ہنگو: مقامی صحافی ہلاک کر دیے گئے

ہنگو کی فائل فوٹو
Image caption ہنگو کے اطراف کےعلاقوں میں سخت سیکورٹی کے باوجود حملہ آور فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے

پاکستان کے صوبہ خیبر پختون خواہ کے جنوبی ضلع ہنگو میں حکام کا کہنا ہے مقامی صحافی اور ہنگو یونین آف جنرنلسٹس کے صدر مصری خان کو نامعلوم مسلح افراد نے پریس کلب کے سامنے فائرنگ کرکے ہلاک کر دیا ہے۔

ہنگو پولیس کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ واقعہ منگل کی صبح چھ بجے ہنگو پریس کلب کے سامنے پیش آیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ صحافی مصری خان پریس کلب کے دروازے کا تالہ کھول رہے تھے کہ اس دوران وہاں تاک میں بیٹھے چار مسلح افراد نے ان پر اندھا دھند فائرنگ کردی جس سے وہ شدید زخمی ہوگئے۔ بعد میں انھیں زخمی حالت میں ہپستال پہنچایا گیا جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاکر چل بسے۔

مقامی صحافیوں کا کہنا ہے کہ ہنگو شہر اور اطراف کے علاقوں میں سخت سکیورٹی کے باوجود ملزمان فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔

ہنگو میں صحافیوں کی تنظیم ہنگو یونین آف جرنلسٹس نے مقامی صحافی کے قتل پر شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے اسے ’ٹارگٹ کلنگ‘ کا واقعہ قرار دیا ہے۔

تنظیم کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ جس جگہ واقعہ ہوا ہے وہ ہائی سکیورٹی زون سمجھا جاتا ہے لیکن اس کے باوجود ملزمان فرار ہونے میں کامیاب رہے۔ انہوں نے حکومت سے قتل کی تحقیق اور ملزمان کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا ہے۔

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ ہنگو پریس کلب کچہری کے علاقے میں ضلعی رابط افسر کے دفتر کے ایک کونے پر واقع ہے جہاں قریب تمام اہم سرکاری اور نیم سرکاری دفاتر قائم ہیں۔ اس عمارت سے چند میٹرز کے فاصلے پر پولیس کے ضلعی دفاتر بھی واقع ہیں جس کی وجہ سے یہاں اطراف میں ہر وقت پولیس اہلکار موجود رہتے ہیں۔

مقامی صحافیوں کا کہنا ہے کہ ہنگو شہر اور اورکزئی ایجنسی میں فرقہ وارانہ تشدد کے واقعات اور شدت پسندوں کے خلاف کارروائیوں کے باعث انھیں وقتاً فوقتاً مختلف تنظیموں کی طرف سے دھمکیاں ملتی رہی ہیں۔

مرحوم صحافی مصری خان ہنگو یونین آف جرنلسٹس کے صدر تھے۔ ان کی عمر پینتالیس سال کے لک بھگ بتائی جاتی ہے۔ وہ گزشتہ تیس سالوں سے صحافت کے شعبہ سے منسلک تھے۔

مصری خان صحافت کے شعبہ میں ایک ہاکر کی حیثیت سے آئے۔ وہ پشاور اور اسلام آباد سے چھپنے والے اہم اخبارات سے وابستہ تھے۔ سن دو ہزار چھ میں ہنگو شہر میں خودکش دھماکے کے نتیجے میں گھیراؤ جلاؤ کے واقعات میں چھ سو کے قریب دوکانوں کو جلایا گیا تھا جس میں مصری خان کی نیوز ایجنسی بھی شامل تھی۔ مرحوم نے سواگوران میں پانچ بچے چھوڑے ہیں۔

اسی بارے میں