انٹیلیجنس اور سکیورٹی ادارے تعاون کریں

Image caption اسلام آباد میں پریس کانفرنس

افغانستان کے صدر حامد کرزئی نے کہا ہے کہ افغانستان اور پاکستان کے انٹیلیجنس اور سکیورٹی اداروں کو شدت پسندوں کے خلاف جنگ کے لیے اور قریبی تعاون کرنا ہوگا۔

صدر کرزئی نے یہ بات اسلام آباد میں صدر زرداری سے ملاقات کے بعد ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں کہی۔

صدر کرزئی نے کہا کہ دونوں ملک دہشت گردی کا شکار ہیں اور یہ طے ہے کہ دہشت گردوں کے اڈے یہیں کہیں موجود ہیں جہاں سے وہ حملے کررہے ہیں۔انھوں نے کہا کہ جو لوگ افغانستان یا پاکستان میں حملے کررہے ہیں وہ برازیل یا برکینہ فاسو سے نہیں آرہے وہ اسی خطے میں موجود ہیں۔

صدر کرزئی نے کہا کہ انھوں نے صدر زرداری سے افغانستان میں تین دن بعد ہونے والے پارلیمانی انتخابات کے انعقاد کے سلسلے میں بھی بات کی ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ افغانستان میں پرامن انتخابات کا مطلب جمہوری اور سیاسی طور پر مستحکم افغانستان ہوگا جو یقیناً پاکستان کی بھی خواہش ہے۔

افغان صدر نے کہا وہ اُن طالبان کو سیاسی عمل میں شامل کرنے کی پہلے بھی پیشکش کرچکے ہیں، جو ملکی آئین کی پاسداری کرنے کو تیار ہوں۔

خطے کی سلامتی خصوصاً کشمیر میں حالیہ شورش کے پس منظر میں سوال کے جواب دیتے ہوئے صدر حامد کرزئی نے کہا کہ بھارتی وزیر اعظم من موہن سنگھ سے اُن کے اچھے مراسم ہیں، اگر اُن سے کہا گیا تو بہت نیک نیتی سے اس تنازع میں مدد کرنے کی کوشش کریں گے۔

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ صدر کرزئی کا اسلام کا دورہ خصوصی اہمیت کا حامل ہے۔ وہ طالبان سے مفاہمت کے عمل میں پاکستان کی مدد چاہتے ہیں، جبکہ پاکستان بھی افغانستان میں اپنا اثر و رسوخ قائم رکھنے کا خواہشمند ہے۔

واضح رہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان کئی برسوں سے تعلقات کی نوعیت کشیدہ ہے، افغانستان پاکستان پر یہ الزام عائد کرتا ہے کہ افغانستان میں حملوں کے لیے پاکستان کی سرزمین استعمال ہورہی ہے۔

تاہم پریس کانفرنس میں دونوں رہنما ایک دوسرے کو بھائی کہہ کر مخاطب کرتے رہے۔

اسی بارے میں