’یہ بحران ابھی ختم ہونے والا نہیں‘

فائل فوٹو
Image caption اوکسفیم کی جانب سے پاکستان کے لیے امداد کی اپیل اُس وقت سامنے آئی ہے جب اقوامِ متحدہ پاکستان کے لیے نئی اپیل جاری کرنے والا ہے

برطانوی امدادی ایجنسی اوکسفیم نے کہا ہے کہ پاکستان میں سیلاب کے نتیجے میں پیدا آنے والا یہ بحران ابھی ختم ہونے سے بہت دور ہے اور اگر پاکستان کی مدد نہ کی گئی تو صورتحال مزید خراب ہو سکتی ہے۔

امدادی ادارے کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی ادارے سیلاب سے متاثر پاکستان کی مدد کرنے اپنا بھرپور کردار ادا کریں۔

اوکسفیم کی جانب سے پاکستان کے لیے امداد کی اپیل اُس وقت سامنے آئی ہے جب اقوامِ متحدہ بھی پاکستان کے لیے نئی امدادی اپیل جاری کرنے والا ہے۔

اقوامِ متحدہ نے پاکستان میں سیلاب کے ابتدائی دنوں میں چار سو انسٹھ ملین ڈالر کی امداد کا اعلان کیا تھا جس کا چونسٹھ فیصد حصہ تاحال وصول ہو سکا ہے۔ انیس ستمبر کو اقوامِ متحدہ کی امدادی اپیل میں امدادی رقم میں اضافے کا امکان ہے۔

اوکسفیم کا کہناہے کہ پاکستان میں آنے والے سیلاب سے اب تک چار کروڑ افراد متاثر ہوئے ہیں جنہیں خوارک کی کمی کا سامنا ہے۔ تنظیم کی ہیومینٹیرین ڈائریکڑ جین ککلنگ نے کہا ہے کہ اگر متاثرہ افراد کی مدد نہ کی گئی تو اُن علاقوں میں خوراک کی کمی کے باعث بیماریاں پھیلنے کا خطرہ ہے۔

اقوامِ متحدہ کے مطابق پاکستان میں سیلاب سے متاثر ستر فیصد سے زیادہ افراد کے پاس پینے کا صاف پانی نہیں ہے اور اسّی فی صد سے زیادہ افراد کو بیت الخلاء کی سہولت میسر نہیں ہے۔

برطانوی امدادی ایجنسی اوکسفیم کی ڈیزاسٹرز ایمرجنسی کمیٹی نے پاکستان کے لیے اب تک چوّن ملین پونڈ کی امداد اکھٹی کی ہے۔

دوسری جانب آسٹریلیا نے پاکستان کے سیلاب زدگان کے لیے اپنی امداد میں سو فیصد سے زائد اضافے کا اعلان کیا ہے۔

آسٹریلوی وزیرِ خارجہ کیون رڈ نے جمعرات کو پاکستان میں جنوبی پنجاب کے سیلاب زدہ علاقوں کا دورہ کیا تھا۔ اس موقع پر وزیرِ خارجہ کیوِن رڈ نے اعلان کیا کہ آسٹریلیا پاکستان کے سیلاب زدگان کو چار کروڑ ڈالر کی اضافی امداد دے گا۔

انہوں نے کہا ’اس ملک نے جس قدرتی آفت کا سامنا کیا ہے، ضروری ہے کہ سب دوست مل کر عملی طور پر اپنا حصہ ڈالیں‘۔

انہوں نے بتایا کہ اضافے کے بعد مجموعی آسٹریلوی امداد ساڑھے سات کروڑ ڈالر ہو جائے گی جو اقوامِ متحدہ، بین الاقوامی امدادی اداروں اور آسٹریلیا کی غیر سرکاری تنظیموں کے ذریعے پاکستان کے سیلاب زدگان تک پہنچے گی۔ کوٹ ادو میں بنائے گئے ہسپتال کے بارے میں وزیرِ خارجہ کیون رڈ نے کہا کہ وہاں پر تعینات ایک سو اسی آسٹریلوی سوِل اور فوجی اہلکار مقامی طبی کیمپوں کی استطاعت بڑھانے کی کوشش کریں گے۔

آسٹریلوی وزیرِ خارجہ کیون رڈ نے اپنی امداد براہِ راست حکومتِ پاکستان کی بجائے بین الاقوامی امدادی اداروں کے توسط سے سیلاب زدگان تک پہنچانے کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ آسٹریلیا کی حکومت کسی بھی ہنگامی حالت میں کسی بھی ملک کے لیے یہی طریقۂ کار اختیار کرتی ہے کیونکہ بین الاقوامی امدادی اداروں کے پاس متاثرین تک پہنچنے کی پیشہ ورانہ صلاحیتیں ہوتی ہیں۔

اس موقعہ پر پاکستانی وزیرِ خارجہ شاہ محمود نے بتایا کہ نومبر میں اسلام آباد میں ایک بین الاقوامی ڈونر کانفرنس بھی بلائی جائے گی۔ ان کے بقول اکتوبر میں، اس کانفرنس سے قبل حکومتِ پاکستان ڈی این اے (ڈمیج نیڈ اسیسمنٹ) یعنی نقصانات پورے کرنے کی ضروریات کا جائزہ مکمل کر لے گی جس میں سیلاب سے پاکستان کی معیشت کو پہنچنے والے نقصان کا تخمینہ لگایا جائے گا۔

انہوں نے سیلاب زدہ علاقوں کا دورہ کرنے پر اپنے آسٹریلوی ہم منصب کا شکریہ ادا کیا اور بتایا کہ آسٹریلیا نے پاکستان کے ساتھ دوطرفہ تعاون کو وسعت دینے کے لیے ایک نیا معاہدہ طے کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس پر دستخط کے لیے وہ عنقریب کینبرا جائیں گے۔

پاکستانی وزیرِ حارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ اگر ابتدائی مراحل میں امدادی رقوم بین الاقوامی اداروں کے توسط سے آتی ہیں تو اس سے پاکستان کے بارے میں پراعتماد رائے قائم کرنے میں مدد ملے گی۔

اقوامِ متحدہ نے پاکستان میں سیلاب کے ابتدائی دنوں میں چار سو انسٹھ ملین ڈالر کی امداد کا اعلان کیا تھا جس کا چونسٹھ فیصد حصہ تاحال وصول ہو سکا ہے۔ انیس ستمبر کو اقوامِ متحدہ کی امدادی اپیل میں اضافے کا امکان ہے۔

اسی بارے میں