بلوچستان میں عید پر احتجاج

’لاپتہ‘ بلوچ افراد کی تصاویر
Image caption اگر ہمارے بھائی کسی جرم میں ملوث ہیں توانہیں منظر عام پرلا کر ان پر عدالتوں میں مقدمات چلائے جائیں

بلوچستان میں لاپتہ افراد کے لواحقین نے عید الفطر کویوم سیاہ کے طور پر مناتے ہوئے اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا ہے کہ بلوچستان میں لاپتہ ہزاروں بلوچ سیاسی کارکنوں کو برآمد کروانے کے لیے اقدامات کیے جائیں۔

کوئٹہ میں بی بی سی کے نامہ نگار ایوب ترین کے مطابق سنیچر کے روز کوئٹہ میں ’وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز‘ کے زیر اہتمام عید الفطر کے موقع پر ایک احتجاجی ریلی نکالی گئی جس میں لاپتہ افراد کے لواحقین کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔

ریلی کے موقع پر حکومت نے کوئٹہ شہر میں سخت حفاظتی انتظامات کیے تھے ۔ پولیس کے ساتھ ساتھ فرنٹیئرکور کے اہلکار بھی گشت کررہے تھے۔

ریلی کے شرکاء نے جس میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے ہاتھوں میں لاپتہ افراد کی تصاویر اور بینر اٹھا رکھے تھے۔ بینروں پراقوام محتدہ سے ان کے لواحقین کومنظر عام پرلانے کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کے مطالبات درج تھے۔

’وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز‘ کے نائب صدر قدیر بلوچ نے کہا کہ ہمارے پیارے کئی سالوں سے لاپتہ ہیں اورہمیں علم بھی نہیں ہے کہ وہ زندہ ہیں یا پھر انہیں مار دیا گیا ہے۔

انہوں نے ایمنسٹی انٹرنیشنل اور انسانی حقوق کی دیگر عالمی تنظیموں سے اپیل کی کہ وہ فوری طور پر پاکستان کی امداد بند کر کے بلوچستان میں دس ہزار سے زیادہ لاپتہ بلوچوں کو منظر عام پرلانے کے لیے عملی اقدامات کرے۔

اس موقع پر بلوچ طلبہ تنظیم (بی ایس او آزاد ) کونائب صدر ذاکرمجید کی بہن نے کہا کہ لاپتہ بلوچ نوجوان آج بھی خفیہ اداروں کے ٹارچرسیلوں میں ہیں۔

بقول انکے کہ حال ہی میں پندرہ سے زیادہ لاپتہ افراد کی مسخ شدہ لاشیں ملی ہیں۔

ذاکر مجید کی بہن کا کہنا تھا کہ آج لوگ گھروں میں عید ملن پارٹیاں اور بچوں کے ساتھ خوشیاں منانے میں مصروف ہیں لیکن ہم دنیا کو یہ بتانے کے لیے تپتی دھوپ میں سڑکوں پر نکل آئے ہیں کہ ہمارے لا پتہ پیاروں کی وجہ سے آج ہم کس کرب سے گزر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر ہمارے بھائی کسی جرم میں ملوث ہیں توانہیں منظر عام پرلا کر ان پر عدالتوں میں مقدمات چلائے جائیں کیونکہ لاپتہ افراد سیاسی کارکن ہیں انہوں نے کسی کے گھر میں چوری یا ڈاکہ نہیں ڈالا ہے۔

خیال رہے کہ سابق فوجی صدر جنرل پرویز مشرف کے دور حکومت میں بلوچستان میں ہونے والے پانچویں فوجی آپریشن کے دوران بلوچستان سے بلوچوں کی ایک بڑی تعداد لاپتہ ہوئی تھی اور بلوچ قوم پرستوں نے ہمیشہ اس کی زمہ داری پاکستان کے خفیہ اداروں پر عائد کی ہے۔

گزشتہ سال نومبر میں وزیراعظم پاکستان سیدیوسف رضاءگیلانی نے قومی اسبملی میں آغاز حقوق بلوچستان پیکیج پیش کرتے ہوئے اعلان کیا تھا کہ بلوچستان میں لاپتہ ہونے افراد جلد گھروں کو واپس آجائیں گے، لیکن دس ماہ گزر جانے کے باوجود سوائے چند ایک کے کوئی لاپتہ شخص منظرعام پر نہیں آیا ہے۔

وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک نے کوئٹہ کے حالیہ دورے کے موقع پر کہا تھا کہ لاپتہ افراد کی ایک بڑی تعداد براہمداغ بگٹی کے ہمراہ افغانستان میں قیام پذیر ہے۔

اسی بارے میں