ٹرائیکا میں ’جمہوری عمل کے دفاع اور حفاظت پر اتفاق‘

فائل فوٹو
Image caption نجی ٹی وی چینلز نے صبح سے ہی ایسا تاثر پھیلا رکھا تھا کہ جیسے آج سپریم کورٹ کوئی غیر معمولی حکم جاری کرے گی

پاکستان کی سیاسی اور فوجی قیادت نے ملک میں جمہوری عمل کا دفاع اور حفاظت کرنے اور تمام معاملات آئین کے مطابق حل کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

یہ اعلان پیر کو وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی اور آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی کی صدرآصف علی زرداری سے ڈیڑھ گھنٹے کی طویل مشاورتی اجلاس کے بعد کیا گیا ہے۔

پروگرام کے مطابق پیر کو آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی کی وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی سے ملاقات طے تھی لیکن بعد میں دونوں نے ایوان صدر میں صدر آصف علی زرداری سے ملاقات کی۔

سپریم کورٹ، این آر او مقدمے کی سماعت ملتوی

صدر کے ترجمان فرحت اللہ بابر نے ’ٹرائکا اجلاس‘ کے بارے میں بتایا ہے کہ ملاقات میں ملک کی تازہ صورتحال کا جائزہ لیا اور جمہوری عمل کے تحفظ پر اتفاق کیا ہے۔

اسلام آباد سے ہمارے نامہ نگار اعجاز مہر کا کہنا ہے کہ یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب پیر کو سپریم کورٹ نے قومی مصالحتی آرڈیننس ’این آر او‘ کے خلاف دیے گئے فیصلے پر عملدرآمد کا جائزہ لینا تھا۔

نجی ٹی وی چینلز کی خصوصی ٹرانسمیشنز کی وجہ سے صبح سے ہی ایسا تاثر تھا کہ آج سپریم کورٹ کوئی غیر معمولی حکم جاری کرے گی اور حکومت کو خطرہ ہے۔

اکثر نجی ٹی وی چینلز کے سرکردہ اینکر پرسن اچانک اپنے اپنے چینلز پر آئے اور خصوصی نشریات شروع کردیں جس سے پورے ملک میں افواہوں کا ایک سلسلہ چل پڑا۔

Image caption چیف جسٹس اور فوج کے بارے میں متنازعہ ریمارکس دینے والے وزیر عبدالقیوم جتوئی نے وزیراعظم سے ملاقات کے بعد استعفٰی دے دیا تھا

جب سپریم کورٹ نے کوئی فیصلہ جاری نہیں کیا اور آرمی چیف کی وزیراعظم کے ہمراہ صدر سے ملاقات ہوئی اور صدر کے ترجمان نے یہ بیان جاری کیا کہ ملاقات میں جمہوری عمل کا تحفظ کرنے اور تمام معاملات آئین کے مطابق حل کرنے پر اتفاق ہوا ہے تو تمام چینلز کی نشریات بھی معمول پر آگئی۔

پاکستان میں گزشتہ دو ہفتوں سے ذرائع ابلاغ میں جاری بحث و مباحثوں سے ایسا تاثر قائم ہو رہا تھا کہ منتخب حکومت اور صدر ِمملکت کو فارغ کرنے کی منصوبہ بندی ہو رہی ہے۔

ایسے میں دفاعی پیداوار کے وفاقی وزیر سردار عبدالقیوم جتوئی نے کوئٹہ میں نوابزادہ طلال بگٹی سے ملاقات کے بعد فوج کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ’وہ بوٹوں سے نہیں ڈرتے، بوٹوں والوں نے نواب اکبر بگٹی، ذوالفقار علی بھٹو اور بینظر بھٹو کو قتل کیا۔‘

قیوم جتوئی نے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری پر بھی کڑی نکتہ چینی کی اور ان کے ڈومیسائل کے حوالے سے سوال اٹھائے۔

سردار عبدالقیوم جتوئی کے اس بیان کا وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے نوٹس لیتے ہوئے ان سے استعفیٰ طلب کیا اور کہا کہ ان کی کابینہ کے رکن نے غیر ذمہ درانہ بیان دیا ہے جو حکومتی پالسیی کا حصہ نہیں۔

لیکن اس کے ایک روز بعد یعنی اتوار کو وزیراعظم نے درجن بھر ٹی وی اینکر پرسن سے ملاقات میں واضح طور پر کہا کہ سپریم کورٹ اگر صدر کو حاصل آئینی تحفظ ختم بھی کردے گی تو بھی وہ سوئس حکام کو آصف علی زرداری کے خلاف ختم کردہ مقدمات دوبارہ کھولنے کے لیے وہ خط نہیں لکھیں گے۔

وزیراعظم نے یہ بھی کہا وہ پیپلز پارٹی کے کارکنوں کو جوابدہ ہیں اور اپنی جماعت کے لیڈر کے خلاف کوئی قدم نہیں اٹھانا چاہتے۔ ان کے بقول آئین کے مطابق صدرِ مملکت افواج پاکستان کے سپریم کمانڈر ہیں اور پارلیمان ان کے بنا ادھورا ہے اس لیے وہ کسی قیمت پر پاکستان کی خودمختاری کا سودا نہیں کرسکتے۔

وزیراعظم کے بیان کو بیشتر سیاسی تجزیہ نگار سپریم کورٹ کے لیے کھلا پیغام قرار دیتے ہوئے کہتے رہے کہ اس سے عدلیہ اور حکومت کا ٹکراؤ پیدا ہوسکتا ہے۔

اسی بارے میں