وین دریا میں گرگئی: پندرہ بچے ہلاک، پندرہ لاپتہ

فائل فوٹو
Image caption مطفر آباد میں ایسے حادثات معمول بن چکے ہیں

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے دارلحکومت مظفرآباد کے قریب ایک اسکول وین کے دریا جہلم میں گرنے سے پندرہ بچے ہلاک، جبکہ دو خواتین ٹیچرز سمیت کوئی پندرہ بچے لاپتہ ہیں۔

حکام کہتے ہیں بچوں کے زندہ بچنے کی امید کم ہوتی جارہی ہے۔

یہ حادثہ مظفرآباد کے جنوب میں سولہ کلومیر کے فاصلے پر ہٹیاں دوپٹہ میں اس وقت پیش آیا جب یہ بچے اسکول جارہے تھے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ یہ وین تین سے چار سو فٹ نیچے دریائے جہلم میں جاگری۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ مقامی لوگ امدادی کارروائیوں میں حصہ لے رہے ہیں اور فوج اور پولیس اہکار اس کام میں مدد دے رہے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ اس وین میں دو خواتین ٹیچرز سمیت پچیس سے تیس بچے سوار تھے اور دیگر لاپتہ بچوں اور ٹیچرز کی تلاش جاری ہیں۔

پولیس کے مطابق اس واقعہ میں ڈرائیور بھی زخمی ہوا، جسے اسپتال میں منتقل کردیا گیا ہے۔

مظفرآباد کے ڈپٹی کمشنر چوہدری امتیاز نے بی بی سی کو بتایا کہ ابھی تک پندرہ بچوں کی لاشیں دریائے جہلم سے نکالی جاچکی ہیں جبکہ چار بچوں کو زندہ بچا لیا گیا ہے- ان میں دو شدید زخمی ہیں جنھیں مظفرآباد کے ایک اسپتال میں منتقل کیا گیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ اس وین میں دو خواتین ٹیچرز سمیت تیس سے پینتیس بچے سوار تھے، دیگر بچوں اور ٹیچرز کی تلاش جاری ہے۔

پولیس کے مطابق حادثے کے وقت وین میں گنجائش سے زیادہ بچے سوار تھے۔

اسلام آباد سے نامہ نگار ذوالفقار علی کا کہنا ہے کہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں ٹریفک حادثات معمول بن چکے ہیں اور ان کی عمومی وجوہات مخدوش سٹرکیں اور پبلک ٹرانسپورٹ کی خراب حالت، ڈرائیوروں کی غفلت، پہاڑی علاقے میں تیز رفتاری سے گاڑیاں چلانا اور گاڑیوں میں گنجائش سے زیادہ مسافر سوار کرنا ہیں۔

پانچ برس قبل آنے والے زلزلے کے نتیجے میں پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے متاثرہ علاقوں میں بیشتر سڑکیں تباہ ہوکر رہ گئی تھیں اور ان میں کئی سڑکوں کو قابل استعمال تو بنادیا گیا ہے لیکن ابھی تک دوبارہ تعمیر نہیں کیا جاسکا ہے۔

اسی بارے میں