سعودیہ کا باچھا کب آئےگا !

بی بی سی اردو کے وسعت اللہ خان پاکستان میں آنے والے سیلاب سے متاثرہ علاقہ جات کے دورے کا احوال ایک ڈائری کی صورت میں بیان کر رہے ہیں۔ پیش ہے اس سلسلے کی اکتیسویں کڑی جو انہوں نے ٹھٹہ سے بھیجی ہے۔

سنیچر گیارہ ستمبر (ٹھٹہ)

آج مرکزی رویتِ ہلال کمیٹی کی اعلان کردہ عید الفطر ہے۔ اٹھارہ کروڑ میں سے گیارہ فیصد آبادی حالتِ بے گھری میں کیمپوں، نہری پشتوں، سڑکوں یا دوستوں رشتے داروں کے گھروں میں پناہ لیے عید منا رہی ہے۔بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ دراصل عید ان بے گھروں کو منا رہی ہے۔اٹھارہ اگست انیس سو سینتالیس کو بھی ایسی ہی ایک عید آئی تھی جب چودہ فیصد آبادی ( ہندوستان سے آنے والے مہاجرین ) نے سڑکوں اور کیمپوں پر عید منائی تھی۔لیکن تب مغربی پاکستان کی آبادی ساڑھے تین کروڑ ہوا کرتی تھی۔

بانی پاکستان محمد علی جناح یا ان کے وزیرِ اعظم لیاقت علی خان یا ان کے گورنرز یا وزرائے اعلیٰ عید منانے کسی پناہ گزیں کیمپ میں نہیں جاسکے ۔مگر یہ بات بے معنی ہے۔ پورا ملک ہی کیمپ بنا ہوا تھا۔صرف دو طبقات تھے۔امداد کرنے والے یا امداد لینے والے۔ٹی وی چینلز بھی نہیں تھے۔پھر بھی ہر کوئی باخبر تھا کہ کیا ہو رہا ہے اور اسے کیا کرنا ہے۔

سیلاب کی ڈائری: خصوصی ضمیمہ

Image caption راشن کے ہرڈبے پر درج تھا۔’مملکت انسانئیت سعودی عرب کی طرف سے تحفہ‘۔۔۔۔

دو دن پہلے ہی سے ہی چینلز پر یہ اطلاعات آنی شروع ہوگئیں کہ کون سا وی آئی پی کس سیلاب زدہ کیمپ میں عید منائے گا۔ایسے ماحول میں آج صبح ہی صبح کراچی پریس کلب سے خورشید عباسی کا فون آیا کہ سعودی سفیر عبدالعزیز ابراہیم الغدیر ٹھٹہ میں سیلاب زدگان کے ساتھ عید منانے اسلام آباد سے آ رہے ہیں چلنا ہو تو چلیں۔پک اینڈ ڈراپ کی زمہ داری سعودیوں کی ہے۔مجھ جیسے ’بے کار‘ صحافیوں کے لیے یہ ایک اچھی ترغیب تھی۔مگر پریس کلب پہنچنے پر معلوم ہوا کہ صرف چار دیگر صحافی بارہ سیٹوں والی کوسٹر میں جا رہے ہیں۔

ٹھٹہ کراچی سے سو کلومیٹر پرے جنوب مشرق میں ہے۔سندھو دریا نے سمندر میں گرنے سے پہلے آخری بھرپور سیلابی چانٹا ٹھٹہ اور اس سے متصل ساحلی ضلع بدین کو ہی مارا ہے۔اس کے نشان بدین کی ایک اور ٹھٹہ کی تین تحصیلوں کے گال پر دور سے بھی نظر آتے ہیں۔مگر یہ دونوں اضلاع باقی سیلاب زدہ اضلاع سے اس لحاظ سے مختلف ہیں کہ یہاں جب دریا پاگل نہیں ہوتا تو سمندر پاگل ہوجاتا ہے۔اور جب دونوں تعطیلات پر ہوتے ہیں تو خشک سالی ڈنڈہ پکڑ لیتی ہے۔بالخصوص ٹھٹہ کی ایک تحصیل کھارو چھان کو سمندر پچھلے بیس برس میں آدھے سے زیادہ کتر کتر کے کھا گیا ہے۔جبکہ کیٹی بندر اور جاتی تحصیل کی دریا اور سمندر تاک تاک کے ٹھکائی لگاتے رہتے ہیں۔

اس دفعہ بھی یہی ہوا تیس فیصد بدین اور ستر فیصد ٹھٹہ حفاظتی بندوں میں شگاف پڑنے سے زیرِ آب آگیا۔حالانکہ ان دونوں شہروں کو بچانے کے لیے سیلاب نے کم از کم پانچ ہفتے کی مہلت بھی دی تھی۔ ویسے یہ حفاظتی بند بھی بڑے کام کی شے ہوتے ہیں۔جب تک ان پر پانی کا دباؤ نہ پڑے خوب چوکیداری کرتے ہیں۔اور جب ٹوٹ جائیں تو مٹی کے سوداگروں، انفراسٹرکچر کی تعمیرِ نو کرنے والے ٹھیکیداروں، محکموں اور مصیبت زدگان کے سر پر ہاتھ رکھنے والے معززین کو نئے مواقع اور تازہ مصروفیت فراہم کرتے ہیں۔

ٹھٹہ کے ایک عمر رسیدہ صحافی کے بقول اس مرتبہ یہاں کے بند باقی ملک کے سیلاب زدگان سے یکجہتی ظاہر کرنے کے جذبے میں ٹوٹے ہیں ورنہ دنیا کیا کہتی۔۔۔بہرحال وجہ جو بھی ہو گردو نواح زیرِ آب آنے کے بعد ٹھٹہ شہر کی تین ساڑھے تین لاکھ آبادی کو بھی مارچنگ آرڈر مل گئے اور آدھی آبادی شہر سے سات کلومیٹر پرے مکلی کی پہاڑی پر واقع قبرستان میں جا کر بیٹھ گئی۔جبکہ باقی مکلی اور ٹھٹہ کے درمیان قائم درجن بھر سے زائد کیمپوں میں آگئی۔

جب ہم نیشنل ہائی وے پر سٹیل ملز پار کرتے ہوئے چوکنڈی کے تاریخی قبرستان کی تجاوز زدہ زمین پر قائم اینٹی انکروچمنٹ پولیس سٹیشن پر چھچھلتی سی نگاہ ڈالتے ہوئے دھابے جی، بھنبور اور گھارو کے قصبات میں روڈ کے دونوں جانب بنے چائے خانوں اور ریستورانوں کے اندر اور باہر نئے نئے کپڑے پہن کر صبح سے شام کرنے والے مجمع کو دیکھتے ہوئے ٹھٹہ اور مکلی کو علیحدہ کرنے والے چوراہے پر پہنچے تو دو رویہ کیمپ تھے۔کیمپ نمبر بارہ، گیارہ، دس، نو، آٹھ، سات، چھ، پانچ، چار، تین، دو، ایک۔۔۔

ان دنوں جو بھی وی آئی پی کراچی کے جناح ٹرمنل پر اترتا ہے سیدھا ٹھٹہ کے ان کیمپوں تک لایا جاتا ہے۔اس کا ایک مثبت اثر یہ بھی ہوا ہے کہ یہاں رہنے والوں کو صوبائی انتظامیہ، این جی اوز اور غیرملکی ادارے مرکزِ توجہ بنائے ہوئے ہیں۔انہیں ایک ہی جگہ اتنے سارے کیمپ مل جاتے ہیں اور وہ بھی کراچی سے قریب اور وہ بھی صرف ایک ڈے ٹرپ کے فاصلے پر۔

ہماری کوسٹر آرمی پبلک سکول ٹھٹہ کے باہر قائم کیمپ نمبر ایک کے سامنے رک گئی۔کوئی سو کے قریب خیمے فوجی ترتیب سے دو قطاروں میں لگائے گئے تھے۔ان میں زیادہ تر وہ خاندان ٹھرے ہوئے تھے جو بدین کی تحصیل سجاول سے آئے ہیں۔کیمپ پر ایک بینر آویزاں تھا ’ کنگ عبداللہ ریلیف کیمپ‘۔خشک راشن اور دیگر اشیائے ضروریات سے بھرا ایک ٹرک بھی کیمپ کے درمیان کھڑا ہوا تھا۔راشن کے ہرڈبے پر درج تھا۔’ مملکت انسانئیت سعودی عرب کی طرف سے تحفہ‘۔۔۔

گذشتہ پچیس روز میں میانوالی سے میہڑ تک میں تواتر کے ساتھ یہ منظر دیکھتا آرہا ہوں کہ ریلیف لانے والے ٹرک کی آمد سے پہلے ہی جانے اس کی خوشبو کیسے سیلاب زدگان عورتوں، بچوں، مردوں اور مقامی مفتوں تک پہنچ جاتی ہے۔ جیسے ہی شکار نمودار ہوتا ہے اس پر آدم کے بیٹے بیٹیاں ایسے چمٹ جاتے جیسے شہد کا چھتا مکھیوں کے ہجوم میں چھپ جائے۔کمزور مکھیاں صرف چھتے کے اردگرد بھنبھنا کے رھ جاتی ہیں اور تجربہ کار مکھیاں چھتے کو چوس لیتی ہیں۔ کچھ دیر بعد سامان سے خالی ٹرک آبرو باختہ لڑکھڑاتا ہوا اپنی راہ لیتا ہے اور اس خالی ٹرک کے پیچھے بھی نوجوان اور بچے دور تک دوڑتے رہتے ہیں۔

لیکن کنگ عبداللہ کیمپ میں ایسا نہیں تھا۔پناہ گزین اپنے خیموں کے اندر اور باہر اطمینان سے بیٹھے تھے۔ سامان سے بھرے ٹرک کو کوئی نگاہ اٹھا کے بھی نہیں دیکھ رہا تھا۔ یا تو اس کیمپ کے مکینوں کو پہلے ہی وافر سامانِ رسد مل چکا ہے اور ان کے پیٹ میں غذا بھی ہے۔یا ہوسکتا ہے کہ انہیں سمجھا دیا گیا ہو کہ غیرملکی مہمانوں کے سامنے ہلڑ مچانے کی ضرورت نہیں ۔زرا دیر میں سعودی سفیر آئیں گے تو راشن کا ڈبہ بھی خود بخود ہر خیمے میں پہنچ جائے گا۔ویسے آپس کی بات ہے اگر انسان کو یقین ہو کہ وہ بنیادی ضروریات کی اشیا سے محروم نہیں رہے گا تو کاہے کو لالچ اور عدم تحفظ کا شکار ہو کر ٹرک سے چمٹے یا اس کے پیچھے دوڑتا رہے۔

کیمپ کے کنارے بہت سی خواتین اور بچیاں بھی ہلکی ہلکی بارش میں بھی عید کے کپڑے پہنے سکون سے بیٹھی ہوئی تھیں۔یہ وہ تھیں جو سیلاب زدہ تو نہیں ہیں لیکن آس پاس کے گوٹھوں سے اس امید پر جمع ہوگئیں کہ انہیں بھی شائد کچھ نہ کچھ عیدی کسی نہ کسی شکل میں ضرور مل جائےگی۔لیکن ان کے ساتھ آنے والے تین چار مرد ہر دس بارہ منٹ کے بعد اتاؤلے ہو کر کسی نہ کسی سے ضرور پوچھ بیٹھتے ہیں ’ یہ سعودیہ کا باچھا ابھی کتنی دیر میں آئے گا‘۔۔۔

بیس پچیس منٹ بعد ایمبیسڈر عبدالعزیز ابراہیم الغدیر مقامی فوجی و پولیس افسران ، سعودی ٹی وی چینلز کے کیمرہ مینوں، جونئیر سفارتکاروں، مترجمین اور اسلام آباد سے ساتھ آنے والے دو تین صحافیوں کے ساتھ نمودار ہوئے اور ٹرک پر رکھے خوراکی ڈبے ایک ایک خیمے کے باہر رکھے جانے لگے۔ سجے ہوئے سرکنڈے کے دو تھال سعودی سفیر کے پیچھے پیچھے چل رہے تھے جن میں بچوں کے لیے کھلونے، چاکلیٹس اور لولی پوپ بھرے ہوئے تھے۔

سعودی فیلڈ ہسپتال آرمی پبلک سکول کی چار دیواری میں خیموں اور کنٹینرز پر مشتمل ہے۔چھ ایمبولینسوں، لیبارٹری اور آپریشن تھیٹر سے لیس ایک مکمل فوجی فیلڈ ہسپتال ہے۔ایک سعودی ڈاکٹر نے دبے لفظوں میں بتایا کہ اس فیلڈ ہسپتال کا سامان ایرپورٹ پر کلیئر ہونے میں چار دن لگ گئے جس کے سبب ویکسینز کا سٹاک ضائع ہوگیا۔ مزید سٹاک آج پہنچ رہا ہے۔

Image caption ایک سعودی ڈاکٹر نے دبے لفظوں میں بتایا کہ اس فیلڈ ہسپتال کا سامان ایرپورٹ پر کلیئر ہونے میں چار دن لگ گئے جس کے سبب ویکسینز کا سٹاک ضائع ہوگیا۔ مزید سٹاک آج پہنچ رہا ہے

سعودی عرب نے دو فیلڈ ہسپتال دیے ہیں۔ان میں سے ایک غالباً راجن پور میں قائم کیا جا رہا ہے۔ایک آسٹریلین فیلڈ ہسپتال مظفر گڑھ میں قائم ہے ۔ترکی نے دو اور چین نے ایک فیلڈ ہسپتال قائم کرنے کا اعلان کیا ہے۔سنا ہے ایرانی بھی اسی قسم کی چیز لا رہے ہیں۔مجھے دو ہزار پانچ کا زلزلہ یاد آ رہا ہے۔جب مظفر آباد سے بٹ گرام تک امریکہ، کیوبا، متحدہ عرب امارات، ایران، سعودی عرب، ترکی اور ڈاکٹرز ودآؤٹ بارڈرز نے زبردست فیلڈ ہسپتال قائم کیے تھے۔حتی کہ افغانستان کے ڈاکٹروں کی ایک بڑی ٹیم بھی دواؤں کا اچھا خاصا زخیرہ لائی تھی۔آخر میں جاتے جاتے یہ سارا سامان طبی آلات اور مشینوں سمیت فوج کے حوالے کردیا گیا۔

اگر فوج یہ ہبہ شدہ فیلڈ ہسپتال بھی سیلاب زدگان کے لیے دوبارہ کھڑے کر دیتی تو فوری طبی مسائل سے نمٹنے میں اور مدد ملتی۔لیکن شائد یہ سوچا گیا ہو کہ سیلاب زدگان کے طبی مسائل زلزلہ زدگان سے مختلف ہوتے ہیں۔ وہ زلزلہ زدگان کی طرح شدید زخمی نہیں ہوتے اور انہیں آپریشن تھیٹرز کی اس طرح سے ضرورت نہیں ہوتی ۔ویسے بھی ڈائریا، گیسٹرو، جلدی امراض اور زچگی کی پیچیدگیوں سے معمول کے میڈیکل کیمپس لگا کر بھی نمٹا جا سکتا ہے۔یا یہ سوچا گیا ہو کہ جب نئے فیلڈ ہسپتال آ ہی رہے ہیں تو پرانے فیلڈ ہسپتال فیلڈ میں لانے کی کیا ضرورت ہے۔

لگ بھگ ڈھائی گھنٹے قیام کے بعد سعودی سفیر کراچی روانہ ہوگئے۔ ہماری کوسٹر زرا دیر بعد روانہ ہوئی۔میں نے کیمپ نمبر ون کا آخری چکر لگایا۔ایک خیمے میں ایک عورت اینٹوں کے چولہے پر توا رکھے روٹی پکا رہی تھی۔میں نے اس سے کہا ۔یہ خیمہ کپڑے کا ہے آگ بھی لگ سکتی ہے۔کہنے لگی

’جس نے یہ دیا ہے وہ اور دے دے گا‘۔۔۔

اس عورت سے لے کر حکومت تک سب توکل کی بکل مارے ہوئے ہیں۔اپنے پیدا کردہ نت نئے مسئلے خود حل کرنے پر غور کرنے کے بجائے سب کام خدا پر چھوڑنا کتنا آسان ہے۔

اے خدا! اور بنا ایسی ایک مملکتِ خداداد ۔۔۔

اسی بارے میں