کراچی میں رینجرز کے خلاف احتجاج

کراچی میں خواتین نے احتجاجی جلوس نکالا
Image caption خواتین نے احتجاجی جلوس نکالا جس میں رینجرز کے خلاف نعرے بازی کی گئی

کراچی میں رینجرز کی مبینہ فائرنگ میں دو افراد کی ہلاکت کے خلاف شہر کے بعض علاقے بند رہے جبکہ شیعہ تنظیموں کی جانب سے احتجاج کیا گیا ہے، جس میں رینجرز سے پولیس کے اختیارات واپس لینے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

کراچی کے علاقوں رضویہ، لیاقت آباد، انچولی، جعفر طیار سوسائٹی اور گلبہار میں منگل کو کاروبار بند رہا، جبکہ احتجاج کا مرکز گولیمار تھا، جہاں خواتین نے احتجاجی جلوس نکالا جس میں رینجرز کے خلاف نعرے بازی کی گئی۔ اس دوران علاقے میں تمام کاروبار بند رہا۔

مظاہرین کا کہنا تھا کہ رینجرز شہر میں بحالی امن کے بجائے شہریوں پر گولیاں برسا رہے ہیں، اس لیے رینجرز کو بے اختیار کر کے اسے واپس سرحدوں پر بھیجا جائے۔

شیعہ ایکشن کمیٹی اور مجلس وحدت مسلمین کی جانب سے حالیہ ہلاکتوں کے خلاف جمعہ کو احتجاج کا اعلان کیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ گزشتہ روز بعض افراد رضویہ سوسائٹی میں ہلاک ہونے والے تنویر عباس کے جنازے میں شرکت کے لیے جا رہے تھے کہ کچھ مشتعل افراد اور رینجرز اہلکاروں میں تلخ کلامی ہوئی جس کے بعد فائرنگ کا سلسلہ شروع ہوگیا، پولیس کے مطابق اس فائرنگ میں دو افراد ہلاک اور چار زخمی ہوگئے۔

دوسری جانب رینجرز کے ترجمان کا کہنا ہے کہ رینجرز اور پولیس کے اہلکار چورنگی لیاقت آباد میں معمول کی ڈیوٹی سرانجام دے رہے تھے کہ وہاں سے گزرنے والے ہجوم میں سے اچانک کچھ شرپسند عناصر نے رینجرز اور پولیس اہلکاروں پر فائرنگ کی جس پر رینجرز اور پولیس نے جوابی کارروائی کی۔

یاد رہے کہ شہر میں گزشتہ تین روز سے جاری پرتشدد واقعات میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد نو ہوگئی ہے، جن میں تین کالعدم تنظیم سپاہ صحابہ، دو متحدہ قومی موومنٹ، پاکستان پیپلز پارٹی اور پنجابی پختون اتحاد کا ایک ایک کارکن شامل ہے۔

متحدہ قومی موومنٹ نےحالیہ واقعات کو شہر کے امن کے خلاف سازش قرار دیا ہے، گزشتہ روز متحدہ کے پارلیمانی رہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے واقعات کو وفاقی اور صوبائی وزرا داخلہ کی ناکامی قرار دیا تھا۔

دوسری جانب صوبائی مشیر اطلاعات جمیل سومرو کا کہنا ہے کہ ایم کیو ایم حکومت کا حصہ ہے، کامیابیاں اور ناکامیاں مشترکہ ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹارگٹ کلنگز جمہوری نظام اور حکومت کو کمزور کرنے کی کوشش ہے، جس طرح دیگر علاقوں میں بم دھماکے کیے جا رہے ہیں ویسے ہی کراچی میں ٹارگٹ کلنگز ہو رہی ہیں۔

اسی بارے میں