متاثرین کیلیے مزید ایک ارب ساٹھ کروڑ ڈالر درکار

اقوام متحدہ نے پاکستان کے سیلاب زدگان کی امداد کے لیے دو ارب ڈالر سے زائد امداد کی اپیل جاری کی ہے۔

اقوام متحدہ کی تاریخ میں اس سے پہلے کسی قدرتی تباہی کے لیے اتنے بڑے پیمانے پر مدد کی اپیل نہیں کی کی گئی ہے۔

یہ امداد، جس میں سے پچاس کروڑ ڈالر کی رقم پہلے ہی اکھٹی کی جا چکی ہے، آئندہ ایک برس کے دوران چودہ ملین سیلاب زدگان کی مدد اور اقتصادی ڈھانچہ کھڑا کرنے کے لیے استعمال کی جائے گی جو اس آفت سے متاثر ہوئے ہیں۔

جس امدادی رقم کا مطالبہ کیا گیا ہے وہ اقوام متحدہ کے قریباً پندرہ مختلف شعبہ جات اور سو سے زائد دیگر امدادی اداروں کے کئی منصوبوں پر خرچ کی جائے گی۔

پاکستان کی تاریخ کی اس بدترین آفت سے تقریباً دو کروڑ افراد متاثر ہوئے ہیں اور اس کے نتیجے میں انگلستان سے بڑا زمینی رقبہ پانی میں ڈوب چکا ہے اور اقوام متحدہ کے حکام کا کہنا ہے کہ اب اس نئی اپیل سے سیلاب کی اس تباہی و بربادی کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے، جس سے پاکستان اس وقت دوچار ہے۔

بہت بڑا انسانی المیہ

انسانی امور سے متعلق اقوام متحدہ کے شعبے کی سربراہ والیری آموس کا کہنا ہے دنیا نے پہلے ہی بہت فراخدلی کا مظاہرہ کیا ہے اور خود پاکستان کی حکومت و عوام دونوں ہی سیلاب متاثرین کے لیے بہت کچھ کربھی چکے ہیں۔ تاہم انھوں نے کہا کہ ’ آپ یہ نہ بھولیں کہ یہ ایک ایسی آفت ہے جو ابھی تک جاری ہے اب بھی کچھ علاقے ایےس ہیں جہاں پانی دریاؤں کے کناروں سے نکلا چلا آرہا ہے‘۔

والیری آموس کا مزید کہنا ہے کہ دنیا الگ تھلگ کھڑے ہوکر محض اس پیمانے سے تباہی و بربادی کا تماشا نہیں دیکھ سکتی۔ دنیا کو متاثرین کی مدد کا وہ ہدف پورا کرنا ہوگا جس کے وہ منتظر اور ضرورتمند ہیں۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون کا کہنا ہے ’پاکستان کو ایک ایسے انسانی المیے کا سامنا ہے جس سے متعدد مسائل سر اٹھا رہے ہیں، جس کے لیے اسے مدد چاہیے۔ اب بھی کچھ علاقوں میں سیلابی پانی تباہی مچارہا ہے جہاں لوگ مدد کا انتظار کررہے ہیں‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’پاکستان بہت بڑی قدرتی آفت کا مقابلہ کررہا ہے جو اقوامِ متحدہ نے اپنی پینسٹھ سالہ تاریخ میں نہیں دیکھی۔ اب یہ مجموعی طور پر دنیا کے لیے ایک امتحان ہے کہ وہ دوکروڑ متاثرہ افراد کی کیسے مدد کرتی ہے‘۔

ابتدا میں امداد سُست رہی

پاکستان میں ڈیڑھ ماہ سے زائد عرصے سے جاری اس سیلاب میں دسیوں لاکھ افراد اپنا سب کچھ کھوچکے۔ سڑکیں،پل، راستے، ذرائع نقل و حمل، زراعت، معیشت، بنیادی اقتصادی ڈھانچہ، سب کچھ بری طرح متاثر ہوا، یا ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوکر رہ گیا۔ جس کے نتیجے میں پاکستان کی ترقی کا عمل آئندہ چند برسوں تک متاثر رہنے کا خدشہ ہے۔

انسانی امور سے متعلق اقوام متحدہ کے دفتر’اوچا‘ کا کہنا ہے کہ دسیوں ہزار افراد اپنا کاروبار، دکانیں اور معاشی ذرائع کھو چکے اور وہ کاشتکار جو آئندہ برس کی فصلیں کاشت کرنے کی منصوبے بندی کررہے تھے، انھیں اب امداد پر انحصار کرنا ہوگا۔

Image caption بے گھر ہونے والوں میں لاکھوں بچیاں شامل ہیں

صحت سے متعلق حکام بھی تنیبہ کررہے ہیں کہ مضر صحت پانی سے پیدا ہونے والے وبائی امراض پھوٹ پڑنے کا اندیشہ اس لیے بھی ہے کہ سیلاب متاثرین اب جن حالات میں رہ رہے ہیں وہ انتہائی مخدوش ہیں۔

ابتداء میں اس سیلاب کی تباہ کاریوں سے نمٹنے کے لئے امداد کی اپیل پر سست رفتاری دیکھی گئی تھی۔

حکام کا کہنا ہے کہ انہیں پاکستان کی اس مصیبت کو دنیا کے سامنے لانے کے لئے کڑی محنت کرنا پڑ رہی ہے۔ اس یہ چیلنج پاکستان کی کمزور حکومت اور نازک معیشت کے لیے بہت بڑا ہے۔

امریکہ کے خصوصی ایلچی برائے پاکستان و افغانستان رچرڈ ہالبروک کا کہنا ہے کہ حکام کو خود بھی کوشش کرنا ہوگی، محض امداد ہی سے ملک کی تعمیر نو ممکن نہیں ہوسکے گی۔

اسی بارے میں