فیس معافی کا معاملہ، حکومتوں کو نوٹس

لاہور ہائی کورٹ
Image caption یہ درخواست ہائی کورٹ بار کے سابق سیکرٹری رانا اسد اللہ خان نے دائر کی ہے

لاہور ہائی کورٹ نے اس درخواست پر وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو نوٹس جاری کردئیے ہیں جس میں یہ استدعا کی گئی ہے کہ صوبے کی مختلف یونیورسٹیوں میں زیر تعلیم ان طلبہ کی فیس معافی کردی جائے جن کا تعلق سیلاب زدہ علاقوں سے ہے۔

چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ جسٹس خواجہ محمد شریف نے درخواست پر ابتدائی سماعت کے بعد وفاقی اور صوبائی حکومت کے وکلا کو ہدایت کی کہ وہ درخواست میں اٹھائے گئے مسئلہ پر حکومتی موقف عدالت میں پیش کریں۔

نامہ نگار عبادالحق کا کہنا ہے کہ یہ درخواست ہائی کورٹ بار کے سابق سیکرٹری رانا اسد اللہ خان نے دائر کی ہے اور اس میں یہ موقف اختیار کیا گیا کہ سیلاب نے جنوبی پنجاب کے اضلاع میں بڑے پیمانے پر تباہی مچائی ہے اور سیلاب کے پانی سے ان علاقوں میں رہنے والے لوگ جہاں بےگھر ہوئے ہیں وہاں ان کا ذریعہ معاش بھی ختم ہوگیا ہے ۔

Image caption درخواست میں کہا گیا تھا کہ سیلاب سے بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی اور طلباء فیس دینے کی حالت میں نہیں ہیں

درخواست گزار وکیل کا کہنا ہے کہ سیلاب سے متاثر علاقوں تعلق رکھنے والے لڑکے اور لڑکیوں کی ایک بڑی تعداد صوبے کے مختلف تعلیمی اداروں میں پڑھ رہے ہیں اور ان میں اکثریت ایسی ہے جن کو اپنے پڑھائی جاری رکھنے کے لیے اب نئے سمسٹر کے لیے فیس ادا کرنی ہے لیکن ان کے گھر والے سیلاب کے بعد اب اس قابل نہیں رہے کہ وہ اپنے بچوں کی فیس ادا کرسکیں ۔

وکیل نے یہ خدشہ ظاہر کیا ہے کہ فیس کی عدم ادائیگی کی وجہ سے اب یہ طلبہ اپنی تعلیم جاری نہیں رکھ سکیں گے۔

رانا اسد ایڈووکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ بعض طلبہ نے سیلاب کے باعث اپنی فیس معافی کے لیے اپنے اپنے تعلیمی اداروں میں درخواستیں بھی دی ہیں لیکن اب تک ان کی کوئی شنوائی نہیں ہوئی۔

ان کا کہنا ہے کہ ملکی آئین کی شق دو الف کے تحت تعلیم ہر شہری کا بنیادی حق ہے اور کسی شہری کو اس کے آئینی حق سے محروم نہیں رکھا جاسکتا۔

درخواست گزار وکیل نے مختلف عدالتی فیصلوں کا حوالے دیا اور یہ موقف اختیار کیا کہ شہریوں کو تعلیم کی سہولت دینا کسی ریاست یا مملکت کی ذمہ داری ہے اور اس سے کسی صورت انحراف ممکن نہیں ہے۔

رانا اسد ایڈووکیٹ نے عدالت سے استدعا کی کہ وہ متعلقہ حکام کو یہ ہدایت کی جائے کہ وہ سیلاب کے پانی میں زیر آب آنے والے متاثرہ علاقوں کے طلبہ کی فیس معاف کریں تاکہ ان طلبہ کے تعلیمی مستقبل کو محفوظ کیا جا سکے۔

اسی بارے میں