سیلاب متاثرین کے لیے ’وطن کارڈ‘

نیشنل ڈیٹا بیس رجسٹریشن اتھارٹی (نادرہ) کے حکام کا کہنا ہے کہ حالیہ سیلاب سے متاثر ہونے والے علاقوں سے متعلق صوبوں سے جو معلومات ملیں گی اُن کی روشنی میں متاثرہ خاندانوں کو وطن کارڈ کے نام سے امدادی کارڈ تقسیم کیے جائیں گے جن سے بیس ہزار روپے نکلوائے جاسکیں گے۔

ڈپٹی چیئرمین نادرہ طارق ملک نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اب تک دو صوبوں سندھ اور پنجاب میں ان امدادی کارڈز کی تقسیم کے لیے اکیس سینٹر بنائے گئے ہیں جن میں سے چودہ سندھ میں جبکہ سات سینٹر پنجاب میں بنائے گئے ہیں۔ ان میں سندھ میں تین سکھر اور تین کراچی میں جبکہ بدین، گڑھی خدا بخش پنوں عاقل اور شکار پورمیں بھی کارڈ تقسیم کرنے کے لیے مراکز قائم کیے گئے ہیں۔ جبکہ پنجاب میں مظفر گڑھ، میانوالی اور عیسی خیل شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان سینڑز پر ابھی تک پینتیس ہزار خاندانوں کو وطن کارڈ تقسیم کیے جاچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سیلاب سے متاثرہ افراد کو مزید امداد دینے کا فیصلہ وفاقی حکومت کرے گی۔

ڈپٹی چیئرمین کا کہنا تھا کہ سیلاب سے متاثرہ افراد کی بحالی اور تعمیر نو کے لیے جاری کیے جانے والے ان امدادی کارڈزمیں آدھی رقم وفاقی حکومت اور آدھی رقم متعلقہ صوبہ دے رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جہاں پر صوبائی حکام کہتے ہیں کہ فلاں علاقے میں کارڈ تقسیم کرنے کے لیے سینٹر کھول دیے جائیں تو نادرہ، متعلقہ بینک اور ضلعے کے حکام ملکر اُس علاقے میں سینٹر کھول دیتے ہیں۔

طارق ملک کا کہنا تھا کہ صوبہ خیبر پختون خواہ اور بلوچستان سے ابھی تک سیلاب سے متاثرہ افراد کا ڈیٹا موصول نہیں ہوا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر اور گلگت اور بلتستان میں سیلاب سے متاثرہ افراد کی بحالی اور تعمیر نو کے لیے امدادی کارڈ کی مد میں دی جانے والی رقم وفاقی حکومت دے گی۔

واضح رہے کہ حکومتی اعدادو شمار کے مطابق دو کررڑ سے زائد افراد حالیہ سیلاب کی وجہ سے متاثر ہوئے ہیں جبکہ اقوام متحدہ کے اداروں کے مطابق اس سیلاب کی وجہ سے دو کروڑ دس لاکھ سے زائد افراد متاثر ہوئے ہیں۔

صوبہ خیبر پختون خواہ کی قدرتی آفات سے نمٹنے والے ادارے کے ترجمان متین خان کا کہنا ہے کہ اُن کے ادارے کی رپورٹ کے مطابق صوبے میں سیلاب کی وجہ سے دو لاکھ پچیس ہزار خاندان متاثر ہوئے ہیں۔ بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت بھی اپنے طور پر سیلاب سے متاثرہ افراد کا ڈیٹا اکھٹا کر رہی ہے۔

متین خان کا کہنا تھا کہ انہوں نے تمام ریکارڈ نادرہ کو بھجوا دیا ہے اور آئندہ چند روز میں صوبے میں بھی امدادی کارڈ کی تقسیم کے لیے سینٹر کھول دیئے جائیں گے۔

نادرہ کے ڈپٹی چیئرمین کا کہنا ہے اُن کے ادارے کو متاثرین میں امداد تقسیم کرنے کا تجربہ ہے اور اسی ادارے نے پاکستان کے قبائلی علاقوں میں شدت پسندوں کے خلاف جنگ کے نتیجے میں نقل مکانی کرنے والے چار لاکھ خاندانوں میں دس ارب روپے تقسیم کیے تھے۔

انہوں نے کہا کہ سیلاب سے متاثرہ سے متاثرہ افراد کو امداد کی تقسیم کو شفاف بنانے کے لیے صوبائی حکومت اور نادرہ کے حکام ایک دوسرے کے ریکارڈ کی تصدیق کرتے ہیں جس کے بعد متاثرہ افراد کو کارڈ جاری کیے جاتے ہیں۔

طارق ملک کے مطابق کارڈ کی تقسیم کے بعد عالمی بینک اور اقوام متحدہ کے ادارے کا عملہ امدادی کارڈ حاصل کرنے والوں کو حالیہ سیلاب میں اُن کے ہونے والے نقصانات کا تخمینہ لگانے کے لیے ایک فارم دے رہا ہے تاکہ مستقبل میں عالمی برادری کی طرف سے ملنے والی امداد کی صورت میں متاثرین کو مزید امداد دی جاسکے۔

حالیہ سیلاب میں جو مویشی ہلاک ہوئے ہیں اُن سے متعلق نادرہ کی ڈپٹی چیئرمین کا کہنا ہے کہ ایسے افراد جن کے مویشی سیلاب میں بہہ گئے ہیں، ان کو معاوضہ دینے سے متعلق حکومت کی طرف سے ابھی تک کوئی ہدایات نہیں ملیں۔

وفاقی سیکرٹری خوراک و زراعت جنید اقبال چودھری کے مطابق حالیہ سیلاب کی وجہ سے ملک بھر میں کھڑی فصلوں کو شدید نقصان پہنچا ہے اور اب تک دو سو پچاس ارب روپے کا نقصان پہنچا ہے تاہم اُن کے بقول ملک میں گندم کا زخیرہ موجود ہے اور دوسرے ملکوں سے گندم منگوانے کی ضرورت پیش نہیں آئے گی۔

اسی بارے میں