’یونیورسٹیاں اپنے پاؤں پر کھڑے ہونا سیکھیں‘

شہناز وزیر علی
Image caption ’سرکاری یونیورسٹیوں کو اپنے پاؤں پر کھڑے ہونے کے لیے اپنے فنڈ خود پیدا کرنے کے طریقے ڈھونڈنے ہوں گے‘۔

سماجی شعبے کے لیے وزیراعظم کی مشیر شہناز وزیر علی کا کہنا ہے کہ سرکاری شعبے میں چلنے والی یونیورسٹیوں کے سو فیصد اخراجات اب حکومت نہیں اٹھا سکتی۔

انہوں نے کہا کہ اس کے ساتھ بیرونی دنیا سے ملنے والی امداد پر بھی ملک کے اعلیٰ تعلیمی ادارے نہیں چلائے جا سکتے۔ اس لیے معاشی بحران کے پیش نظر سرکاری یونیورسٹیوں کو اپنے پاؤں پر کھڑے ہونا سیکھنا ہو گا۔

بدھ کے روز وفاقی کابینہ کے اجلاس میں یونیوسٹیوں کا مالی بحران زیر بحث آنے کے بعد اس معاملے میں سرگرم کردار اداکرنے والی وزیراعظم کی مشیر نے بی بی سی کے ساتھ خصوصی انٹرویو میں کہا کہ ملک کو درپیش مالیاتی بحران کے باعث اخراجات میں کمی کا اطلاق ملک کے ہر شعبے پر ہو گا اور تعلیم اور صحت سمیت کوئی ترقیاتی یاغیر ترقیاتی ادارہ یا شعبہ اس کٹوتی سے نہیں بچ سکتا۔

انہوں نے کہا کہ سرکاری یونیورسٹیوں کو اپنے پاؤں پر کھڑے ہونے کے لیے اپنے فنڈ خود پیدا کرنے کے طریقے ڈھونڈنے ہوں گے۔

’دنیا بھر میں یونیورسٹیوں کے سربراہ اپنا ستر فیصد وقت فنڈ ریزنگ میں صرف کرتے ہیں جب کہ ہمارے ہاں ایسا کوئی رواج سرے سے موجود ہی نہیں ہے‘۔

شہناز وزیر علی نے بتایا کہ سرکاری یونیورسٹیوں میں طلبا کی فیس پانچ سو سے ایک ہزار روپے ماہانہ ہے جو نامعقول حد تک کم ہے۔ جب کہ ان یونیورسٹیوں کے ہر ایک طالب علم کو حکومت ساٹھ ہزار روپے سالانہ کی سبسڈی دے رہی ہے۔

وزیر اعظم کی مشیر نے کہا کہ تعلیم کے شعبے کے لیے عام تاثر کے برعکس غیر ممالک سے صرف آٹھ سے نو فیصد رقم ہی امداد کی صورت میں ملتی ہے۔ باقی اخراجات حکومت اپنی جیب سے پورے کرتی ہے۔ اس لیے غیر ملکی امداد کا انتظار یا اس پر انحصار بھی ہمارے تعلیمی مسائل کا حل نہیں ہے۔

’ ہم ہر ایک شعبے کے لیے باہر جا کر اپنا دامن نہیں پھیلا سکتے کہ جی ہمیں اب اس شعبے کے لیے بھی پیسہ دیں۔ بلآخر ہمیں اپنے مسائل خود ہی حل کرنے ہوں گے‘۔

شہناز وزیر علی نے اصرار کیا کہ یونیورسٹیوں کو اپنے شاہانہ اخراجات کم کرنے اور آمدن کے ذرائع اختیار کرنے ہوں گے کیونکہ موجودہ مالی بحران کا یہی دیر پا حل ممکن ہو سکتا ہے۔

’ باقی فوری طور پر حکومت نے کچھ فیصلے آج کیے ہیں کچھ کل کر لیں گے اور وقتی طور پر یہ بحران ایک دو روز میں نمٹ جائے گا‘۔

اسی بارے میں