کراچی ٹارگٹ کلنگ، نو افراد ہلاک

فائل فوٹو
Image caption گزشتہ چوبیس گھنٹوں میں نو افراد کو ہلاک کیا گیا ہے، جن میں ایم کیو ایم اور کالعدم سپاہ صحابہ کے کارکن بھی شامل ہیں۔

کراچی میں ایک مرتبہ پھر سیاسی و مذہبی جماعتوں کے کارکنوں کی ہلاکت کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے اورگزشتہ چوبیس گھنٹوں میں نو افراد کو ہلاک کیا گیا ہے، جن میں ایم کیو ایم اور کالعدم سپاہ صحابہ کے کارکن بھی شامل ہیں۔

لیاقت آباد میں نامعلوم افراد نے فائرنگ کی ہے جس میں دو افراد ہلاک اور کئی زخمی ہوگئے ہیں، جنہیں عباسی شہید ہسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔

واقعے کے بعد مشتعل افراد نے ہنگامہ آرائی کی ہے۔ ایس پی لیاقت آباد خواجہ نوید کا کہنا ہے کہ لیاقت آباد میں دونوں افراد کی ہلاکت رینجرز کی فائرنگ میں ہوئی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ یہ افراد رضویہ میں ہلاک ہونے والے تنویر عباس کی نمازے جنازہ میں شرکت کے لیے جارہے تھے کہ فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔

اس سے قبل ملیر میں پیر کی صبح نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ میں ایک شخص ہلاک ہوگیا ہے، جس کی شناخت ضیااسلم کے نام سے ہوئی ہے جو پنجابی پختون اتحاد کا کارکن بتایا جاتا ہے۔ اسی طرح ابراہیم حیدری کے علاقے سے ایک تیس سالہ شخص کی تشدد شدہ لاش ملی ہے، پولیس کا کہنا ہے کہ مقتول انور کا تعلق پاکستان پیپلز پارٹی سے ہے۔

دوسری جانب رضویہ، نانگن چورنگی ، انچولی، نارتھ ناظم آباد اور سہراب گوٹھ کے علاقوں میں گزشتہ روز صورتحال کشیدگی رہی، اس سے قبل رضویہ تھانے کے حدود میں سرسید گرلز کالیج کے قریب مسلح افراد کی فائرنگ میں سینتیس سالہ تنویر عباس نقوی ہلاک ہوگیا، پولیس کا کہنا ہے کہ مقتول کا تعلق کالعدم تحریک جعفریہ سے تھا۔

مجلس وحدت مسلمین کے رہنما علامہ ظفر نقوی اور دیگر کا کہنا ہے کہ حکومت ٹارگٹ کلنگز کے واقعات کو روکنے میں ناکام ثابت ہوئی ہے۔

’سنہ دو ہزار نو کے دوران آٹھ اور نو محرم کے جلوسوں میں بم حملے، اس کے بعد عاشورہ اور چہلم کے جلوسوں میں بم دھماکے اور اس کے بعد مسلسل ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں سینکڑوں شیعہ افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ مگر صوبائی حکومت کالعدم تنظیموں اور طالبان کی سرکوبی کے بجائے انہیں تحفظ فراہم کر رہی ہے۔ جب اوپر سے وزیر ساتھ دیتے ہیں تو نیچے پولیس اور انتطامیہ ان پر ہاتھ ڈالتے ہوئی گھبراتی ہے ایسی صورتحال میں کیسے ملزم گرفتار ہوں گے۔‘

ادھر یوسی ناظم آباد کے دفتر کے باہر بیٹھے ہوئے نادر مسیح کو نامعلوم افراد نے بلاکر فائرنگ کی جس میں وہ فوت ہوگیا مقتول ایم کیو ایم کا کارکن بتایا جاتا ہے، ایک دوسرے واقعے میں یوسف پلازہ کے قریب ایف بی ایریا میں بتیس سالہ ریحان ولد غیاث الدین مسلحہ افراد کے حملے میں ہلاک ہوگیا جس کا تعلق متحدہ سے بتایا جاتا ہے۔

متحدہ قومی موومنٹ نے ان ہلاکتوں کی مذمت کی ہے، تنظیم کے پارلیامانی رہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ شہر کے حالات خراب کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ انہوں نے وفاقی اور صوبائی وزرا داخلہ کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔

’کل شام اچانک سے دہشت گردوں اور قاتلوں کے گروہ سرگرم ہوگئے ہیں اور انہوں نے اس کراچی کو جو پہلے ہی اپنے ایک عظیم رہنما کے سوگ میں مبتلا تھا اسے خون میں نہلانا شروع کردیا ہے۔‘

ڈاکٹر فاروق ستار کا کہنا تھا کہ شہر میں پولیس، رینجرز اورسرکاری ایجنسیوں کی موجودگی کے باوجود مسلح دہشت گرد معصوم شہریوں کوگولیوں کانشانہ بنارہے ہیں مگر انہیں روکنے والا کوئی نہیں ہے، اس سے وہ سمجھنے پر مجبور ہیں کہ حکومت اور خاص طور پر وزارت داخلہ ان واقعات کی ذمہ دار ہے،اگر ایسانہیں ہے تو پھر انہیں یہ جواب دیا جائے کہ شہرمیں د ہشت گردی کا یہ بازار اچانک کیسے گرم ہوگیا؟

دریں اثنا گزشتہ روز نیو کراچی مسلم ٹاون میں موٹر سائیکل پر سوار افراد نے گلی میں بیٹھے ہوئے افراد پر فائرنگ کی جس میں اہلسنت و جماعت ( کالعدم سپاہ صحابہ) کے کارکن محمد نعمان، انصار اور پچیس سالہ نبیل زخمی ہوگئے جو ہپستال جاتے ہوئے زخموں کی تاب نہ لاکر فوت ہوگئے، محمد نعمان تنظیم کے کراچی میں مرکزی یونٹ کے صدر تھے۔

کالعدم سپاھ صحابہ کے جنرل سیکریٹری ڈاکٹر محمد فیاض کا کہنا ہے کہ گزشتہ پندرہ روز میں ان کے دس کارکنوں کو ٹارگٹ بناکر ہلاک کیا گیا ہے۔

’ہمارے کارکنوں کو مسلسل ٹارگٹ کیا جارہا ہے، ہم یہ سمجھتے ہیں کہ شیعہ لابی کو آگے لانے کی کوشش کی جارہی ہے، کچھ لوگ سیاسی جماعتوں کی آڑ میں شیعہ لابی کو پروان چڑہا رہے ہیں ان کو گرفت میں لایا جائے اور یہ جماعتیں ان لوگوں کو بیدخل کریں اگر حکومت مداخلت کرے تو قاتل بچ نہیں سکتے۔‘

اسی بارے میں