سرکاری وظیفے جاری رکھنے کا فیصلہ

پنجاب یونیورسٹی
Image caption یونیورسٹیوں کے نوے فیصد تک مکمل ہونے والے ترقیاتی منصوبوں کےلیے بھی فنڈ فراہم کیے جائیں گے

وفاقی حکومت نے سرکاری وظیفوں پر بیرون ملک تعلیم حاصل کرنے والے طالب علموں کو اگلے دو دنوں میں فیس ادا کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

اس کے علاوہ یونیورسٹیوں کے نوے فیصد تک مکمل ہونے والے ترقیاتی منصوبوں کےلیے بھی فنڈ فراہم کیے جائیں گے۔

وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کی صدارت میں وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا جس میں دوسرے معاملات کے علاوہ یونیورسٹیوں کے مالی معاملات پر بحث کی گئی۔

اجلاس کے بعد وفاقی وزیرِ اطلاعات قمر زمان کائرہ نے وفاقی وزیر تعلیم سردار آصف احمد علی کے ہمراہ ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ حکومت نے بیرون ملک تعلیم حاصل کرنے والے طالب علموں کے لیے سرکاری وظیفے جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس سلسلے میں وزیر خزانہ کو ہدایت جاری کر دی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے وزیر خزانہ کو ہدایت دی ہے کہ بیرون ملک تعلیم حاصل کرنے والے طالب علموں کو اگلے دو دنوں کے اندر فیس ادا کردی جائے تا کہ ان کی تعلیم کا سلسلہ جاری رہے۔

قمرزمان کائرہ نے یہ بھی بتایا کہ جن یونیورسٹیوں میں ترقیاتی منصوبے نوے فیصد تک مکمل ہو چکے ہیں ان کے لیے رقوم کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے گا اور تنخواہوں کے معاملے میں مکمل مدد دی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ کچھ یونیورسٹیوں نے اپنے وسائل سے پچاس فیصد تنخواہوں میں اضافہ کر دیا ہے لیکن کچھ ایسی ہیں جن کے پاس اتنے وسائل نہیں ہیں کہ وہ بھی تنخواہوں میں اضافہ کر سکیں اس لیے کمیٹی کے اجلاس میں اس معاملے کا جائزہ لیا جائے گا اور وفاقی حکومت ان یونیورسٹیوں کی مدد کرے گی۔

اس موقع پر وزیر تعلیم سردار آصف احمد علی نے بتایا کہ سیلاب کی وجہ سے ملک اس وقت شدید مالی مشلات کا شکار ہے جس کی وجہ سے یہ صورتحال پیدا ہوئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ کسی مخصوص محکمے کو قربانی کا بکرا نہیں بنایا گیا ہے۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ اساتذہ اپنے تنخواہیں بڑھانے کے لیے طالب علموں کو استعمال کر رہے ہیں۔ وزیر تعلیم نے کہا کہ یونیورسٹیوں کے معاملات کو حل کرنے کے لیے حکومت نے ایک کمیٹی تشکیل دی ہے اور وائس چانسلروں نے اس معاملے کو کمیٹی میں پیش کرنے کے بجائے طالب علموں کو سڑکوں پر کھڑا کر دیا ہے۔

دوسری طرف ملک کی سرکاری یونیورسٹیوں کے سالانہ بجٹ میں کٹوتی کے حکومتی فیصلے کے خلاف بدھ کو ملک بھر کی یونیورسٹیوں میں تدریسی عمل معطل رہا اور اساتذہ اور طلبہ نے کلاسوں کا بائیکاٹ کیا۔

کراچی، لاہور اور پشاور سمیت ملک کی دیگر یونیورسٹیی کے اساتذہ اور طالب علموں نے بازوؤں پر سیاہ پٹیاں باندھ کر حکومتی فیصلے کے خلاف احتجاج کیا۔

کراچی یونیورسٹی کے وائس چانسلر پیرزادہ قاسم نے بی بی سی کو بتایا کہ احتجاج کرنے کا مقصد ہائر ایجوکیشن کے بجٹ میں کٹوتی ہے جس سے یونورسٹیوںز کو مستقبل میں کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔

انہوں نے بتایا کہ یونیورسٹیوں نے اپنی تشویش سے حکومت کو آگاہ کر دیا ہے۔

اسی بارے میں