سیلاب سے بہتر فصلوں کی امید

Image caption کچھ میدانی علاقوں میں جہاں جہاں سے سیلاب گزرا ہے وہاں کٹاؤ والی مٹی چھوڑ گیا ہے جس سے کلاچی اور درابن کے علاقوں میں زرخیزمٹی کی ایک تہہ آگئی ہے

پاکستان میں حالیہ سیلاب سے جہاں بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہیں وہاں ایسے علاقے بھی ہیں جہاں لوگ سیلاب سے فائدے کی توقع کر رہے ہیں۔

ان علاقوں میں ڈیرہ اسماعیل خان اور ڈیرہ غازی خان کے وہ بارانی علاقے شامل ہیں جہاں اس مرتبہ گندم اور چنے کی بہترین فصل کی توقع کی جا رہی ہے۔ماہرین کے مطابق صرف ڈیرہ اسماعیل خان میں کوئی ڈیڑھ لاکھ ایکڑ زمین اس سیلابی پانی سے سیراب ہو سکے گی۔

ڈیرہ اسماعیل خان کی تحصیل کلاچی اور درابن میں زمینیں بارشوں اور سیلابی پانیوں سے سیراب کی جاتی ہیں جسے رود کوہی نظام آبپاشی کہا جاتا ہے۔

بی بی سی کے نامہ نگار عزیز اللہ خان نے بتایا ہے کہ مقامی زمینداروں کہتے ہیں کہ تقریباً پچاس سال کے بعد ایسا سیلاب آیا ہے جس سے ان کی بیشتر زمینیں سیراب ہوئی ہیں۔

مقامی زمینداوں نے چنے اور گندم کی فصل کی کاشت کے لیے تیاریاں شروع کر رکھی ہیں اور زمین کی تیاری کا عمل جاری ہے۔ ایک زمین دار حاجی سمیع الدین کے مطابق صرف تحصیل کلاچی اور درابن میں ہزاروں ایکڑ اراضی عرصہ دراز کے بعد سیراب ہوئی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ان علاقوں میں ہر سال سیلاب آتے ہیں اور پانی محفوظ کرنے کے لیے انھوں نے بندات قائم کر رکھے ہیں جس سے وافر مقدار میں پانی جمع ہوا ہے۔

ایم مقامی زمیندار محمد افتخار نے بتایا ہے کہ ان کے علاقے میں اس مرتبہ ساری زمینوں پر کاشت کی جا رہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ لوگوں نے سرسوں کی فصل کاشت کر لی ہے جبکہ گندم کی کاشت کے لیے زمین پر شہاگہ پھیرا جارہا ہے۔

پاکستان ایگریکلچرل ریسرچ سنٹر اسلام آباد میں سینیئر انجینیئر نعمان لطیف سدو زئی نے بی بی سی کو بتایا کہ پہاڑوں سے آنے والے سیلابی پانی نے اوپر کی زمینیوں پر کٹاؤ کیا ہے جبکہ نیچے میدانی علاقوں میں جہاں جہاں سیلاب گزرا ہے وہاں کٹاؤ والی مٹی چھوڑ گیا ہے جس سے کلاچی اور درابن کے علاقوں میں زرخیزمٹی کی ایک تہہ آگئی ہے۔

انھوں نے کہا کہ میدانی علاقوں میں پانی پھیل کر آیا ہے اور ان علاقوں میں بھی گیا ہے جہاں ماضی میں کم پانی میسر ہوتا تھا اس لیے اس مرتبہ ان علاقوں میں جانوروں کے لیے چارہ اور پرندوں کے لیے خوراک بھی وافر مقدار میں دسیاب ہوگی۔

ڈیرہ اسماعیل خان میں حالیہ سیلاب سے کوئی ساڑھے سات لاکھ ایکڑ زرعی اراضی متاثر ہوئی ہے جس میں ماہرین نعمان لطیف سدوزئی کے مطابق ساڑھے تین لاکھ ایکڑ رقبہ رود کوہی نظام آبپاشی میں آتا ہے اور اس میں ڈیڑھ لاکھ ایکڑ اراضی پر مثبت اثرات پڑے ہیں جہاں اس مرتبہ اچھی فصلوں کی توقع ہے۔

اسی بارے میں