عمران فاروق کی ہلاکت، ایک نظریے کی موت

عمران فاروق فائل فوٹو
Image caption مہاجر قومی موومنٹ کے سینئر رہنما عمران فاروق کافی عرصے سے لندن میں مقیم تھے

پاکستان کے موجودہ سیاسی منظر میں شہ سرخیوں میں رہنے والی جماعت متحدہ قومی موومنٹ اپنے ایک خالق اور نظریاتی رہنما سے محروم ہوگئی ہے۔

ڈاکٹر عمران فاروق انیس سو ساٹھ میں کراچی میں پیدا ہوئے، انہوں نے اپنے سیاسی سفر کی ابتدا آل پاکستان مہاجر سٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے پلیٹ فارم سے کی، جو انیس سو اسی میں مہاجر قومی موومنٹ کے قیام کی بنیاد بنی تھی۔ انہیں اس تنظیم کے پہلے سیکرٹری جنرل رہنے کا اعزاز بھی حاصل رہا۔

انیس سو اٹھاسی کو جب ایم کیو ایم پہلی مرتبہ صوبائی اور قومی اسمبلی میں داخل ہوئی تو ڈاکٹر عمران فاروق بھی ان میں شامل تھے، وہ قومی اسمبلی میں اپنی جماعت کے پارلیمانی رہنما تھے اور اپنی تقریروں کی ابتدا اکثر شعروں سے کیا کرتے تھے۔

جب ایم کیو ایم نے پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت سے علحیدگی اختیار کی تو ڈاکٹر عمران نے اپنی تقریر کی ابتدا ان الفاظ سے کی جو آج بھی کئی لوگوں کو یاد ہیں۔

’ کبھی اشک آنکھ سے ڈھل گئے اور کبھی آہ لب سے نکل گئی

یہ تمہارے غم کے چراغ ہیں کبھی بجھ گئے کبھی جل گئے‘

میاں نواز شریف کے دور حکومت میں جب انیس سو بانوے میں ایم کیو ایم کے خلاف آپریشن کلین اپ کے نام سے فوجی آپریشن کا آغاز ہوا تو ایم کیو ایم کے سربراہ الطاف حسین نے لندن میں خودساختہ جلاوطنی اختیار کر لی، جس کے بعد تنظیم کے امور چلانے کی ذمہ داری ڈاکٹر عمران فاروق پر عائد کی گئی ، وہ سات سال تک زیر زمین رہ کر یہ امور چلاتے رہے۔

اسی عرصے میں مہاجر قومی موومنٹ کے مرکزی رہنماؤں آفاق احمد، منصور چاچا، عامر خان اور دیگر نے علیحدگی اختیار کرکے مہاجر قومی موومنٹ حقیقی کے نام سے تنظیم کی بنیاد رکھی۔

آپریشن کے دوران ہی اچانک ایک روز ڈاکٹر عمران فاروق کے لندن پہنچنے کی خبر شائع ہوئی، پاکستانی حکام کا کہنا تھا کہ وہ جعلی پاسپورٹ کے ذریعے لندن پہنچنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔

کراچی میں ڈاکٹر عمران فاروق پر قتل، اقدام قتل سمیت کئی سنگین نوعیت کے الزامات عائد تھے جن کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ یہ مقدمات سیاسی بنیاد پرگھڑے گئے ہیں، انہوں نے برطانیہ میں سیاسی پناہ کی درخواست دائر کی جو کوئی گیارہ سال قبل قبول کرلی گئی ۔

انیس سو ستانوے میں مہاجر قومی موومنٹ، متحدہ قومی موومنٹ میں تبدیل ہوگئی اور ڈاکٹر عمران فاروق کا فیصلہ سازی اور حکمت عملی میں اہم کردار رہا، اگست دو ہزار دو کو ڈاکٹر عمران کو تنظیم کے فیصلہ ساز ادارے رابطہ کمیٹی کا کنوینر مقرر کیا گیا، مگر بعد میں بعض اختلافات کی وجہ سے وہ مستعفی ہوگئے۔ کئی مرتبہ ان کی بنیادی رکنیت معطل کرنے کے بھی اعلانات ہوئے جس کے بعد وہ کچھ زیادہ سرگرم نہیں رہے۔

سترہ فروری دو ہزار چار کو ڈاکٹر عمران فاورق کی شمائلہ نذر سے شادی ہوئی، جو اس وقت رکن صوبائی اسمبلی تھیں، سوگواران میں ان کے دو صاحبزاے بھی شامل ہیں۔

ڈاکٹر عمران فاروق کے والد فاروق احمد بھی رکن قومی اسمبلی رہ چکے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’وہ ایک درویش کی زندگی گزار رہا تھا، جتنے کم پیسوں میں وہ گذارہ کر رہا تھا یہ اس کا ہی بس تھا ہم نہیں کرسکتے۔ ایک چھوٹے سے گھر میں ان کی رہائش تھی جہاں وہ اپنے کندھے پر سارا سامان لے کر آتا تھا‘۔

ان کے مطابق انہیں ابھی تک نہیں معلوم کہ یہ حادثہ کیسے ہوا ہے مگر بس ہوگیا ہے۔

یاد رہے کہ اس سے قبل ایم کیو ایم کے مرکزی رہنما عظیم طارق بھی کراچی میں پراسرار انداز میں ہلاک ہوگئے تھے، جس کے ملزم اور اسباب آج تک سامنے نہیں آ سکے ہیں۔

اسی بارے میں