ہرنائی، برونائی کیوں نہ بن سکا؟

بی بی سی اردو کے وسعت اللہ خان پاکستان میں آنے والے سیلاب سے متاثرہ علاقہ جات کے دورے کا احوال ایک ڈائری کی صورت میں بیان کر رہے ہیں۔ پیش ہے اس سلسلے کی چونتیسویں کڑی جو انہوں نے ہرنائی سے بھیجی ہے۔

جمعرات سولہ ستمبر (ہرنائی)

ہرنائی کا نام میرے بچپن کی یاداشتوں کا حصہ ہے۔ پہلی مرتبہ چھٹی جماعت کی معاشرتی علوم میں پڑھا تھا کہ انگریزوں نے ہرنائی سے سبی تک انیسویں صدی کے آخر میں ایک ریلوے لائن بچھائی تھی تاکہ ہرنائی کا کوئلہ باہر لے جایا جاسکے۔معاشرتی علوم کے مطابق چونکہ اس علاقے میں بڑی تعداد میں بھیڑیں پالی جاتی تھیں اس لئے پاکستان بننے کے بعد بلوچستان میں اونی کپڑے کی تیاری کا پہلا کارخانہ انیس سو باون میں پاکستان انڈسٹریل ڈویلپمنٹ کارپوریشن ( پی آئی ڈی سی ) نے ہرنائی وولن ملز کے نام سے لگایا تھا۔

سیلاب کی ڈائری: خصوصی ضمیمہ

پھر ہرنائی کا نام میری یادداشت سے محو ہوگیا اور اس یادداشت کو فروری انیس سو ستانوے کے ایک تباہ کن زلزلے نے جھنجوڑا جب ہرنائی کے گردونواح میں اچھا خاصا نقصان ہوا تھا۔ مگر ہرنائی اور سیلاب کا نام ایک ساتھ میں نے کبھی نہیں سنا تھا۔ آج دوپہر یہی جاننے کے لیے کوئٹہ سے تقریباً ایک سو کلومیٹر کے سفر پر نکلا کہ ایک اونچے دور دراز پہاڑی علاقے میں سیلاب کا کیا مطلب ہے؟

سفر کی صعوبتوں کا آغاز کوئٹہ سے نکلتے ہی ہوگیا جب میری گاڑی کے مقامی ڈرائیور نے کچلاک تک پہنچتے پہنچتے یہ انکشاف کیا کہ اس نے بطور کلینر کوئٹہ سے سندھ تک اور بطور ویگن ڈرائیور کوئٹہ سے لورالائی تک تو سفر کیا ہے لیکن وہ یہ نہیں جانتا کہ ہرنائی کیسے پہنچا جاسکتا ہے۔ حالانکہ جس شخص سے میں نے یہ گاڑی کرائے پر لی تھی اس نے مجھے بتایا تھا کہ ’صاحبا تم بے پکر ہوجاؤ۔ میں آپ کو بیسٹ ڈرائیور دے رہا ہوں۔‘

Image caption سیلاب ندیا پار جانے کے لیے انگریز دور کے پل کے دو ستون بھی بطور سووینئر ساتھ لے گیا تھا۔

کچلاک میں پولیس کے ایک سپاہی نے ڈرائیور کو پشتو میں پورا نقشہ اور راستے کے حالات بتائے۔ مجھے یوں لگا جیسے ڈرائیور سب سمجھ گیا ہے۔ زیارت کراس سے ذرا پہلے جب چوڑی پکی سڑک سے ایک راستہ کچے میں اترا تو فور وھیل ڈبل ڈور ٹویوٹا ہائی لکس ہونے کے باوجود ڈرائیور نے مجھے تجویز دی کہ کیا یہ ممکن نہیں ہے کہ آپ اپنا کام پکی سڑک پر ہی کرلیں۔ یہ راستہ تو بہت کچا اور لمبا ہے۔اس تجویز پر میرا دماغ گھوم گیا مگر خود کو فوراً سمجھایا کہ پرامن بقائے باہمی کے اصول کے تحت ہی اس ڈرائیور کے ساتھ گزارہ ہوسکتا ہے۔اس دوران ایک مسافر وین پیچھے سے آئی اور تیزی سے گرد اڑاتی ہوئی آگے نکل گئی۔میں نے ڈرائیور سے کہا کہ حاجی صاحب جب یہ وین جو کہ فور وھیل بھی نہیں ہے آرام سے اتنے مسافروں کے ساتھ اس پتھریلے راستے پر چل سکتی ہے تو ہماری فور وھیلر تو جہاز کی طرح جائے گی۔ ڈرائیور کو غالباً وقتی طور پر اس دلیل نے قائل کرلیا اور اس نے گاڑی کو ایڑ لگادی۔ لیکن پورے راستے اس نے چالیس کلومیٹر فی گھنٹہ سے زیادہ رفتار نہیں بڑھائی اور ہر دس کیلومیٹر کے بعد وہ نیچے اتر کر ٹائر چیک کرتا رہا اور مجھے بتاتا رہا ’صاحبا ٹائر تو بڑا گرم ہوگیا ہے۔‘

یہ سڑک کبھی پتھریلی ہوجاتی تو کبھی مٹی کے سخت رن وے میں تبدیل ہوجاتی، کبھی غائب ہوجاتی تو کبھی پہاڑ پر چڑھ کے ایک جگہ ختم ہوجاتی اور پھر دور کہیں سے اشارے کرتی ’میں یہاں ہوں ںںںںںں۔۔۔‘

میں نے کوئٹہ میں سنا تھا کہ ہرنائی سے زیارت کراس تک اس سڑک کو بلیک ٹاپ بنانے کے لئے دو ہزار پانچ میں ایشیائی ترقیاتی بینک کے قرضے سے دو ارب روپے کا منصوبہ بنایا گیا ہے جسے اکتیس دسمبر دو ہزار سات تک مکمل ہونا تھا۔ لیکن اس دو ارب میں سے کتنے اب تک سڑک پر لگ چکے ہیں اور کتنے نہیں لگے یہ خدا جانے نہ جانے تین ٹھیکیدار اور انہیں ٹھیکہ دلانے والا ضرور جانتا ہوگا۔ ترانوے کلومیٹر کے راستے میں صرف بتیس کلومیٹر سڑک بن پائی ہے اور باقی سڑک غالباً بلوں کی ادائیگی کے تنازعے میں کہیں کھوگئی ہے۔

پہلے دو گھنٹے کے سفر میں کوئی آدم زاد دکھائی نہیں دیا۔پھر پہاڑوں پر بنی اکا دکا جھونپڑیاں گزرنے لگیں۔ پھر پکی سڑک کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے ٹائروں کے نیچے آنے لگے۔ ہرنائی کے مضافاتی علاقے خوست سے اس سڑک نے ذرا مہذب ہونا شروع کیا کیونکہ دائیں جانب کوئلے کی کانیں بھی شروع ہو چکی تھیں۔ ریلوے لائن بھی کہیں سے نمودار ہوجاتی اور پھر غائب ہوجاتی۔ آخر ہمارے ہاں سڑک اور ریل انسانوں کی آسانی کے لئے کیوں نہیں بنائی جاتی تاوقتیکہ اس لائن یا سڑک سے کوئی معاشی یا عسکری مفاد وابستہ نہ ہو۔

مگرہرنائی تا سبی ایک سو چھیالیس کلومیٹر طویل ریلوے لائن پر ٹرین سروس اٹھائیس فروری دو ہزار چھ سے معطل ہے۔ کیونکہ اس دن چار مقامات پر ریلوے ٹریک دھماکوں سے اڑا دیا گیا تھا۔ کچھ دنوں بعد پانچویں مقام پر بھی ٹریک اڑ گیا۔ حکومت کہتی ہے کہ اسے مری قبیلے کے علیحدگی پسندوں نے تباہ کیا۔ وجہ بہرحال جو بھی ہو گزشتہ چار برس سے اسی لاکھ روپے ماہانہ آمدنی دینے والے اس منافع بخش ریلوے سیکشن پرمعدنیات، زرعی اجناس اور مسافروں کی ترسیل کے لیے روزانہ ایک ٹرین کی سروس بھی بند ہے۔ سبی تک زمینی راستہ انتہائی دشوار گزار ہے۔اب ہرنائی والوں کا بیرونی دنیا سے رابطہ صرف دو طرف سے ہے۔ یا تو وہ کوئٹہ جانے کے لیے سو کلومیٹر کا سڑک اور پتھروں پر مشتمل اچھلتا کودتا براہ راست راستہ اختیار کریں یا پھر پکی سڑک سے سنجاوی تک کوئٹہ لورالائی روڈ پر پہنچ کر جہاں چاہیں جائیں۔

ہرنائی کی تحصیل شاہ رگ شروع ہوئی تو چٹیل پہاڑوں پر بھی روئدگی نظر آنی شروع ہوگئی۔ایک بڑے سے پل پر سے گزرتے ہوئے میں نے دیکھا کہ تاحدِ نگاہ بل کھاتے پہاڑی نالے میں سفید دھلے دھلائے پتھروں کا سنگی قالین پگھلی چاندی کی طرح بچھا ہوا ہے۔یہ نشانی تھی اس بات کی کہ چند دن پہلے ہی پانی کا کوئی بڑا اور طاقتور ریلہ اپنے ساتھ نئے پتھروں کو بچھاتا ہوا گزر گیا ہے۔

شاہ رگ سے آگے ناکس کا علاقہ آیا لیکن ریلے نے ندی کا پل مفلوج کردیا تھا اس لیے ہر کس و ناکس ندی کے خشک پاٹ میں سے گزرنے پر مجبور تھا۔طاقتور گاڑیاں اپنے بوتے پر جارہی تھیں۔ جبکہ کمزور گاڑیوں کو ٹریکٹر کھینچ کر ادھر سے ادھر پہنچا رہا تھا۔ یہاں پہلی بار میرے پیارے ڈرائیور نے پوچھا کہ کیا فور وھیل گئیر لگادوں؟ میں نے کہا لگادو۔ اور فور وھیل گئیر لگنے کے بعد گاڑی نے جس سہولت سے ندی کو پار کیا اس پر مجھ سے زیادہ ڈرائیور حیرت زدہ تھا۔’صاحبا فور وھیل گئیر تو زبردست ہوتا ہے۔‘ میں نے پوچھا اس سے پہلے کبھی لگایا ہے۔کہنے لگا پہلی دفعہ کچے راستے پر آیا ہوں۔ میں نے مکیش کے کیسٹ کی آواز اونچی کردی۔ ایسے راستے اور ایسے ڈرائیور کی ہمراہی میں صرف لتا ، رفیع اور مکیش ہی آپ کو دل کے دورے سے بچا سکتے ہیں۔ جو راستہ ساڑھے چار سے پانچ گھنٹے کا تھا وہ ساڑھے سات گھنٹے میں طے ہوا۔

ہرنائی اب سے تین برس پہلے تک سبی کی تحصیل تھی ۔دو ہزار سات میں اسے ضلع کا درجہ دے دیا گیا اور ہرنائی اور شاہ رگ کو تحصیل جبکہ خوست کو سب تحصیل کا درجہ مل گیا۔نئے ضلع کی آبادی ایک ملین کے لگ بھگ ہے۔ جبکہ ہرنائی شہر کی آبادی پچاس ہزار کے قریب بتائی جاتی ہے۔ پچانوے فیصد آبادی پشتون ہے اور اس میں بھی ترین قبیلے کی اکثریت ہے۔لگ بھگ ایک سو ہندو خاندان بھی صدیوں سے آباد ہیں اور کاروبار کرتے ہیں۔ ( انیس سو بانوے میں بابری مسجد کے انہدام کے ردِعمل میں ہرنائی کا اکیلا مندر بھی جل اٹھا۔ مگر شہر والوں نے اسے خود ہی بنوا بھی دیا)۔

معدنیات میں سب سے اہم کوئلہ ہے۔ روزانہ سو کے لگ بھگ کوئلے کے ٹرک لورالائی کے راستے پنجاب کی طرف جاتے ہیں۔ زراعت میں نوے فیصد دارومدار سبزیوں پر ہے اور اس میں بھی غالب حصہ پیاز کی کاشت کا ہے۔ زمین بارانی ہے اور پہاڑی نالوں سے بھی سیراب ہوتی ہے۔ بلوچستان گزشتہ برس تک جس پندرہ سالہ خشک سالی کی لپیٹ میں رہا ہرنائی کی معیشت پر اس کا زیادہ اثر نہیں پڑا۔ زیرِ زمین پانی میٹھا اور وافر ہے۔

البتہ ضلع بننے سے ہرنائی کے لوگوں کو کوئی خاص فائدہ نہیں ہوا۔محکمہ معدنیات کا دفتر سبی میں ہے۔ سیشن جج بھی گزشتہ چار ماہ سے سبی میں بیٹھتا ہے۔ لوگوں کو شنوائی کے لئے پانچ اضلاع پار کرکے سبی پہنچنا پڑتا ہے۔

ضلع بننے کے بعد تحصیل ہسپتال بھی خود بخود ڈسٹرکٹ اسپتال بن گیا۔اس میں اگرچہ تیرہ ڈاکٹر ہونے چاہییں لیکن ایک ڈینٹل سرجن اور ایک لیڈی ڈاکٹر سمیت چار ہیں۔ مگر چاروں ایک ساتھ نہیں پائے جاتے۔ سب نے کئی کئی دنوں کے وقفے سے اپنی اپنی باری مقرر کی ہوئی ہے۔ہسپتال میں ڈاکٹر وزیرخان مری سے ملاقات ہوئی جو یوکرین کے میڈیکل گریجویٹ ہیں۔ بقول ان کے ہسپتال میں لیب ہے مگر ایکسرے مشین بند پڑی ہے۔جبکہ ہلالِ احمر اور پبلک ہیلتھ سکیم کا ایک ایک ڈاکٹر بھی شہر میں موجود ہے۔ شاہ رگ کے تحصیل ہسپتال میں ایک ہی ڈاکٹر ہے اور وہ بھی ڈینٹل سرجن ۔جبکہ ناکس کی سب تحصیل میں بھی ایک ڈاکٹر ہے۔

لیکن پورے ضلع میں ایک بھی پرائیویٹ ڈاکٹر یا نجی اسپتال نہیں ہے۔ ان حالات میں جو کاروبار سب سے زیادہ پھلا پھولا ہے وہ ہے میڈیکل سٹورز کا کاروبار۔ ہرنائی شہر کی پچاس ہزار آبادی کے لئے ستائیس اور شاہ رگ کی پچیس سے تیس ہزار آبادی میں لگ بھگ بیس میڈیکل سٹورز ہیں۔ یہ سٹورز نہ صرف دوائیں فروخت کرتے ہیں بلکہ اپنی سمجھ بوجھ کے حساب سے ڈاکٹری بھی کرتے ہیں۔ مطلب یہ کہ ہرنائی کے بیماروں اور زچگان کے لئے عملی طور پر سو کیلومیٹر دور کوئٹہ کی طبی سہولتیں ہی سنجیدگی سے دستیاب ہیں۔

یہی حال تعلیم کا بھی ہے۔آدھے پرائمری سکول قبائیلی تنازعات کے سبب بند پڑے ہیں۔ہرنائی انٹر میڈیٹ کالج کو دو ہزار سات میں ڈگری کالج کا درجہ دے دیا گیا۔ لیکن تدریسی عملہ انٹر میڈیٹ کالج کا ہی ہے اور اسے بھی تعلیم دینے کے بجائے تنخواہ وصول کرنے میں زیادہ دلچسپی ہے۔

ان حالات میں مرے پر سوواں درہ پہاڑی نالوں کی طغیانی نے مارا۔یہ سیلاب ناگزیر تھا کیونکہ ہرنائی کوہ پانغر کے دامن میں واقع ہے یہاں سے دو بڑے پہاڑی نالے نکلتے ہیں۔پلوسین اور سروتی نامی یہ نالے ہرنائی شہر کےآزو بازو گذرتے ہیں۔اور شہر کو طغیانی سے بچانے کے لئے چار کیلومیٹر پرے پندرہ فٹ سے زائد اونچے دو بڑے پشتے بھی بنائے گئے ہیں۔ مجھے دو مقامی صحافیوں حنیف ترین اور غلام یزدانی نے بتایا کہ ان نالوں میں موسمِ گرما میں ہر سال تھوڑی بہت طغیانی آتی ہے۔ لیکن گذشتہ برس آٹھ اگست میں جو طغیانی آئی اسکے سبب حفاظتی پشتوں میں تین شگاف پڑ گئے۔ ان شگافوں کے سبب شہر کے مضافاتی علاقوں میں نصف فٹ تک پانی بھی آگیا تھا۔ مگر سال بھر انہیں پر کرنے کے لئے کسی انتظامی محکمے نے دلچسپی نہیں دکھائی۔

چنانچہ اس لاپرواہی کی اس مرتبہ بھاری قیمت چکانی پڑی۔ پہلا ریلا ستائیس جون کواور دوسرا چھ جولائی کو آیا۔تیسرا شدید ریلہ انتیس جولائی کو آیا جو پچاس کے لگ بھگ مکانات بہا لے گیا۔ چوتھا ریلہ شدید بارش کے ہمراہ نو اگست کو آیا۔ یہ ریلہ اتنا شدید تھا کہ ایک حفاظتی پشتے کا لگ بھگ ڈیڑھ کلومیٹر اڑا کے لے گیا۔ جس کے بعد پلوسین اور سروتی نالوں نے ہاتھ ملایا اور شہر میں ایک تیسرے نالے کی شکل میں گھس گئے۔ پہلی مرتبہ ہرنائی میں چار فٹ تک پانی کھڑا ہوگیا۔محلہ اختر آباد ، ضیا آباد ، کلی زرمانہ جبکہ ناکس میں کلی مرخانی اور کلی زبگان وغیرہ میں دو سو اکہتر مکانات گرگئے یا بہہ گئے۔ ساڑھے پانچ سو کے قریب خاندان متاثر ہوئے۔

انتظامیہ کے وسائل کا یہ عالم تھا کہ انتیس جولائی کے سیلابی ریلے کے بعد حفاظتی پشتوں میں شگاف پر کرنے کے لئے صرف ایک نجی ایکس کاویٹر دستیاب ہوسکا۔ جس کا کرایہ تین ہزار روپے فی گھنٹہ تھا۔ اس مشین نے تین سے چار گھنٹے کام کیا کیونکہ پٹرول پمپ والا ادھار پر بس اتنا ہی ڈیزل دے پایا۔ انتظامیہ کے پاس ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لئے کوئی فنڈ نہیں تھا۔

میری ملاقات ڈپٹی کمشنر ہرنائی پار الدین غلزئی سے بھی ہوئی۔ لیکن ان تک پہنچتے پہنچتے مجھے مصطفی زیدی یاد آگئے۔

انہی پتھروں پے چل کر اگر آ سکو تو آؤ

میرے گھر کے راستے میں کوئی کہکشاں نہیں ہے

چونکہ سیلابی ریلہ ندیا پار جانے کے لئے انگریز دور کے پل کے دو ستون بھی بطور سووینئر ساتھ لے گیا تھا۔ پل پر سے گزرنے والی ریلوے لائن ہوا میں لٹک رہی تھی۔ ڈی سی صاحب کے نوآبادیاتی دور کے بنگلے کو ملانے والی سڑک میں بھی ریلہ پانچ پانچ فٹ کے شگاف ڈال گیا تھا اس لیے ان تک رسائی کے لئے ندی میں سے گاڑی گزارنا پڑی۔

ڈی سی نے بتایا کہ ’چونکہ متاثرین کی تعداد بہت زیادہ نہیں ہے۔لہذا ماڑی گیس کمپنی، ایس او ایس ولیج اور یو ایس ڈی پی کی جانب سے ملنے والے کچھ خیمے اور فی خاندان چار مہینے کا راشن تقسیم کیا جاچکا ہے۔ البتہ بیس ہزار روپے فی خاندان امدادی رقم کی تقسیم کا کام ابھی شروع نہیں ہوسکا ہے۔ آخری سیلابی ریلے کے دو روز بعد وزیر اعلی اسلم رئیسانی گیارہ اگست کو یہاں تشریف لائے تھے اور انہوں نے حفاظتی پشتوں میں پڑنے والے شگافوں کو بند کرنے کے لیے ایک ہفتے کے اندر اندر سات کروڑ روپے دینے کا اعلان کیا تھا۔گو اس اعلان کو سوا مہینہ ہوچلا ہے۔لیکن مجھے یقین ہے کہ یہ رقم ضرور ملے گی۔‘

سیلاب سے اگرچہ رہائشی املاک کا نقصان بہت زیادہ نہیں ہوا لیکن زراعت کو اچھا خاصا نقصان پہنچا ہے۔ راستے بند ہونے کے سبب پیاز کی بوری جس کی قیمت تین ہزار روپے تک ہوتی ہے گر کر آٹھ سو روپے تک آگئی۔ضلع ہرنائی سے سالانہ چار لاکھ بوری پیاز کوئٹہ ، کراچی، ملتان اور فیصل آباد پہنچتی ہے۔لیکن اس سال شدید بارشوں کے سبب دولاکھ بوری پیاز ضائع ہوگئی۔

جن لوگوں کے گھر تباہ ہوگئے ان میں سے بہتوں نے تینتالیس ایکڑ پر پھیلی مرحوم و مغفور ہرنائی وولن ملز کے آسیب زدہ تین سو لیبر کوارٹرز پر مشتمل کالونی میں فی الحال رہائش اختیار کرلی ہے۔یہ مل قومی بدانتظامی بالخصوص بلوچستان کو نظر انداز کرنے کی مسلسل عادت کا ایک بین ثبوت ہے۔

انیس سو باون سے انیس سو پچھتر تک ہرنائی وولن مل سرکاری سیکٹر کے چند منافع بخش منصوبوں میں شامل تھی۔بعد ازاں کرپشن اور بدنیتی نے ڈاکہ ڈالنا شروع کیا اور انیس سو اٹھاسی میں یہ مل بند کردی گئی۔اس وقت بھی اکاؤنٹ میں پچھتر کروڑ روپے کے لگ بھگ رقم پڑی ہوئی تھی۔پھر بھی سینکڑوں مزدوروں کو طلائی مصافحہ ( گولڈن ہینڈ شیک) کرکے روانہ کردیا گیا۔تاہم مشینری وہیں پڑی رہی جو اب سکریپ میں تبدیل ہوچکی ہے۔

دو برس پہلے سندھ ہائی کورٹ نے مل مالک پی آئی ڈی سی پر مل کی مد میں واجب الادا قرضوں کی ادائیگی میں ناکامی پر کارخانہ زمین سمیت نیلام کرنے کا حکم دیا۔ صرف ایک کروڑ ستر لاکھ روپے کی بولی ہی لگ پائی اور کراچی کی ایک کاروباری پارٹی نے یہ اثاثے خرید لیے۔گزشتہ برس جب اس پارٹی نے مشینری منتقل کرنے کی کوشش کی تو اہلِ ہرنائی نے شدید احتجاج کیا اور مشینری اکھاڑنے نہیں دی۔اہلِ ہرنائی کا خیال ہے کہ ایک نہ ایک دن کوئی نہ کوئی ضرور یہ کارخانہ رواں کرے گا جس کے سبب ہرنائی پوری دنیا میں پھر مشہور ہوجائے گا۔

میں ہرنائی سے لورالائی جانے کے لئے پرتول رہا ہوں۔مرکزی بازار سے گزرتے ہوئے دیکھ رہا ہوں کہ ریلوے لائن کے پھاٹک کے دونوں گیٹ سبزی کی دو دوکانوں کے اندر لے لئے گئے ہیں۔ زیادہ تر دوکانیں ریلوے کی ملکیت ہیں۔ریلوے نے فی دوکان گیارہ بارہ سو روپے ماہانہ پر چند متمول لوگوں کو کرائے پر دے دی ہیں اور پھر ان متمول لوگوں نے اپنے سے کم متمول لوگوں کو یہی دکانیں چار سے پانچ ہزار روپے کرائے پر چڑہا دی ہیں۔ کوئلے کے ذخائر ، پیاز کی فصل ، میٹھے پانی کا خزانہ اور ایک بڑی سی مل ہوتے ہوئے بھی ہرنائی کا متروک ریلوے سٹیشن انیسویں صدی کے پس منظر میں بنائی گئی کسی امریکی کاؤ بوائے فلم کا گرد آلود سیٹ لگ رہا ہے۔ کیا زمانہ تھا جب صدر فیلڈ مارشل محمد ایوب خان موسمی پرندوں کے شکار کے لئے سال میں ایک مرتبہ ہرنائی آیا کرتے تھے اور ہر دفعہ کچھ نہ کچھ دے کر جاتے تھے۔کبھی تالاب تو کبھی اریگیشن چینل تو کبھی کوئی زرعی سکیم ۔۔۔

اگر دل سے سوچ کر دماغ سے منصوبہ بندی کرنے والی کوئی حکومت ہوتی تو ہرنائی برونائی بھی ہوسکتا تھا۔۔۔۔لیکن جیسے حالات ہیں انہیں دیکھ کر تو یہی لگتا ہے کہ جب میں دس سال بعد پھر یہاں سے گزروں گا تو جو پتھر جہاں پڑا ہے۔گندگی کا جو ڈھیر جس جگہ پسرا ہوا ہے انشااللہ اسی جگہ ملے گا۔۔۔بائی بائی۔۔۔۔

اسی بارے میں