کرم ایجنسی: مزید بارہ ہلاکتیں

کرم ایجنسی
Image caption فریقین مورچہ زن ہیں اور ایک دوسرے پر بھاری ہتھیاروں سے حملے کررہے ہیں

پاکستان کے قبائلی علاقے کرم ایجنسی میں دو قبیلوں کے درمیان پانی کی تنازعے پر تازہ جھڑپوں میں اطلاعات کے مطابق کم از کم بارہ افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے ہیں۔

کرم ایجنسی سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق اپر کرم ایجنسی کے علاقے شلوازن تنگی میں بدھ اور جمعرات کی درمیانی رات مینگل اور توری بنگش قبائل نے ایک دوسرے کے ٹھکانوں پر خود کار ہتھیاروں سے تازہ حملے کئے ہیں۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ جھڑپوں میں اب تک بارہ افراد ہلاک ہوچکے ہیں جب کہ متعدد زخمی ہیں۔ تاہم بعض مقامی ذرائع نے ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد زیادہ بتائی ہے۔

ذرائع کے مطابق فریقین مورچہ زن ہیں اور ایک دوسرے پر بھاری ہتھیاروں سے حملے کررہے ہیں جس کی وجہ سے مقامی افراد گھروں کے اندر محصور ہیں۔

اس سےسلسلے میں کرم ایجنسی کے پولیٹکل ایجنٹ سید مصدق شاہ سے بار بار رابطے کی کوشش کی گئی تاہم ان کے دفتر سے ہر بار ایک ہی جواب ملا کہ ’ صاحب دفتر میں نہیں ہیں‘۔

خیال رہے کہ تقریباً دو ہفتوں سے مینگل اور توری بنگش قبائل کے درمیان پانی اور راستے کے تنازعے پر جھڑپوں کا سلسلہ جاری ہے جس میں اب تک چالیس کے قریب افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

ان قبائل کے درمیان پہلے بھی کئی مرتبہ جھڑپیں ہوچکی ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ ایک قبیلے نے پانی بند کیا ہوا ہے جب کہ مخالف قبیلے نے راستہ دینے سے انکار کردیا ہے۔

کرم ایجنسی پچھلے کئی برسوں سے شدید فرقہ وارانہ تشدد کی لپیٹ میں رہا ہے۔

علاقے میں کشیدگی کے باعث تمام اہم سڑکیں اور شاہراہیں تقریباً تین سال سے بند ہیں جس سے لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

حکومت فریقین کے مابین پائیدار جنگ بندی کرانے اور بند سڑکیں کھولنے میں بظاہر مکمل طورپر ناکام دکھائی دیتی ہے۔