کوئٹہ کا بے ساختہ پن تو گیا!

بی بی سی اردو کے وسعت اللہ خان پاکستان میں آنے والے سیلاب سے متاثرہ علاقہ جات کے دورے کا احوال ایک ڈائری کی صورت میں بیان کر رہے ہیں۔ پیش ہے اس سلسلے کی تینتیسویں کڑی جو انہوں نے کوئٹہ سے بھیجی ہے۔

بدھ، پندرہ ستمبر ( کوئٹہ، بعد از سہ پہر)

کوئٹہ عید کی تعطیلات کے بعد معمول پر آرہا ہے۔مگر اسے بھی بڑے شہروں والی بیماری لگ گئی ہے۔ یعنی کاروباری مراکز صبح دس گیارہ بجے کے بعد کھلتے ہیں۔ سات برس پہلے جب میں آیا تھا تو آٹھ ساڑھے آٹھ بجے شہر کھل جاتا تھا۔ کنٹونمنٹ کے علاقے میں قائم واحد چائنیز ریسٹورنٹ دوپہر اور شام کو کچھا کھچ بھرا رہتا تھا۔ لیکن اب لوہے کے بیریرز اور’کہاں جانا ہے ، کیوں جانا ہے ، شناختی کارڈ دکھائیے‘ جیسے سوالات کے سبب لوگ کم ہی اس طرف کا رخ کرتے ہیں۔ اور تو اور نوآبادیاتی زمانے کا میرا پسندیدہ ہوٹل لورڈز جو چھاؤنی کے مرکزی گیٹ کے باہر ہے وہاں بھی اب پوچھے گچھے بغیر چوکیدار دروازہ نہیں کھولتا یہاں سات برس پہلے چوکیدار ہی نہیں ہوتا تھا۔۔سات برس پہلے میں کسی سرکاری اہلکار سے بھی ملتا تھا تو وہ ابتدائی پندرہ بیس منٹ کی احتیاط پسندی کے بعد خود بخود سیاست کے اتار چڑہاؤ پر بات شروع کردیتا ۔اب سرکاری افسر تو رہے ایک طرف صحافی بھی ادھر ادھر دیکھ کر بات کرتے ہیں۔جانے کون کس کا آدمی ہو؟؟

سیلاب کی ڈائری: خصوصی ضمیمہ

سات برس پہلے کوئٹہ کے بے فکروں کا دن مغرب کے بعد شروع ہوتا تھا اور ان کا سورج رات بارہ ساڑھے بارہ بجے کے بعد غروب ہونا شروع ہوتا تھا۔اب دس بجے کے بعد کتا بھی سڑک چھوڑ کرچلتا ہے۔ وہ کوئٹہ جسے میں جانتا تھا اس کوئٹہ کا بے ساختہ پن ختم ہوچکا ہے۔ وجوہات آپ سب کے علم میں ہیں۔ جن کے علم میں نہیں ہیں وہ ان سے پوچھ لیں کہ جن کے علم میں ہیں۔

دوپہر کے بعد میری کمشنر کوئٹہ محمد نسیم لہڑی سے ملاقات ہوئی۔ مقصود یہ تھا کہ سیلابی ریلیف کی بابت کچھ معلوم کروں۔انکی مہربانی کہ دو وزرا کی موجودگی کے باوجود بھی پوری توجہ سے میرے ہر سوال کا جواب دیا۔ویسے بھی آج کے بلوچستان میں اگر کوئی شخص رکنِ اسمبلی ہونے کے بعد بھی وزیر نہ ہو تو وہ خود کو عجیب نظروں سے دیکھتا ہے۔کمشنر لہڑی سے گفتگو کا لبِ لباب کچھ یوں ہے:

’اس وقت ضلع کوئٹہ ( یعنی کوئٹہ شہر) میں دس سرکاری کیمپ اور سینتالیس غیر سرکاری شیلٹر ہیں۔ان تمام پناہ گاہوں میں لگ بھگ تیس ہزار سیلاب گزیدہ موجود ہیں۔سب سے بڑا سرکاری کیمپ ایسٹرن بائی پاس پر ہے۔ جہاں سات ہزار کے لگ بھگ پناہ گزیں ہیں۔مسلم ہینڈز نامی این جی او نے رمضان کے پندرہ دنوں میں یہاں کے باسیوں کو پکا پکایا کھانا اور جانوروں کے لیے چارہ فراہم کیا۔ بعد ازاں اس کیمپ کے مکینوں کو خشک راشن دیا جارہا ہے۔جبکہ دس بستروں کا ایک عارضی اسپتال بھی قائم کیا گیا ہے۔ہزار گنجی کے علاقے میں الہدی نامی این جی او بارہ سو پناہ گزینوں کی دیکھ بھال کررہی ہے۔اسی علاقے میں جمیعت اہلِ حدیث بھی تین سو خاندانوں کا خیال رکھ رہی ہے ۔اسکے علاوہ عالمی ادارہِ صحت، یونیسیف ، ورلڈ فوڈ پروگرام ، اقوامِ متحدہ ہائی کمیشن برائے مہاجرین اور ریڈ کراس والے بھی خوراک و طب کی مد میں صوبائی حکومت اور بلوچستان رورل سپورٹ پروگرام کے تحت امداد کررہے ہیں۔لیکن اب تک حکومت اور این جی اوز بارہ سو خیموں کا ہی انتظام کرپائے ہیں۔

کیمپوں سے باہر لگ بھگ بیس ہزار سفید پوش بھی ہیں جو اپنے عزیز و اقارب کے تعاون سے کوئٹہ میں رہ رہے ہیں۔ زیادہ تر پناہ گزینوں کا تعلق سندھ کے ضلع جیکب آباد اور بلوچستان کے دو اضلاع جعفر آباد اور نصیر آباد سے ہے۔ ابتدا میں ان لوگوں کو سبی میں ٹھہرانے کی کوشش بھی کی گئی۔لیکن وہاں کی گرمی کے سبب انہوں نے کوئٹہ کو ترجیح دی۔بلکہ کچھ خاندان تو کوئٹہ سے بھی آگے نکل گئے ۔جیسے نوشکی اور چاغی میں تقریباً بارہ سو کے لگ بھگ لوگ اپنے عزیز و اقارب کے ہاں رہ رہے ہیں۔مگر مقامی انتظامیہ بھی انکا خیال رکھنے کی کوشش کررہی ہے۔

ضلع کوئٹہ کی انتظامیہ کو چودہ ارکانِ صوبائی اسمبلی کی جانب سے تین کروڑ روپے امدادی کاموں کے لئے دیئے گئے ہیں ۔جبکہ حکومتِ بلوچستان نے سیلاب زدگان کی امداد و بحالی کے لئے پچاس کروڑ روپے مختص کئے ہیں ۔ وفاقی حکومت نے دو ارب روپے کی امداد کا یقین دلایا ہے۔

دوسرا مرحلہ پناہ گزینوں کی واپسی کا ہے۔جن جن علاقوں میں پانی اتررہا ہے وہاں سے آئے ہوؤں نے واپس جانا شروع کردیا ہے۔فی الحال واپس جانے والوں میں جیکب آباد کے پناہ گزینوں کی تعداد زیادہ ہے۔نجی شعبے کے لگ بھگ ایک سو ٹرانسپورٹرز نے پناہ گزینوں کی واپسی آسان بنانے کے لئے فی ٹرانسپورٹر دو بسوں کے پھیرے کی پیش کش کی ہے اگر حکومت انہیں صرف ڈیزل مہیا کردے تو۔‘

یہ تھی کمشنر کوئٹہ نسیم لہڑی کی بریفنگ۔ جس وقت میں انکے دفتر میں موجود ہوں اسوقت بھی کوئٹہ شہر کے ستر فیصد پٹرول پمپ بند پڑے ہیں۔ عید کے بعد سے پٹرول اور ڈیزل کا کال پڑا ہوا ہے۔اور ایرانی پٹرول کی سمگلنگ کی حوصلہ شکنی نے حالات اور پتلے کردیئے ہیں۔مضافاتی پٹرول پمپس پر پٹرول اب سو روپے لیٹر مل رہا ہے۔عید کے موقع پر ڈیڑھ سو روپے لیٹر مل رہا تھا۔

کوئٹہ میں پٹرول براستہ آر سی ڈی ہائی وے کراچی سے آتا ہے۔لیکن آرسی ڈی ہائی وے تو کھلی ہوئی ہے ۔پھر ستر روپے لیٹر کا پٹرول سو روپے میں کیوں مل رہا ہے ۔اگر ذخیرہ اندوزی بھی ہورہی ہے تو کہاں ہورہی ہے اور یہ کال ہرسال عید اور بعد کے دنوں میں ہی کیوں پڑ تا ہے؟ اس کا جواب کسی کے پاس نہیں ہے۔

ایک اور معمہ بھی سمجھ میں نہیں آرہا۔ کوئٹہ سے جعفر آباد تک ریلوے لائن میں سیلاب نے کوئی شگاف نہیں ڈالا۔چلئے مان لیا کہ جعفر آباد میں ڈیرہ اللہ یار سے آگے ڈیڑھ ماہ پہلےشگاف پڑنے کے سبب ریل جیکب آباد اور سکھر تک نہیں جاسکتی۔لیکن ٹرین سبی یا ڈیرہ اللہ یار تک بھی کیوں نہیں جارہی۔کیا محکمہ ریلوے سیلاب زدگان کی واپسی میں کوئی ہاتھ نہیں بٹا سکتا۔ ریلوے حکام کے پاس اسکے دو بڑے سادہ سے جواب ہیں۔اول یہ کہ ٹرین کھینچنے والے زیادہ تر انجن سکھر میں کھڑے ہیں۔دوم جو انجن سبی یا کوئٹہ میں ہیں۔ریلوے کے سکھر کوئٹہ ڈویژن کے پاس اتنا بجٹ نہیں ہے کہ ان میں تین تین ہزار لیٹر ڈیزل ڈلوا سکے۔

Image caption ہندو پنچائت کے صدر کے مطابق بلوچستان میں لگ بھگ پچاس ہزار نفوس پر مشتمل ہندو کمیونٹی اور پانچ سو کے لگ بھگ سکھ آباد ہیں

ایک اور سوال بھی ذہن میں کلبلا رہا ہے۔یہ بیشتر کیمپ اور امدادی اداروں کا میلہ کوئٹہ میں ہی کیوں لگا ہے؟؟ اسکا جواب ہمیشہ کے شکی کچھ مقامی صحافی یہ دیتے ہیں کہ ایک تو انتظامیہ تن آسان ہے۔ دوم متاثرہ علاقوں میں انتظامیہ کا موثر وجود تاحال نہیں ہے۔ سوم حکومت اور حساس ادارے پسند نہیں کرتے کہ این جی اوز بلوچستان جیسے حساس صوبے میں اپنی مرضی سے کھلے بندوں گھومیں۔ کوئٹہ میں انکی سرگرمیوں کو ’سٹریم لائن‘ کرنا زیادہ آسان ہے۔اور انکی دی گئی امداد خود تقسیم کرنے سے متاثرین میں سرکاری اداروں کا امیج بھی بہتر کرنے کی کوشش بھی پیشِ نظر ہے۔پھر بھی اگر کوئی غیر سرکاری ادارہ ازخود کوئٹہ سے باہر نکلنے پر اصرار کرے تو اسے روکا نہیں جاتا۔ بس یہ کہہ دیا جاتا ہے کہ اگر آپ خطرہ مول لینا ہی چاہتے ہیں تو آپ کی مرضی۔ ہمارے پاس اتنے وسائل نہیں کہ ہم ہر ایک کو سیکورٹی مہیا کرسکیں۔اس کے بعد کتنی غیر سرکاری تنظیمیں امداد تقسیم کرنے کا شوق پورا کریں گی۔یہ آپ سمجھ سکتے ہیں۔

کمشنر آفس سے نکل کر میں نے کوئٹہ ہندو پنچائت کے صدر ہیرا نند کی تلاش شروع کردی۔وہ کسی اجلاس میں شرکت کے سبب بالمشافہ نہ مل سکے البتہ انہوں نے فون پر بتایا کہ اس وقت بلوچستان میں لگ بھگ پچاس ہزار نفوس پر مشتمل ہندو کمیونٹی اور پانچ سو کے لگ بھگ سکھ آباد ہیں۔ جیکب آباد ، جعفر آباد اور نصیر آباد سے لگ بھگ سات سو ہندو خاندان کوئٹہ پہنچے جنہیں آریہ سماج مندر ، کرشنا مندر اور بالمیک مندر میں ٹھرایا گیا۔آریہ سماج اور کرشنا مندر میں لنگر کا باقاعدہ انتظام بھی کیا گیا۔ زیادہ تر خاندان واپس چلے گئے ہیں۔

اسکے علاوہ خانہ بدوش ہندو باگڑی کمیونٹی کے ڈھائی ہزار کے لگ بھگ سیلاب زدگان سریاب روڈ پر ایک کیمپ میں ٹھہرائے گئے۔انکی حفاظت کے لئے فرنٹیر کانسٹیبلری متعین ہے۔ جبکہ ایف سی، ہندو پنچائت اور ڈان باسکو نامی ادارہ کھانے پینے کی ضروریات کا خیال رکھ رہے ہیں۔ لیکن یہ خانہ بدوش بھی اب کیمپ کی زندگی سے اکتا کر خانہ بدوشی کی سوچ رہے ہیں۔

گو آج صبح کوئٹہ میں ساڑھے نو بجے وارد ہونے کے بعد میں ایک لمحے کے لیے بھی نچلا نہیں بیٹھ پایا مگر ایک مصروفیت اب بھی باقی ہے۔میں کوئی کیمپ دیکھنا چاہتا ہوں۔ایک صحافی دوست کہہ رہا ہے کہ سورج غروب ہوچکا ہے۔ایسٹرن بائی پاس والے کیمپ میں اسوقت جانا مناسب نہیں کیونکہ راستہ سریاب روڈ سے گزرتا ہے۔اور دھشت گردی کی زیادہ تر وارداتیں اسی سڑک پر ہوتی ہیں۔قریب میں بوائے سکاؤٹس ایسوسی ایشن کا کیمپ ہے اگر آپ وہاں جانا چاہیں تو بخوشی جا سکتے ہیں۔

بوائے سکاؤٹس ایسوسی ایشن کے وسیع احاطے میں درختوں کی بہتات ہے اور انہی کے درمیان پچاس ساٹھ خیمے تین قطاروں میں گڑے ہوئے ہیں۔میں نے دو تین پناہ گزینوں سے کریدنے کی کوشش کی۔

کیسا خیال رکھا جارہا ہے آپ کا؟

جی ہر طرح سے خیال رکھا جارہا ہے۔کسی شے کی کمی نہیں ہے۔ بچوں کے کھیلنے کے لئے ایک بڑا سا گراؤنڈ ہے۔سیکورٹی کا نظام بھی ٹھیک ہے۔ کوئی مسئلہ ہو تو رضاکاروں میں سے کوئی نہ کوئی ہر وقت ڈیوٹی پر ہوتا ہے۔

میں نے خیموں کی قطاروں کے درمیان گھوم پھر کر دیکھا۔ذرا ذرا فاصلے پر گیس کے چولہے جل رہے تھے جن پر خواتین کھانا تیار کررہی تھیں اور بچیاں انہیں دیکھ رہی تھیں۔یہ گیس پلاسٹک کے لمبے سے لچکدار پائپ کے زریعے سپلائی ہورہی تھی۔کھانا پکانے کے بعد گیس آف ہوجاتی ہے اور چولہے ایک طرف رکھ دئیے جاتے ہیں۔۔۔واہ واہ۔۔۔

صبح ہی صبح مجھے ہرنائی جانا ہے۔کوئٹہ سے پچانوے کیلومیٹر دور ہے۔ راستہ کچا، سنسان اور اوندھا سیدھا ہے۔انیس سو ستانوے میں جب ہرنائی میں زلزلہ آیا تھا تو اسوقت میرے بہت ہی سینئر ساتھی علی احمد خان نے اس راستے پر سفر کیا تھا۔ بقول انکے آدھے بال بیوی کی قربت نے سفید کردیئے اور باقی آدھے کوئٹہ سے ہرنائی تک کے سات گھنٹے کے سفر میں سفید ہوگئے۔علی احمد خان کے سر پر تو سفید ہونے کے لئے بال باقی تھے۔مجھ فارغ البال کے پاس تو کہنے کے لیے بھی کچھ نہیں۔۔ ۔۔۔شب بخیر۔۔۔سی یو ان ہرنائی۔

اسی بارے میں