سیلاب اور فوج

پاکستان کے وزیر احظم سید یوسف رضا گیلانی اداکارہ انجلینا جولی سے ملاقات کے دوران
Image caption ہالی وڈ اداکارہ اور اقوامِ متحدہ کی خیرسگالی کی سفیر انجلینا جولی نے پاکستان کے وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی سے ملاقات کی

یہ امریکی اداکارہ انجلینا جولی کی معصومانہ نادانی تھی یا انہیں بھی وہی تاثر ملا جو یہاں بڑی تعداد میں لوگوں کو ہے کہ حکومت کا حصہ ہونے کے باوجود فوج نے سیلاب میں امدادی مہم بلکل الگ تھلگ چلائی ہے۔

اسلام آباد کے قریب افغان پناہ گزینوں کی ایک کچی بستی کے دورے کے موقع پر انہوں نے بی بی سی سے انٹرویو میں کہا کہ ’جہاں تک وہ سمجھتی ہیں فوج (امدادی سرگرمیوں میں) کافی متحرک رہی جو حکومت سے علیحدہ تھی۔ انہوں نے جو بھی کیا وہ قابل تعریف ہے۔۔۔‘۔ اس بیان سے تو یہی تاثر ملتا ہے کہ وہ فوج کو الگ سمجھ رہی ہیں۔

اگرچہ سرکاری و فوجی اہلکار پہلے دن سے کہہ رہے ہیں کہ یہ امدادی سرگرمیاں مشترکہ ہیں اور دونوں میں کوئی اختلاف نہیں۔ اور یہ کسی حد تک زمین پر بظاہر درست دکھائی بھی دیتا ہے لیکن اعلی قیادت کی بات کریں تو صورتحال قدرے مختلف نظر آتی ہے۔

تقریباً ڈیڑھ ماہ کی امدادی سرگرمیوں میں کہیں بھی کبھی بھی اعلیٰ سیاسی و فوجی قیادت اکٹھی کسی متاثرہ علاقے کا دورہ کرتے یا امداد تقسیم کرتے دکھائی نہیں دی۔ صدر آصف علی زرداری اکیلے دورے کر رہے ہیں، وزیر اعظم علیحدہ کہیں ہیلی کاپٹروں میں گھوم رہے ہیں جبکہ جنرل اشفاق پرویز کیانی اپنی ترجیحات کے مطابق متاثرہ علاقوں کا رخ کر رہے ہیں۔

Image caption پاکستان کے صدر آصف علی زرداری سندھ کے ضلع جامشورو ایک امدادی کیمپ کے دورے پر

تینوں میں اگر اکٹھی نہیں تو ان میں سے دو میں ملاقاتیں ضرور ہو رہی ہیں جن میں سرکاری بیانات کے مطابق امدادی سرگرمیوں پر غور ہو رہا ہے۔

بعض لوگوں کے مطابق اس کی وجہ سکیورٹی خدشات ہوسکتے ہیں۔ لیکن کچھ لوگ کہتے ہیں کہ وہ کسی محفوظ مقام پر جیسے کے ایوان صدر میں سیلاب سے متعلق کسی تقریب میں اکٹھے شرکت تو کرسکتے ہیں۔

پاکستان فوج کی امدادی سرگرمیوں میں کارکردگی پر سب ہی رشک کر رہے ہیں۔ وہ ہر جگہ امداد لے کر پہنچے ہیں جس کی سب تعریف کرتے ہیں۔ لیکن اکثر مقامات پر اس امداد کو حکومتی نہیں بلکہ فوجی امداد سمجھا جا رہا ہے۔ متاثرین کو امداد دینے والے کا ہاتھ دکھائی دیتا ہے اور امداد بھیجنے والا کم نظر آتا ہے۔ فوج اپنی جانب سے بھی امداد یقیناً دے رہی ہے لیکن زیادہ امدادی سامان حکومت اور بیرون ملک سے ملا ہے جو وہ تقسیم کر رہے ہیں۔

ہوسکتا ہے یہ تاثر غلط ہو۔ لیکن اس کی پشت پر ایک تاریخ ہے، پس منظر ہے۔ پاکستان میں فوج نے اپنی آزاد حیثیت اس حد تک منوائی ہے کہ اکثر لوگ حکومت اور فوج کو دو علیحدہ علیحدہ اداروں کے طور پر دیکھتے ہیں۔

Image caption سیلاب سے متاثرہ علاقوں کے دورے پر جنرل اشفاق پرویز کیانی مائک مولن کے ہمراہ

ایک جانب ملکی سیاسی قیادت اگر امداد کی تقسیم کے طریقہ کار پر روزانہ ایک دوسرے کے خلاف بیانات داغ رہی ہے تو دوسری جانب فوج نے ایک مرتبہ پھر انتہائی ڈسپلن کا مظاہرہ کیا ہے۔ شدت پسندی کے خلاف کارروائیوں کی وجہ سے پیدا ہونے والے دباؤ کے باوجود فوج نے بڑے پیمانے پر امدادی سرگرمیوں میں حصہ لیا ہے۔ وہ الگ سے اپنے امدادی کیمپ بھی چلا رہی ہے۔

حکومتی اہلکار تاہم کسی اختلاف سے انکار کرتے ہیں۔ امریکہ میں پاکستان کے سفیر حسین حقانی کا کہنا تھا کہ سیاسی و فوجی حکام مل کر اس قدرتی آفت سے نمٹ رہے ہیں۔ ’ بعض عناصر اس قسم کی باتیں کر رہے ہیں، ایسا کچھ نہیں ہے‘۔

اندرون خانہ تعلقات جیسے بھی ہوں، تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس مصیبت کی گھڑی میں اعلیٰ سیاسی و فوجی قیادت مل کر بھی کسی متاثرہ ضلع کا ایک عاد دورہ کرلیتی تو لوگوں کے اعتماد میں کئی گنا اضافہ ہوسکتا تھا۔

اسی بارے میں