خوراک کی فراہمی، ساٹھ ملین کی ضرورت

خوراک کے عالمی ادارے نے کہا ہے کہ پاکستان میں ساٹھ لاکھ سیلاب زدگان کو اس ماہ کے آخر تک خوراک فراہم کی جائے گی جس کے لیے مزید ساٹھ ملین ڈالر کی ضرورت ہوگی ۔

پاکستان میں خوراک کے عالمی ادارے کے سربراہ وولف گینگ ہربنجر نے سنیچرکو کوئٹہ میں سیلاب زدگان کے کیمپوں کے دورے کے موقع پر صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں خوراک کا مسئلہ سنگین ہوتا جا رہا ہے اور اقوم متحدہ کے ایک سروے کے مطابق دو دن قبل سیلاب متاثرین کے اٹھارہ فیصد لوگ ایسے تھے جن کو کھانا نہیں ملا تھا۔

کوئٹہ میں بی بی سی کے نامہ نگار ایوب ترین کےمطابق انہوں نے کہا کہ پاکستان میں دو کروڑ سے زیادہ افراد سیلاب سے متاثر ہوئے ہیں جن میں سے ورلڈ فوڈ پروگرام کے تحت ابھی تک پینتالیس لاکھ افراد کو خوراک فراہم کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس ماہ کے آخرتک حکومت پاکستان اور غیر سرکای تنظیموں کے تعاون سے ساٹھ لاکھ افراد کو خوراک فراہم کرنے کے ہدف حاصل کرلیں گے جبکہ ایک کروڑ افراد کو ابھی بھی خوراک کی اشد ضرورت ہے ۔

وولف گینگ نے مزید کہا کہ پاکستان میں نو ہزار ایسے دیہات ہیں جہاں ابھی تک پانی کھڑا ہے اور پانی کے اترنے میں ایک ماہ سے زیادہ عرصہ لگ سکتا ہے اور جب تک ان دیہاتوں کے متاثرین گھروں کو واپس نہیں جائیں گے اس وقت ورلڈ فوڈ پروگرام کی جانب سے ان کے ساتھ خوراک، ادویات اور پینے کے صاف پانی کی صورت میں امداد کا سلسلہ جاری رہےگا۔

بلوچستان کا ذکر کرتے ہوئے پاکستان میں خوراک کے عالمی ادارے کے سربراہ نے کہا کہ بلوچستان میں چھ لاکھ افراد کو خوراک کی ضرورت ہے جس میں چار لاکھ کو فوری طور پر خوراک فراہم کرنے کے لیے اقدامات ہو رہے ہیں۔

بلوچستان میں غیرملکیوں کےلیےسیکورٹی انتظامات کے بارے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں امن وامان کا مسئلہ اتنا بڑا ہے جس کے باعث ورلڈ فوڈ پرگرام نے صوبے کے متاثرہ علاقوں میں اپنی سرگرمیوں میں اضافہ کر دیا ہے ۔

اسی بارے میں