جمتی تھی۔ومن راؤ۔ پٹ وردھن، پنڈت ویاس، مبارک علی خان۔ بڑے غلام علی خان، عنائیت بائی، مختار بیگم جیسے دنیائے موسیقی کے دیوتا اور دیویاں مدعو ہوتی تھیں ۔بمبئی ، لاہور اور کلکتے سے کاملِ فن رقاصائیں آتی تھیں۔ان پر خالص سونے کے سکے نچھاور کیے جاتے تھے۔ان محفلوں میں جو بھی شاہ ایڈورڈ کے چھاپے والے چاندی کے سکوں کا نذرانہ پیش کرتا تھا اسے اہلِ محفل عجیب سی نظروں سے دیکھتے تھے۔

عام آدمی کو بھی کھانے کو میسر تھا۔مانو آج کسی سے پوچھیں کہ کیا حال ہے تو جواب ملتا ہے بس دال روٹی چل رہی ہے۔لیکن جب پرانے شکار پور میں کوئی پوچھتا کہ کیا حال ہے تو جواب ملتا بس مچھلی روٹی مل رہی ہے۔

آج دو ہزار دس کا شکار پور کچھ یوں ہے کہ سات دروازوں میں سے ایک بھی سلامت نہیں۔انکے نام کے صرف محلے باقی ہیں۔شاندار حویلیوں کے منقش چوبی دروازے شکار پور سے کراچی کے کلفٹن، لاہور کے ڈیفنس اور اسلام آباد کے ایف اور ای سیکٹرز کے گھروں میں نصب ہونے کے لئے لاکھ سے ڈیڑھ لاکھ روپے میں فروخت ہوتے ہیں۔حویلیاں تقسیم در تقسیم کے عمل سے گذر کر کابکوں کی شکل میں ٹیڑھی میڑھی گلیوں میں کھلی ہوئی گندی نالیوں کے اطراف گم ہوچکی ہیں۔

جو سڑکیں ہر رات دھلتی تھیں انہیں گٹر کا جمع شدہ پانی کب کا کھا چکا۔باقی لالچی ٹھیکیداروں کے معدے میں چلی گئیں۔قافلہ قلعہ کسی محلے میں گم ہوچکا۔ دیوان شام لال کے بجلی گھر کو زنگ اور چوروں نے کھا لیا۔اب صرف پنجر باقی ہے۔باغات زرعی زمینوں اور قبضے کے منصوبوں میں گم ہوگئے۔

بیگاری کینال پر اب بھی ناٹک سبھا ہوتی ہے۔لیکن اب اسکے آرپار دونوں طرف ہوتی ہے اور سات دن کے بجائے سارا سال جمتی ہے۔ مبارک علی خان ، بڑے غلام علی خان اور عنائیت بائی کی آوازوں کی جگہ کلاشنکوف، مورٹارز اور راکٹ لانچرز اپنے فن کا مظاہرہ کرتے ہیں۔تاجروں کی جگہ سردار واہ واہ کے ڈونگرے برساتے ہیں۔

جتوئی اور مہر قبیلے سمیت علاقے کا ہر قبیلہ اس ناٹک میں شریک ہے جس کے کردار ڈرامائی ٹھوں ٹھاں سے نہیں اصلی گولی سے مرتے ہیں۔پچھلے دس برس سے جاری اس ناٹک سبھا میں پیش ہونے والے تیس کے لگ بھگ خونی ڈراموں میں تقریباً دو ہزار کردار سرداروں کے لکھے گئے سکرپٹس پر اداکاری کے جوہر دکھاتے ہوئے نچھاور ہو چکے ہیں۔ناٹک جاری تھا۔ جاری ہے۔جاری رہے گا۔

شکار پور میں پرچی آج بھی چلتی ہے۔لیکن ہنڈی کی نہیں سفارش، دھمکی اور الٹی میٹم کی پرچی۔سات پرانے دروازوں کی جگہ متعدد نئے اور کہیں شاندار دروازے وجود میں آچکے ہیں۔جو سردار جہاں رہتا ہے وہیں اسکے نام کا شاندار دروازہ بن جاتا ہے۔ ہسپتال آج بھی موجود ہیں فرق صرف اتنا ہے کہ پہلے یہ خیراتی تھے۔اب مریض زندگی کی خیرات مانگتے پھرتے ہیں۔

جب سندھ کے اس ’وائلڈ ویسٹ‘ میں اگست کے دوسرے ہفتے میں سیلاب آیا تو ضلع کی بارہ لاکھ آبادی میں سے ساڑھے پانچ لاکھ افراد متاثر ہوئے۔پچاس میں سے تیس یونین کونسلیں زیرآب آنے کے سبب چوالیس ہزار گھروں کو کلی یا جزوی نقصان پہنچا۔ایک لاکھ ایکڑ سے زائد کھڑی فصلیں متاثر ہوئیں۔دو سو اسی کلومیٹر فارم ٹو مارکیٹ روڈ بہہ گئے۔دو سو اسی سکول ناکارہ ہوگئے اور بارہ صحت مراکز سمیت ستاون سرکاری عمارات کو کلی یا جزوی نقصان پہنچا۔بیس سے بائیس گوٹھ آج بھی ایسے ہیں جہاں کشتیوں سے راشن پہنچ رہا ہے۔مسلح افواج کی چھ ، دو پرائیویٹ اور ایک ریڈکراس کی ایک کشتی انخلا اور رسد لانے لے جانے کا کام کررہی ہے۔

سرکاری طبی سیکٹر کی ہنگامی حالت سے نمٹنے کی تصویر کچھ یوں ہے کہ ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز ہسپتال میں ایک ایک بستر پر تین تین بچے یا دو بڑے مریض پڑے ہیں۔جو تنگ آجاتے ہیں انہیں لان ، کاریڈورز یا کمروں کے فرش پر لٹا دیا جاتا ہے۔دواؤں کی سخت قلت ہے۔منرل واٹر صرف بیمار بچوں کو مل رہا ہے۔پورے شہر میں صاف پانی کے دو فلٹریشن پلانٹ ہیں۔ایک ریڈکراس نے لگایا اور ایک آرمی نے۔ضلعی انتظامیہ کے پاس ایمرجنسی حالات سے نمٹنے کے لئے صرف ڈیڑھ کروڑ روپے کا فنڈ موجود ہے۔

سیلاب زدگان کے لئے ضلع میں تین سو آٹھ ریلیف کیمپس سکولوں، میدانوں اور اہم سڑکوں کے کنارے قائم ہیں۔ان میں سے انتالیس کیمپس این جی اوز چلا رہی ہیں۔سب کیمپوں میں لگ بھگ اسی ہزار لوگ رھ رہے ہیں۔مگر خیمے صرف پانچ سو کے قریب ہی مل پائے ہیں۔

ضلعی انتظامیہ کہتی ہے کہ وہ چالیس ہزار افراد کو روزانہ بائیس لاکھ روپے کے صرفے سے پکا پکایا کھانا مہیا کررہی ہے۔میں نے ایک جگہ دیکھا کہ لائن سے دیگیں چولہوں پر چڑھی ہوئی ہیں۔ایک پکوانی سے درخواست کی کہ تھوڑا سا کھانا چکھوا دے۔اس نے کہا میرے افسر سے بات کرو۔کچھ دیر بعد نسبتاً صاف ستھرے شلوار قمیض میں ایک صاحب آئے۔پکوانی نے رازداری کے ساتھ انکے کان میں کچھ کہا۔ان صاحب نے مجھ سے کہا سوری یہ کھانا صرف سیلاب زدگان کے لئے ہے اور کیمپوں میں ایک مقررہ وقت میں ہی مہیا کیا جاتا ہے۔

میں نے درخواست کی کہ مجھے صرف ایک دو چمچ پلیٹ میں ڈال کر چکھوا دیں۔ان صاحب نے کہا

’سائیں۔آپ اچھے بھلے ہیں۔ایسے نہ کریں‘

اور میں بائیس لاکھ روپے روزانہ میں پکنے والے اس کھانے کے ذائقے سے محروم رہا۔میں نے دیکھا تو نہیں لیکن کئی لوگوں سے سنا کہ کیمپوں کے آس پاس ادھ کھائے چاولوں کی کئی پھٹی تھیلیاں پڑی رہتی ہیں ۔لوگ بھوکے ہونے کے باوجود انہیں نہیں اٹھاتے۔حا لانکہ یہ وہی لوگ ہیں جو کھانے کی گاڑی دیکھتے ہی ٹوٹ پڑتے ہیں اور چھینا جھپٹی کے بعد بمشکل ایک آدھ تھیلی حاصل کرپاتے ہیں۔ میں کسی بدگمانی میں مبتلا نہیں ہوں۔آپ خود سمجھ دار ہیں۔

میری ملاقات سرکردہ شہریوں کے علاوہ ڈسٹرکٹ کو آرڈی نیٹر آفسر ڈاکٹر سعید احمد منگنیجو سے بھی ہوئی۔انکا خیال ہے کہ کسی بھی ایمرجنسی سے نمٹنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ تمام متعلقہ محکمے ضلع کی حد تک ڈسٹرکٹ ڈزآسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کو جوابدہ ہوں تاکہ انکی صلاحیت اور توانائی یکجا انداز میں وقت اور وسائیل ضائع کیے بغیر استعمال ہو۔

ڈی سی او کے بقول اس وقت جتنے بھی کام کے محکمے ہیں سب صوبائی کنٹرول میں ہیں۔جیسے پولیس، آبپاشی، زراعت ، خوراک ، صحت اور بجلی میں سے کوئی محکمہ بھی ضلعی حکومت کو جوابدہ نہیں ۔چانچہ یہ محکمے موقع کی نزاکت دیکھ کر فوری فیصلہ کرنے کے لئے بھی صوبائی حکام کی اجازت و رضامندی کے محتاج ہیں۔اس خامی کے سبب اکثر بروقت فیصلے نہیں ہو پاتے۔اگر ان میں سے کوئی محکمہ لیت و لعل کرے تو ضلعی انتظامیہ کچھ نہیں کرسکتی۔ان اداروں سے زیادہ تر تعاون زاتی خیرسگالی کی بنیاد پر ہی میسر آتا ہے۔حالانکہ اس تعاون کا مقامی سطح پر کوئی ادارتی ڈھانچہ بھی ہونا چاہیے۔

اس وقت سیلابی پانی شکار پور شہر سے جیکب آباد جانے والے راستے پر سات کلومیٹر پرے لوڈراں میں رکا ہوا ہے۔اس پانی اور شکار پور شہر کے بیچ صرف ایک حفاظتی بند ہے۔لودراں سے آگے ریلوے لائن کے نیچے سے پانی کا ریلہ گذارنے کے لئے پینتیس کے لگ بھگ چھوٹے بڑے شگاف ڈالے گئے ۔یوں چودہ اگست کے بعد سے شکار پور اور کوئٹہ کے درمیان ریلوے ٹریفک معطل ہوگیا۔

پانی اتنا پھیلا ہوا اور گہرا ہے کہ بھاری مشینری سے بیس بیس فٹ گہرے شگاف نہیں بھرے جاسکتے۔لہذا مزدور ہاتھوں سے پانی میں پتھر ڈال رہے ہیں۔جس رفتار سے کام ہورہا ہے۔اس سے لگتا ہے کہ ریلوے ٹریک کی بحالی کے لئے کم ازکم پندرہ سے بیس دن مزید درکار ہیں۔یہی حال ریل کے متوازی چلنے والی شکار پور تا جیکب آباد سڑک کا حال ہے۔اس میں تین مقامات پرہزار ہزار گز سے زائد کے شگاف پڑے ہوئے ہیں۔اگرچہ پتھر اور مٹی ڈال کر راستہ بنانے کی کوشش ہورہی ہے۔لیکن پانی کی تیزی اور شدت کو دیکھتے ہوئے یہ کام بھی دو ہفتے سے پہلے مکمل ہوتا نظر نہیں آرہا۔لوڈراں سے چار کلومیٹر آگے سلطان کوٹ کے مقام پر اسی شاہراہ پر اب بھی چھ چھ فٹ پانی کھڑا ہے۔جبکہ سلطان کوٹ سے چھ کلومیٹر آگے ہمایوں شریف میں بھی سڑک زیرِآب ہے۔اس پر صرف ٹریکٹر ٹرالیاں چل سکتی ہیں۔

بے شمار عورتیں بچے اور مرد پناہ گزیں لوڈراں کے بند پر فوج کے تحت چلنے والی بوٹ سروس کے زریعے تین فرلانگ کے فاصلے پر سلامت رھ جانے والے سڑک کے ٹکڑے تک پہنچنے کے لئے کڑی دھوپ میں لائن بنائے کھڑے ہیں۔کئی مرد سینے سینے پانی میں ایک دوسرے کے ہاتھ تھامے اس پار پہنچنے کی کوشش کررہے ہیں۔جہاں سے وہ پیدل جانے کہاں تک جا پائیں گے۔

ایک کونے میں تھک ہار کر بیٹھ جانے والے بوڑھے کے پاس میں بھی آلتی پالتی مار کے بیٹھ گیا۔اس نے حسبِ توقع حالات اور امداد نہ ملنے کا رونا روتے ہوئے ایک بہت ہی عجیب بات کردی۔

’یہ جو ہمارے نمائندے بنے پھرتے ہیں ایک ٹکے کے نہیں۔ہم ووٹ اس لئے دیتے ہیں کہ نہ دیں تو ہمیں کوئی ٹکہ بھی نہ دے۔ابھی غوث بخش مہر کو ہی دیکھو۔جب مشرف نے صدر بننے کا ریفرنڈم کروایا تھا تو اس نے ہم لوگوں کو اپنے گاؤں کے جلسے میں پہنچانے کے لئے کشمور کیا ، جیکما باد کیا ، شکار پور کیا، سکھر کیا ، لاڑکانو کیا۔ایک ایک جگہ سے سب ٹرالیاں ، بسیں اور کوشٹریں بک کرلی تھیں۔اسکا مشرف کو دکھانے کے لئے لاکھ لوگوں کا مجمع لگانے کا پروگرام تھا۔آج وہ سب لوگ جو اسکے جلسے میں گئے تھے برباد ہیں لیکن اس کے پاس اور اس کےسنگتی علائقے کے دوسرے وڈیروں اور حاکموں کے پاس جو بڑے بڑے وزیر بنے پھرتے ہیں ہم لوگوں کی اتنی حیثیت بھی نہیں کہ دس ٹرالیاں ہی کرائے پر لاکر دے دیوے۔۔۔۔۔۔‘

کل میں اسی مشکل راستے سے جیکب آباد شہر جانے کی کوشش کروں گا ۔جیکب آباد اسوقت چاروں طرف سے کٹا ہوا ہے۔

اسی بارے میں