’این آر او سے مستفید مستعفی ہو جائیں‘

Image caption صدر مسلح افواج کے سپریم کمانڈر ہیں اور اُن کے خلاف بیرونِ ملک مقدمات کیسے کھولے جاسکتے ہیں۔وزیر اعظم ، پاکستان

وزیرِاعظم پاکستان سید یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ این آر او سے مستفید ہونے والے ایسے افراد جن کے پاس کوئی سرکاری عہدہ ہے وہ رضاکارانہ طور پر مستعفی ہو جائیں۔

وزیر اعظم نے جمعہ کو ایوان بالا یعنی سینیٹ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے وزارتِ قانون کو ہدایت کی ہے کہ وہ اس ضمن میں اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے ساتھ ایسے سرکاری افسران کی فہرست مرتب کریں جن کے مقدمات این آر او کے تحت ختم کیے گئے تھے۔

اسلام آباد میں بی بی سی کے نامہ نگار شہزاد ملک نے بتایا کہ یوسف رضا گیلانی کا کہنا تھا کہ صدر مسلح افواج کے سپریم کمانڈر ہیں اور اُن کے خلاف بیرونِ ملک مقدمات کیسے کھولے جاسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صدر پارلیمانی نظام کا ایک اہم حصہ ہیں اور پارلیمنٹ اس بات کا تعین کرے کہ صدر کو آئین کے تحت جو استثنیٰ حاصل ہے وہ جاری رہنا چاہیے یا پھر اُسے ختم کردینا چاہیے۔

Image caption عدالت نے اس درخواست کی سماعت ستائیس ستمبر تک ملتوی کردی

انہوں نے کہا کہ یہاں پر یہی تاثر دیا جاتا ہے کہ پارلیمنٹیرین ناکام ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹیرین اپنی عزت کروائیں اور تمام ادارے آئین میں دی گئی حدود کے اندر رہتے ہوئے دوسرے اداروں کا احترام کریں۔

این آر او کیس

واضح رہے کہ چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس افتخار محمد چوہدری نے کہا ہے کہ اگر حکومت نے قومی مصالحتی آرڈیننس یعنی این آراو سے متعلق عدالتی فیصلے پر عمل نہ کیا تو پھر سپریم کورٹ کو کوئی اور فیصلہ کرنا ہوگا۔

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے جمعہ کے روز این آر او کے خلاف عدالتی فیصلے پر عمل درآمد نہ ہونے پر درخواست کی سماعت کی۔

اٹارنی جنرل مولوی انوارالحق نے عدالت کو بتایا کہ صدر آصف علی زرداری کے خلاف سوئس مقدمات دوبارہ کھولنے کے حوالے سے وزارتِ قانون نے سمری وزیر اعظم کو بھجوا دی ہے۔

چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ کیا اس سمری کے خدوخال وہی ہیں جو مختلف اخبارات میں شائع ہوئے ہیں جس میں کہا گیا ہے کہ سوئس مقدمات ماضی کا حصہ بن چکے ہیں اور اُنہیں دوبارہ نہیں کھولا جا سکتا؟ اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ اُنہیں جو سمری موصول ہوئی ہے اُس پر کسی کے دستخط نہیں ہیں اس لیے وہ یہ نہیں کہہ سکتے کہ میڈیا پر آنے والی خبریں درست ہیں یا غلط۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ وزیرِاعظم کو جو سمری بھیجی گئی ہے اُس کی کاپی عدالت میں بھی پیش کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ جب این آر او سے متعلق عدالتی فیصلہ موجود ہے تو پھر اس پر من وعن عمل ہونا چاہیے۔

سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ وزیرِاعظم ایک سمجھدار آدمی ہیں اُنہیں یہ علم ہونا چاہیے کہ عدالتی فیصلے پر عمل درآمد نہ کرنے کے کیا نتائج برآمد ہوسکتے ہیں۔

واضح رہے کہ صدر آصف علی زردری کے خلاف سوئس مقدمات این آر او کے تحت ختم کیے گئے تھے تاہم سولہ دسمبر سنہ دوہزار نو کو اس آرڈیننس کے خلاف عدالتی فیصلے میں ان مقدمات کو دوبارہ کھولنے کے احکامات جاری کیے گئے تھے لیکن حکومت نے اس ضمن میں سوئس حکام کو ابھی تک خط نہیں لکھا۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ عدالتی فیصلوں پر عمل درآمد کروانا حکومت کا کام ہے اور اگر حکومت ایسا نہیں کرتی تو مستقبل میں کوئی پولیس اہلکار یا کوئی مجرم یہ بھی کہہ سکتا ہے کہ وہ عدالتی فیصلے کے فلاں حصے کو نہیں مانتا۔ عدالت نے اس درخواست کی سماعت ستائیس ستمبر تک ملتوی کردی۔

اسی بارے میں