چیف جسٹس پر تنقید، وزیرِ مملکت مستعفی

Image caption ’پیپلزپارٹی کو بوٹوں سے نہیں ڈرایا جا سکتا‘

پاکستان پیپلزپارٹی سے تعلق رکھنے والے وفاقی وزیر مملکت برائے دفاعی پیداوار سردار عبدالقیوم جتوئی نے وزیراعظم پاکستان سے ملاقات کے بعد استعفٰی دے دیا ہے۔

عبدالقیوم جتوئی نے سنیچر کو بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے چیف جسٹس آف پاکستان اور فوج کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا جس کے بعد وزیراعظم نے انہیں اسلام آباد طلب کر لیا تھا۔

نامہ نگار اعجاز مہر کے مطابق وزیراعظم ہاؤس کے ذرائع کا کہنا ہے کہ عبدالقیوم جتوئی نے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی سے ملاقات کے بعد انہیں اپنی استعفٰی پیش کر دیا۔ تاہم یہ واضح نہیں کہ ان کا استعفٰی منظور کیا گیا ہے کہ نہیں۔

بعدازاں عبدالقیوم جتوئی نے مقامی ذرائع ابلاغ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ بیان ان کی ذاتی رائے تھی اور اس کا حکومتی یا پارٹی پالیسی سے کوئی تعلق نہیں۔

کوئٹہ سے بی بی سی کے نامہ نگار ایوب ترین کے مطابق سنیچر کو کوئٹہ میں بلوچ سردار نواب اکبر خان بگٹی کے صاحبزادے اور جمہوری وطن پارٹی کے سربراہ نوابزادہ طلال اکبر بگٹی سے بگٹی ہاؤس کوئٹہ میں فاتحہ خوانی کے بعد صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے سردار عبدالقیوم جتوئی نے کہا تھا کہ چیف جسٹس آف پاکستان افتخارمحمد چوہدری کا ڈومیسائل جعلی ہے اور ان کا تعلق فیصل آباد سے ہے جبکہ وہ بلوچستان کے کوٹے پر جج بنے ہیں۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ نواب محمد اکبر خان بگٹی کو فوج نے قتل کیا ہے جس میں سابق وزیراعظم میر ظفراللہ خان جمالی، سابق وزیراعلٰی بلوچستان جام یوسف اور سابق گورنر بلوچستان اویس غنی سمیت سابقہ دورِ حکومت میں شامل افراد کا ہاتھ تھا۔

سردار عبدالقیوم جتوئی نے کہا کہ ’پاکستان میں روز اول سے ہی کرپشن کی گئی ہے کرپشن میں بھی مساوات ہونی چاہئیے جس میں بلوچ ، سندھی ، پنجابی اورسرائیکی کوبھی کرپشن کا موقع ملناچاہیے اگر یہ موقع ملتا تو کرپشن پر واویلا نہ ہوتا‘۔

انہوں نے کہا کہ اگر ملک کے ادارے اپنی حدود میں رہتے ہوئے کام کریں تو تصادم نہیں ہوگا اور جب بھی کوئی ادارہ اپنی حدود سے باہر جاتاہے تو تصادم شروع ہوجاتاہے بقول وفاقی وزیر ’پیپلزپارٹی کو بوٹوں سے نہیں ڈرایاجاسکتا کیونکہ ہم نے انہیں وردی اوربوٹ پہنائے ہیں۔ان کا کام ہے سرحدوں کی حفاظت کرنا نہ کہ عوام اور ہمارے لیڈروں کو ماریں اور ہم نے کبھی غیر جمہوری حکومت اور آمریت کاساتھ نہیں دیا لیکن غیر جمہوری حکومت کو ہمیشہ ان کے مصنوعی سیاست دانوں نے سپورٹ کیاہے ‘۔

بلوچ سردار نواب اکبر بگٹی کی ہلاکت کا ذکرکرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’نواب اکبرخان بگٹی جو کہ ہمارے بزرگ رہنما تھے جنہیں فوج نے قتل کیاہے اور ان کے قتل میں وہ لوگ ملوث تھے جن کے خلاف ایف آئی آر درج ہوئی ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ ’ہم گزشتہ ساٹھ سالوں سے نادیدہ قوتوں سے لڑرہے ہیں حالانکہ وہ زورآور ہیں ہم نہتے ہوکر ان کامقابلہ کررہے ہیں توپ کو کمزور کرنے کے لیے پہلے توپچی کو کمزور کرنا ہوگا‘۔

دوسری جانب جمہوری وطن پارٹی کے مرکزی صدر نوابزادہ طلال اکبر بگٹی نے کہا ہے کہ وفاقی وزیر پیداوار عبدالقیوم جتوئی نے پاک فوج کے بارے میں جو کچھ کہا ہے یہ ان کے اپنے ذہن کی اختراع ہے اور ’میں اپنے والد شہید نواب اکبر خان بگٹی کے قاتل پاک فوج کو نہیں بلکہ جنرل(ر) پرویزمشرف اس وقت کے ایم آئی کے سربراہ جنرل ندیم تاج اور ان کے ٹولے کوٹھہراتا ہوں، ایسے قاتلوں کو انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کیا جائے ورنہ پرویز مشرف کو میرے حوالے کریں میں بلوچی رسم ورواج کے مطابق اپنا بدلہ لوں گا‘۔

اسی بارے میں