عوامی احتجاج میں شرکت بہت کم

ہندوستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں جاری عوامی احتجاج کے دوران ہونے والی ہلاکتوں کے خلاف پاکستان کے زیرِانتظام کشمیر کی حکومت نے جمعہ کے روز پرامن احتجاجی مظاہروں کی اپیل کی تھی لیکن کشمیر میں اس کا کوئی خاص اثر نظر نہیں آیا۔

لائن آف کنڑول کے دوسری جانب وادی میں تین ماہ سے جاری عوامی احتجاج کے دوران لگ بھگ ایک سو مظاہرین ہلاک ہوئے لیکن اس دوران یہ پہلا موقعہ ہے کہ پاکستان کے زیرِانتظام کشمیر کی حکومت نے ان واقعات کے خلاف احتجاج کی اپیل کی تھی۔

پاکستان کے زیرِانتظام کشمیر کی حکومت کی طرف سے جمعرات کے روز پاکستان اور اس کے زیرِانتظام کشمیر کے کئی اخبارات میں اشہارات شائع کئے جس میں لوگوں سے اپیل کی گئی تھی کہ وہ جمعہ کو بھارت کے زیرِانتظام کشمیر میں ہونے والی ہلاکتوں کے خلاف پر امن احتجاجی مظاہرے کریں۔

لیکن حکومت کی طرف سے اشتہارات پر لاکھوں روپے خرچ کرنے کے باوجود اُس کی اپیل عوامی جوش و خروش نظر نہیں آیا اور لوگوں نے عدم دلچسپی کا اظہار کیا۔

مظفر آباد سے نامہ نگار ذوالفقار علی کا کہنا ہے کہ عینی شاہدین اور پولیس کے مطابق حکومت کی اپیل پر محتلف اضلاع میں مظاہرے تو ہوئے لیکن ان میں شرکاء کی تعداد بہت ہی کم رہی اور مختلف مقامات پر ہونے والے مظاہروں میں ڈیڑھ سو سے چار سو افراد شریک ہوئے۔ ان مظاہروں میں شرکت کرنے والوں میں زیادہ تر سرکاری ملازمین تھے۔

مظفرآباد میں ایک تاجر احسان بانڈے نے کہا وہ حکومت کی طرف سے احتجاج کی اپیل کے بارے میں بے خبر ہیں لیکن انھوں نے کہا کہ اگر انھیں معلوم بھی ہوتا تو وہ حکومت کی اپیل پر احتجاج میں شریک نہیں ہوتے۔

انہوں نے اس کی وجہ یہ بتائی کہ’ ہمارے حکمران اقتدار اور مفادات کی سیاست کرتے ہیں اور وہ کشمیر کی آزادی کے تحریک کے ساتھ مخلص نہیں ہیں اور ہمیں ان پر اعتماد ہی نہیں ہے’۔

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی حکومت کے وزیر برائے صنعت و تجارت چوہدری رخسار احمد نے کہا کہ’ یہ درست ہے کہ ان مظاہروں میں لوگوں کی شرکت بہت کم رہی’۔

انھوں نے کہا کہ یہ اپیل حکمران جماعت مسلم کانفرنس کی طرف سے نہیں تھی بلکہ حکومت نے کی تھی اور ان مظاہروں میں زیادہ تعداد میں لوگوں کی شرکت کی توقع بھی نہیں تھی۔

اگرچہ اس احتجاج کی اپیل حکومت نے کی تھی لیکن اس میں کسی وزیر یا رکن اسمبلی نے شرکت نہیں کی بلکہ خود وزیر اعظم بھی اس موقع پر اسلام آباد میں موجود ہیں۔

اسی دوران پاکستان کے زیر انتظام کشمیر جمعہ کے روز جماعت اسلامی نے بھی مظفرآباد میںاحتجاجی مظاہروں کا اہتمام کیا۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ ان مظاہروں میں بھی لوگوں کی بہت کم تعداد نے شرکت کی اور شرکت کرنے والوں میں زیادہ تر کا تعلق جماعت اسلامی سے تھا۔

ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر میں گذشتہ تین ماہ سے جاری عوامی احتجاج کے دوران اب تک بھارتی سیکروٹی فورسز کے ہاتھوں لگ بھگ ایک سو کشمیری مظاہرین ہلک ہوئے ہلاک ہوچکے ہیں جن میں زیادہ تر نوجوان ہیں۔

لیکن پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی حکومت ، حکمران جماعت یا دیگر سیاسی جماعتوں کی طرف سے وادی میں ہونے والے واقعات کے خلاف ابھی تک کوئی بڑا عوامی رد کا اظہار نہیں ہوسکا۔

اسی بارے میں