’امداد عالمی برادری کے مفاد میں ہے‘

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کے سربراہ انتونیو گوئتیراز کے مطابق سیلاب سے ہونے والی تباہی میں پاکستان کی مدد کرنا خود عالمی برادری کے مفاد میں ہے۔

بی بی سی کو انٹرویو میں پناہ گزینوں سے متعلق اقوام متحدہ کے ادارے یو این ایچ سی آر کے سربراہ اور سابق پرتگالی وزیراعظم انتونیو گوئتیراز نے کہا کہ سیلاب کی تباہی کی مثال نہیں ملتی اور اس مشکل وقت میں عالمی برادری کو اسی انداز اور جذبے سے پاکستانیوں کی مدد کے لیے آگے بڑھنا ہوگا جس جذبے سے پاکستان کئی عشروں سے لاکھوں افغان پناہ گزینوں کی میزبانی کر رہا ہے۔

تاہم دوسری جانب پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے افغانستان اور پاکستان کے لیے امریکی خصوصی ایلچی رچرڈ ہالبروک نے کہا ہے کہ سیلاب کے بعد تعمیرِنو کے لیے پاکستان کو دسیوں ارب ڈالر درکار ہوں گے جس کا بڑا حصہ پاکستان کو اپنے ذرائع سے حاصل کرنا ہوگا۔

انتونیو گوئتیراز نے کہا ’افغان پناہ گزینوں کی کئی عشروں سے میزبانی کرکے پاکستان نے اظہار یکجہتی اور فیاضی کی مثال قائم کردی ہے۔ اس لیے میرا خیال کہ عالمی برادری کی طرف سے اسی طرح کی فیاضی کی امید کرنے میں پاکستانی حق بجانب ہیں۔ لیکن یہ معاملہ صرف فیاصی کا نہیں بلکہ عالمی برادری کے اپنے مفاد کا بھی ہے۔ اگردس لاکھ بےگھر لوگ، دوکروڑ متاثرین خود کو تنہا اور بے یار و مددگار محسوس کریں گے تو ان میں بیزاری پیدا ہوگی اور یہاں عدم استحکام ہوگا۔۔۔تو اس مشکل وقت میں پاکستان کی مدد کو آنا خود عالمی برادری کے مفاد میں بھی ہے۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ان کا ادارہ دوسرے امدادی اداروں اور ممالک کے ساتھ مل کر پاکستان کے لیے مزید امداد حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

دوسری جانب پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے افغانستان اور پاکستان کے لیے امریکی خصوصی ایلچی رچرڈ ہالبروک نے کہا ہے کہ سیلاب کے بعد تعمیرِنو کے لیے پاکستان کو دسیوں ارب ڈالر درکار ہوں گے جس کا بڑا حصہ پاکستان کو اپنے ذرائع سے حاصل کرنا ہوگا۔

ریڈیو پاکستان کے تحت ملکی اور غیر ملکی نشریاتی اداروں کے نامہ نگاروں کے ساتھ جمعہ کو ایک نشست میں امریکی خصوصی ایلچی رچرڈ ہالبروک کا کہنا تھا کہ ہنگامی انسانی امداد کے بعد تعمیرِنو کے لیے پاکستان کو جو اربوں ڈالر درکار ہوں گے اس کے بڑے حصے کا انتظام خود پاکستان کو ہی کرنا ہوگا۔

’پاکستان کو اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے مزید مالی وسائل کا خود ہی انتظام کرنا ہوگا۔ آپ کی حکومت کے پاس کچھ منصوبے ہیں۔ میری صدر زرداری سے کل بات ہوئی ہے اور آج میں وزیرخزانہ سے بھی ملوں گا۔ لیکن یہ سب کچھ آپ کی حکومت پر منحصر ہے۔ صاف بات یہ ہے کہ درکار وسائل میں جو بھی کمی ہوگی وہ عالمی برادری کی طرف سے پوری نہیں کی جائے گی۔‘

انہوں نے مزید کہا امداد دینے والے ملکوں کے اپنے بھی مسائل ہیں۔ انہوں نے ایک حالیہ امریکی رپورٹ کا حوالہ بھی دیا کہ خود امریکہ میں چار کروڑ لوگ غربت کا شکار ہیں اور ان کی مدد امریکہ کی ترجیح ہے۔ انہوں نے پاکستان میں وسائل کی کمی اور دہشت گردی کے خلاف امریکی جنگ پر استعمال ہونے والے پاکستان کے وسائل میں باہمی تعلق کو بھی رد کر دیا۔

افغانستان میں کرزئی حکومت کے تحت بدعنوانی کے حوالے سے رچرڈ ہالبروک کا کہنا تھا کہ امریکہ افغانستان میں کرپشن کے خاتمے کے مشن پر نہیں ہے۔

’افغانستان میں امریکی سویلین اور فوجی اہلکاروں دونوں کا یہ تجزیہ ہے کہ طالبان کے خلاف جنگ جیتنے میں کرپشن ایک مسئلہ ہے۔ ہم بدعنوانی کے خاتمے کے لیے افغانستان میں نہیں لڑ رہے ہیں بلکہ ہم کرپشن کے اس لیے مخالف ہیں کہ اس جنگ میں کامیابی کے لیے ایسا کرنا ضروری ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ افغانستان سے پاکستان کے اہم اور جائز مفادات وابستہ ہیں اور پاکستان کا وہاں بڑا اہم کردار ہے۔ رچرڈ ہالبروک نے بتایا کہ افغان پارلیمان نے پاکستان کے ساتھ تجارتی راہداری کے معاہدے کی توثیق کر دی ہے جب کہ امید ہے کہ جلد ہی اس معاہدے کی پاکستان بھی توثیق کردے گا۔

اسی بارے میں