کرم ایجنسی، جھڑپیں، پانچ مزید ہلاکتیں

کرم ایجنسی، سیکورٹی کی ایک فائل تصویر
Image caption عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ علاقے میں اب بھی وفقے وقفے سے لڑائی کا سلسلہ جاری ہے

پاکستان کے قبائلی علاقے کرم ایجنسی میں حکام کا کہنا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے متحارب قبائل کے مابین لڑائی روکنے کےلیے پہاڑی علاقوں کی جانب پیش قدمی شروع کردی ہے اور منگل کی صبح تک سارے علاقے کو کنٹرول کرکے وہاں سکیورٹی اہلکاروں کو تعینات کر دیا جائے گا۔

دوسری طرف پیر کو ہونے والی جھڑپوں میں پانچ مزید افراد کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں۔

کرم ایجنسی کے پولیٹکل ایجنٹ سید مصدق شاہ نے بی بی سی سے ٹیلی فون پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سکیورٹی فورسز نے مینگل اور توری بنگش قبائل کے مابین تین ہفتوں سے جاری لڑائی روکنے کےلیے پہاڑی علاقوں کی طرف پیش قدمی شروع کر دی ہے۔

انہوں نے کہا کہ شام تک تمام اہم پہاڑی چوٹیوں تک سکیورٹی فورسز کے دستے پہنچ جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ منگل کی صبح تک تمام جنگ زدہ علاقوں کو محفوظ بناکر وہاں سکیورٹی فورسز کو تعینات کردیا جائے گا۔

پولیٹکل ایجنٹ کے مطابق سکیورٹی فورسز کو دونوں فریقوں کے مشران اور قبائلی عمائدین کی مکمل حمایت حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت علاقے میں امن و امان بحال کرانے کےلیے کسی بھی اقدام سے دریغ نہیں کریگی۔

پیشاور سے نامہ نگار رفعت اللہ اورکزئی نے بتایا ہے کہ اپر کرم ایجنسی کے علاقے شلوازن تنگی میں مخالف قبائل کے درمیان جاری جھڑپوں میں پانچ مزید افراد کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ علاقے میں اب بھی وقفے وقفے سے لڑائی کا سلسلہ جاری ہے اور فریقین ایک دوسرے کے مورچوں پر بھاری ہتھیاروں سے حملے کر رہے ہیں۔

دو دن پہلے فریقین کے مابین عارضی جنگ بندی کا اعلان کیا گیا تھا۔ تاہم ایک دن کے وقفہ کے بعد قبائل نے فائر بندی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایک دوسرے کے ٹھکانوں پر ایک مرتبہ پھر حملے شروع کئے۔

اس لڑائی نے مزید شدت اختیار کرلی اور اس دوران بعض قبائل نے دیہاتوں پر حملے کرکے پندرہ بیس کے قریب مکانات کو بھی نذرآتش کر دیا تھا۔

سکیورٹی فورسز نے بھی لڑائی روکنے کےلیے فریقین کے مورچوں پر توپ بردار ہیلی کاپٹروں سے شیلنگ کی تھی جس میں چند افراد مارے بھی گئے تھے۔

خیال رہے کہ تقریباً تین ہفتوں سے مینگل اور توری بنگش قبائل کے درمیان پانی اور راستے کے تنازعے پر لڑائی کا سلسلہ شروع ہوا تھا۔

بتایا جاتا ہے کہ ایک قبیلے نے پانی بند کیا ہوا ہے جبکہ دوسرے قبیلے نے راستہ دینے سے انکار کیا ہوا ہے۔

ان قبائل کے درمیان یہ تنازعات پچھلے چالیس سالوں سے چلے آرہے ہیں جس کی وجہ سے کئی مرتبہ خون ریز جھڑپیں بھی ہو چکی ہیں۔

حکومت کے مطابق حالیہ جھڑپوں میں اب تک چالیس کے قریب افراد ہلاک ہوچکے ہیں جبکہ مقامی ذرائع نے مرنے والے افراد کی تعداد ایک سو پچاس سے زائد بتائی ہے۔

کرم ایجنسی میں پچھلے کئی برسوں سے فرقہ وارانہ تشدد کے واقعات ہوتے رہے ہیں جس میں سینکڑوں لوگ ہلاک ہوچکے ہیں۔ علاقے میں کشیدگی کے باعث تمام اہم سڑکیں اور شاہراہیں تقریباً تین سال سے بند پڑی ہیں جس سے لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ کشیدگی کی بنیادی وجہ فریقین کی طرف سے ایک دوسرے کے علاقوں پر قبضہ اور بعض مقامات سے مقامی لوگوں فراد علاقہ بدر کرنا بتایا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق حکومت علاقے میں پائیدار امن برقرار رکھنے اور بند سڑکیں کھولنے میں مکمل طورپر ناکام دکھائی دیتی ہے۔

اسی بارے میں