پاکستان کو سول حکومت چاہیے

امریکی صدر کے خصوصی ایلچی برائے پاکستان اور افغانستان رچرڈ ہالبروک نے ان قیاس آرائیوں کو مسترد کردیا کہ پاکستان میں فوج سول حکومت سے بہتر حکومت چلاسکتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ امریکہ پاکستان میں اب مارشل لا کی حمایت نہیں کرے گا، جبکہ سیلاب کے بعد کیری لوگر بل کے تحت دی جانے والی امداد کی ترجیحات بدل گئی ہیں۔

کراچی سے ہمارے نامہ نگار ریاض سہیل کا کہنا ہے کہ وزیر اعلیٰ ہاؤس میں پریس کانفرس سے خطاب کرتے ہوئے رچرڈ ہالبروک کا کہنا تھا کہ وہ ماضی کے بارے میں بات نہیں کرنا چاہتے، پاکستان اور امریکہ کے تعلقات کی ایک بڑی تاریخ ہے مگر ان کا خیال ہے کہ کئی غلطیاں کی گئی ہیں۔

’ میں صرف موجودہ امریکی انتظامیہ کے بارے میں بات کرنا چاہتا ہوں ہم پاکستان میں سویلین، جمہوری طریقے سے منتخب حکومت کی حمایت کرتے ہیں، ہم پاکستان کی فوج کے ساتھ بھی کام کر رہے ہیں مگر فوج حکومت کا ایک حصہ ہے۔‘

رچرڈ ہالبروک نے بتایا کہ ساڑھے سات بلین ڈالر مالیت کی کیری لوگر بل کے ذریعے دی جانے والی امداد کی ترجیحات تبدیل ہوگئی ہیں۔

انھوں نے کہا کہ جولائی میں ہیلری کلنٹن اور وہ اسلام آباد آئے تھے اور انہوں نے اعلان کیا تھا کہ یہ رقم پانی، توانائی، صحت اور تعلیم کے منصوبے پر استعمال کی جائیگی۔تاہم پاکستان میں سیلاب جو تباہی آئی اُس کے بعد انہوں نے کانگریس اور خاص طور پر سینیٹر کیری سے رجوع کیا تھا۔

’’ کانگریس نے ہمیں کہا کہ کیری لوگر بل کی رقم ایمرجنسی رلیف پر خرچ کی جائے، ہم نے اس رقم کا ایک حصہ کوئی پچاس ملین ڈالر یہاں منتقل کیے مگر اب میں یہاں سے واپس جاکر مزید رقم بھی منتقل کرانے کی کوشش کروں گا، جس کے باعث کیری لوگر بل کی رقم سے جو منصوبے بننے تھے وہ التوا کا شکار ہوں گے کیونکہ سیلاب کے بعد ترجیح تبدیل ہوگئی ہے۔“

رچررڈ ہالبروک نے ٹھٹہ کے کیمپوں کا فضائی اور زمینی دورہ بھی کیا، ان کا کہنا تھا کہ ہزاروں لوگ سیلابی علاقے کے بچے ہوئے بندوں پر زندگی کی جنگ لڑ رہے ہیں۔

رچرڈ ہالبروک کے مطابق پاکستان کو بڑی پیمانے پر عالمی مدد کی ضرورت ہے اور وہ امریکی اور بین اقوامی مدد کو متحرک کریں گے تاہم پاکستانی قیادت کو اپنی اولیت کا تعین کرنا پڑے گا۔

’ ہم جانتے ہیں کہ پہلے ایمرجنسی رلیف اور اس کے بعد تعمیر نو ہوگی۔ مگر یہ خدشہ موجود ہے کہ سیلاب پھر آسکتا ہے کیونکہ یہ ایک سائیکل ہے، میں تجویز کروں گا کہ سب سے بڑی ترجیح نئے ڈیموں کی تعمیر اور تمام ڈیموں کی تعیمر نو ہونی چاہیے۔‘

انہوں نے اس تاثر کو مسترد کیا کہ امریکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کی وجہ سے پاکستان کی مدد کر رہا ہے، ان کے مطابق پاکستان کو مدد کی ضرورت ہے، اور وہ بین اقوامی اتحاد کا حصہ ہیں اور اس کی قیادت کر رہے ہیں۔

اسی بارے میں