’سپاٹ فکسنگ‘، قومی اسمبلی میں شدید تنقید

Image caption یہ معاملہ ابھی برطانیہ میں زیرتفتیش ہے لہذا اس بارے میں کوئی بات حتمی طور پر نہیں کہی جا سکتی:اعجاز جاکھرانی

پاکستان کی قومی اسمبلی نے قومی کرکٹ ٹیم کے ان ارکان کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے جن پر برطانیہ میں سپاٹ فکسنگ میں ملوث ہونے کے الزامات ہیں۔

منگل کو قومی اسمبلی میں اس مسئلے پر توجہ دلاؤ نوٹس پر اظہار خیال کرتے ہوئے ارکان اسمبلی نے کہا کہ یہ کرکٹرز ملک کے لیے شرمندگی کا باعث بنے ہیں لہذا الزامات ثابت ہونے پر انہیں سخت سزا دی جائے۔

اس موقع پر پاکستان کرکٹ بورڈ بھی ارکان اور وزیر کھیل کی تنقید سے نہیں بچ سکا۔

نامہ نگار آصف فاروقی کے مطابق وفاقی وزیر کھیل اعجاز جاکھرانی نے ایوان کو بتایا کہ کرکٹ بورڈ کے معاملات عارضی بندوبست کے تحت چلائے جا رہے ہیں اور اس انتظام میں کرکٹ بورڈ حکومت یا پارلیمنٹ کو جواب دہ نہیں ہے لہذا بورڈ کے کسی عہدیدار کے خلاف ان کی وزارت کوئی کارروائی نہیں کر سکتی۔

مسلم لیگ ن سے تعلق رکھنے والے رکن قومی اسمبلی حنیف عباسی نے یہ معاملہ ایوان میں اٹھاتے ہوئے کہا کہ’سپاٹ فکسنگ میں مبینہ طور پر ملوث کرکٹرز نے پیسوں کی خاطر قومی غیرت کا جنازہ نکال دیا ہے۔‘

رکن قومی اسمبلی شیریں ارشد کا کہنا تھا کہ ان کرکٹرز نے پوری قوم کو شرمندہ کر دیا ہے۔’یہ لوگ جتنا پیسہ کماتے ہیں اس کا کوئی حساب ہی نہیں ہے۔ حکومت کو چاہئے کہ ان کرکٹرز کے اثاثوں کی چھان بین کی جائے اور تحقیقات کے دوران ان کی نقل و حرکت پر نظر رکھی جائے۔‘

Image caption آئی سی سی نے پاکستان کے تین کھلاڑیوں پر کونسل کے ضابطے کی مبینہ خلاف ورزی کا الزام لگاتے ہوئےانہیں عارضی طور پر معطل کیا ہوا ہے

نزہت صادق نے کہا کہ اس بات کی بھی تحقیق کی جائے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے ان کھلاڑیوں کو ٹیم میں دوبارہ شامل کیوں کیا جنہیں بورڈ چند ماہ پہلے ہی پابندی اور جرمانے جیسی سزائیں دے چکا تھا۔

حنیف عباسی نے یہ بھی استفار کیا کہ مبینہ بک میکرز کی ٹیم کے ارکان کے کمروں تک رسائی کیسے ممکن ہوئی، اس بارے میں کرکٹ انتظامیہ سے باز پرس کی جائے۔

ان نکات اور اعتراضات کا جواب دیتے ہوئے وزیر کھیل اعجاز جاکھرانی نے کہا کہ چونکہ یہ معاملہ ابھی برطانیہ میں زیرتفتیش ہے لہذا اس بارے میں کوئی بات حتمی طور پر نہیں کہی جا سکتی۔ تاہم انہوں نے تسلیم کیا کہ اس سارے معاملے میں کرکٹ بورڈ کے حکام کی کمزوریاں بھی سامنے آئی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مظہر مجید ٹیم کے بعض ارکان کا ایجنٹ تھا اور اسی بنا پر وہ ٹیم ارکان سے ملتا رہتا تھا۔

اعجاز جاکھرانی نے کہا کہ جب تک پی سی بی کا آئین نہیں بن جاتا، ان کی وزارت کا بورڈ کے معاملات میں کوئی عمل دخل نہیں ہو سکتا۔

اسی بارے میں