سندھ کیوں ڈوبا؟

سیلاب

پاکستان میں آنے والے تاریخی سیلاب میں سندھ کے ڈوبنے کی طرح طرح تحویلیں پیش کی جا رہی ہیں۔ کچھ اسے قدرتی آفت مانتے ہیں جب کچھ پاکستان آرمی کو اس کا ذمہ دار سمجھتے ہیں تو کچھ پنجاب حکومت کو ۔ کچھ لوگ سندھی وڈیروں کو موردِ الزام ٹہراتے ہیں۔ حقائق جاننے کے لیے نامہ نگار اعجاز مہر نے کشمور سے کیٹی بندر تک دریائے سندھ کی دونوں جانب سفر کیا ہے۔ یہ اس سلسلے کی تیسری قسط ہے۔

بدھ پندرہ ستمبر

سکھر میں کچھ لوگوں سے ملاقاتوں کے بعد ایسا لگا کہ ٹوڑی بند ٹوٹنے میں فوج نے بھی غفلت برتی۔ یہ جاننے کے لیے صبح سویرے تیار ہو کر ضلع ’کشمور ایٹ کندھ کوٹ‘ میں واقع ٹوڑی بند کی سائٹ دیکھنے کو چل پڑے۔ تقریباً دو سو کلومیٹر کا فاصلہ طے کر کے کندھ کوٹ کے قریب سے کچا راستہ لے کر سیلاب کے حفاظتی بند ہیبت کے اوپر سے ایک سے ڈیڑھ فٹ مٹی میں جب گاڑی چل رہی تھی تو دھول کی وجہ سے مٹی کا ایک طوفان بھی ساتھ ساتھ چل رہا تھا۔ بند کے اوپر متاثرین نے چارپائیاں رکھ کر جانور باندھ رکھے تھے۔ ہیبت بند سے گھوڑا گھٹ بند کی طرف مڑے اور دو گھنٹے بعد متاثرہ ٹوڑی بند پر پہنچے۔ راستے میں کئی ٹریکٹر ٹرالیاں نظر آئیں کچھ بڑے پتھروں سے بھری ہوئی تو کچھ پتھر اتار کر واپس آنے والی خالی ٹرالیاں۔

سندھ کیوں ڈوبا؟ پہلی کڑی

سندھ کیوں ڈوبا؟ دوسری کڑی

ٹوڑی بند ٹوٹنے والی جگہ پہنچے تو فوج کے ذیلی ادارے ’ایف ڈبلیو او‘ کے کرنل محمد بابر سے خیمے میں ملاقات ہوئی۔ سامنے ایک نقشہ لگا تھا اور پتہ چلا کہ کل یہاں آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی آئے تھے اور انہیں بتایا گیا کہ ٹوڑی بند سے رسنے والا پانی بند کردیا گیا ہے جبکہ غوث پور بند سے ابھی بھی پانی رواں دواں ہے۔ کرنل صاحب کافی شریف آدمی لگے انہوں نے تفصیل سے نقشے کی مدد سے سمجھایا کہ بپھرے ہوئے سندھو دریا کو تباہی سے روکنے کے لیے انگریز کے زمانے سے لے کر اب تک تین حفاظتی بند بنائے گئے ہیں۔

پہلا دفاعی بند ٹوڑی ہے دوسرا گھوڑا گھٹ اور تیسرا ہیبت بند ہے۔ جہاں تینوں بند ملتے ہیں اور جنکشن بنتا ہے وہاں سے ٹوڑی لوپ بند شروع ہوتا ہے جو غوث پور بند سے ملتا ہے، جسے پرانا ٹوڑی بند کہتے ہیں۔

پرانے ٹوڑی بند کی سطح دیگر بندوں سے نیچے ہے اور اگر وہ تین فٹ اونچا ہوتا تو شاید اس صدی کی سب سے بڑی یہ آفت نہ آتی۔ کرنل صاحب کے بقول جب پرانے ٹوڑی بند کے اوپر سے پانی بہنا شروع ہوا تو وہ بند ٹوٹ گیا اور بڑا سیلابی ریلا نکلا جس نے ٹوڑی، گھوڑا گھٹ اور ہیبت بندوں کے جنکشن کو توڑ ڈالا۔ جنکشن کے ساتھ انڑ کینال کا ریگولیٹر تھا جسے بھی پانی نے توڑ ڈالا۔ پھر غوثپور بند بھی ٹوٹا تو ایسا لگا کہ جیسے دریا نے رخ تبدیل کردیا ہے۔

سیلابی پانی نے تینوں حفاظتی بندوں کے بعد چوتھی دفاعی لائن بیگاری سندھ المعروف بی ایس فیڈر کے پشتے بھی توڑ ڈالے جو بعد میں آٹھ دس جگہوں سے ٹوٹا اور بپھرے ہوئے ہاتھی کی طرح مکان، کھیتوں سڑکوں، درختوں، کو روندتا ہوا آگے بڑھتا گیا۔ پانچ روز قبل فوجی ترجمان نے بیان جاری کیا تھا کہ ٹوٹے ہوئے بندوں کے شگاف پر ستر فیصد کام مکمل ہوگیا ہے اور چھتیس گھنٹوں میں باقی کام بھی مکمل ہوجائے گا۔ اس اعتبار سے تو صورتحال اس کے برعکس لگی۔ کرنل صاحب نے کشتی کا انتظام کیا اور ٹوڑی بند سے ہوتے ہوئے غوث پور بند کی طرف گئے۔

راستے میں ڈی آئی جی سندھ پولیس سائیں رکھیو میرانی کا تباہ حال گاؤں دیکھا جو شروع میں سیلابی پانی میں نظر ہی نہیں آ رہا تھا۔ ساتھ میں حامد ملک اور جام سوں ھاروں نامی گاؤں کا حال اس سے بھی بد تر تھا۔ کچے کے علاقے میں میرانی، چاچڑ، ملک، سبزوئی، سندرانی اور دیگر قبائل کے لوگ آباد ہیں۔ کرنل صاحب نے بتایا کہ ٹوڑی بند کا شگاف سترہ سو بیس فٹ اور غوثپور بند کا نو سو اسی فٹ چوڑا ہے جسے وہ پُر کرنے میں لگے ہیں۔

کرنل صاحب نے بتایا ’راستے مشکل ہیں روہڑی سے پتھر لاتے ہیں چاچڑ گیس فیلڈ کے پاس جمع کرتے ہیں وہاں سے ٹریکٹر ٹرالی میں ڈال کر ٹوڑی تک لاتے ہیں اور ایک ٹرالی آٹھ گھنٹے میں پہنچتی ہے۔ تیرہ ہزار آٹھ سو چھیالیس پتھر کی ٹرالیاں چاہیں اسی فیصد پتھر آچکا ہے۔ سات اگست کو شگاف پڑا چھبیس اگست کو ایف ڈبلیو او کو ٹھیکہ ملا انتیس اگست کو کام شروع ہوا۔ پتھر لانے کا ٹھیکہ مقامی ٹھیکداروں کو دے رکھا ہے۔ غوثپور بند کے شگاف سے بہنے والے پانی کی رفتار تیز ہے اس لیے بان سے بنے بڑے پنجروں میں آٹھ دس بھاری پتھر پھنسا کر شگاف میں ڈالتے ہیں تاکہ پانی انہیں بہا کر نہ لے جا سکے اور پھر اوپر سے مٹی ڈالتے ہیں‘۔

میں نے کہا کہ ابھی تک پچاس فیصد بھی یہ شگاف پُر نہیں ہوا فوجی ترجمان نے پانچ دن پہلے اور آپ نے کچھ دیر پہلے یہ کیسے کہا کہ ستر فیصد کام مکمل ہوگیا ہے۔ کل آپ نے آرمی چیف کو بتایا کہ ابھی سات روز لگیں گے؟ کرنل صاحب اطمینان بخش جواب نہیں دے سکے۔ زیادہ بحث میں نے بھی مناسب نہیں سمجھی کیونکہ واپس ان کی کشتی میں جانا ہے۔ میں نے سوچا ایف ڈبلیو او کا زیادہ زور وہ شگاف بند کرنے پر ہے جہاں سے پانی اتر گیا ہے اور غوثپور بند جہاں سے اب بھی ٹوڑی کی نسبت زیادہ پانی بہہ رہا ہے اُسے بند کرنے کے لیے صرف ایک کھدائی والی مشین یعنی ایکسکویٹر، چار ٹریکٹر، دو بلڈوزر اور بیس مزدور کیوں۔۔ اگر یہ تعداد دوگنی یا تین گنا زیادہ ہوتی تو شاید اب تک یہ شگاف پُر ہوچکا ہوتا۔

کرنل صاحب سے پوچھا کہ آپ لوگ شگاف بند کرنے کے لیے مٹی بند سے کیوں اٹھا رہے ہیں اور یہ بند کی سطح تو نیچے ہوجائے گی۔ انہوں نے کہا کہ فی الحال ایسا کرنا ضروری ہے بعد میں بند پر مٹی ڈال دیں گے۔ انہوں نے ٹھیکے کی مالیت نہیں بتائی لیکن اخباروں میں ابتدائی طور پر بیس کروڑ کی بات شائع ہوئی ہے۔ دس کروڑ ایف ڈبلیو او کو مل چکے ہیں۔

محکمہ آبپاشی کے ایک اہلکار نے بتایا کہ کچے (دریا کے آس پاس کا علاقہ) میں رہنے والے لوگ اپنے مکانوں کے آنگن اونچے کرنے کے لیے حفاظتی بندوں سے مٹی اٹھاتے رہے ہیں اور کئی جگہوں سے بندوں کی اونچائی کم ہوگئی ہے۔ بعض لوگوں نے تو حفاظتی بندوں کو مضبوط کرنے کے لیے ’پچنگ‘ میں جو پتھر لگائے ہیں وہ تک اٹھا کر اپنے مکانوں کی تعمیر میں استعمال کیے ہیں۔ لیکن مقامی لوگوں سے بات ہوئی تو انہوں نے کہا کہ اکا دکا ایسا واقعہ ہوا ہوگا لیکن سب ایسا نہیں کرتے۔

ان کے بقول محکمہ آبپاشی کے افسر بدعنوان ہیں اور گزشتہ دس برسوں سے بندوں کی مرمت کے مد میں کروڑں روپے ہڑپ کر لیے لیکن بندوں پر بیلچے بھر مٹی تک نہیں رکھی۔ مجھے چند روز پہلے وہ خبر یاد آئی جس میں لکھا تھا کہ گزشتہ تین برسوں میں چھ ارب روپے محکمہ آبپاشی کو دریاؤں، نہروں اور بندوں کی مرمت کے لیے جاری کیے جاچکے ہیں۔ سورج غوثپور بند سے بہنے والے سیابی پانی میں ڈوبنے کے لیے نیچے آ رہا تھا اور ہم نے واپسی کے لیے راستہ ناپنا شروع کیا۔

کشمور سے پیپلز پارٹی کے رکن قومی اسمبلی گل محمد جاکھرانی سے پوچھا کہ بند کیسے ٹوٹا تو انہوں نے اس کی وجہ محکمہ آبپاشی کے متعلقہ حکام کی غفلت بتائی۔ انہوں نے کہا کہ جب پانی ٹوڑی بند کے اوپر سے بہنا شروع ہوا تو آبپاشی کے عملے نے کوئی کام نہیں کیا اور انتظامیہ نے بند کو جان بوجھ کر ٹوٹنے سے نہیں بچایا۔

جب ان سے پوچھا کہ آپ ام لوگوں کو بند ٹوٹنے سے بچانے کے لیے کیوں آگے نہیں لائے جیسا کہ سکھر میں عام لوگوں نے رضا کارانہ کام کیا تو انہوں نے کہا کہ ’ہمیں کسی نے کہا ہی نہیں کہ لوگ دیں‘۔ ان سے کافی بحث ہوئی کہ منتخب نمائندے کی حیثیت سے کیا یہ ان کی ذمہ داری نہیں کہ وہ خود بند پر لوگوں کو لاتے حکومت سے مشینری طلب کرتے تو وہ حکومتی اہلکاروں کی طرح اطمینان بخش جواب نہیں دے سکے۔ انہوں نے کچھ حد تک اس تاثر سے اتفاق کیا کہ قبائلی جھگڑوں کی وجہ سے لوگ خود سے بندوں کی حفاظت کے لیے نہیں آئے۔

کندھ کوٹ کے ایک وکیل عبدالصمد بجارانی نے بتایا کہ دو روز تک پانی ٹوڑی بند کے اوپر سے بہتا رہا ان کا کہنا تھا کہ وہاں دس فوجی اہلکار تھے لیکن انہوں نے کام نہیں کیا، کوئی مشین نہیں منگوائی اور نہ ہی عام لوگوں کو کام کرنے دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ لوگ اپنی مدد آپ کی بنیاد پر آئے تھے تو فوج نے ان پر لاٹھی چارج کرکے انہیں بھگایا اور چند گھنٹے بعد بند ٹوٹا اور قیامت برپا ہوگئی۔

عبدالصمد بجارانی کے مطابق ’میں وثوق سے کہتا ہوں کہ ٹوڑی بند کو توڑا گیا۔۔۔ ٹوٹنے سے نہ بچانا بھی توڑنا ہی ہوا نا۔۔ دریائے سندھ کی بائیں جانب ٹوڑی کے سامنے پاکستان کا سب سے بڑا گیس فیلڈ قادر پور ہے وہاں سے بند ٹوٹنے والا تھا اور وہاں سے بند ٹوٹتا تو پنو عاقل فوجی چھاؤنی بھی ڈوبتی‘۔

ایسی ہی رائے بہت سارے عام لوگوں سے بھی سننے کو ملی۔ کیا واقعی ایسا ہے؟ پڑھیے گا آئندہ قسط میں۔

اسی بارے میں