آلہ کار نہ بنیں: دانشوروں کا اشتہار

Image caption تمام مقتدر ادارے اور اقتدار اعلیٰ کے شراکت دار بڑے قومی معاملات پر وسیع اتفاق رائے پیدا کریں: اشتہار

پاکستان کے چالیس کے قریب دانشوروں، صحافیوں اور وکلا کی طرف سے مقامی اخبارات میں ایک اشتہار شائع ہوا ہے جس میں ریاستی اداروں کے درمیان اقتدار کی رسہ کشی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ان اداروں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ کسی غیر آئینی تبدیلی کی کوشش کا آلہ کار نہ بنیں۔

’شہری برائے جمہوریت‘ کے عنوان سے شائع ہونے والے اس اشتہار کا مقصد بظاہر جمہوریت کا تحفظ اور کسی غیر آئینی تبدیلی کی مخالفت کرنا ہے اور اسی وجہ سے اشتہار کی سرخی ہے ’غیر جمہوری اور غیر آئینی تبدیلیوں سے انکار۔‘

وکلاء تحریک کے روح رواں اور سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر علی احمد کرد کا نام اشتہار جاری کرنے والوں میں سر فہرست ہے ۔ان کے علاوہ جسٹس ریٹائرڈ طارق محمود، آئی اے رحمان، حنا جیلانی، نجم سیٹھی، غازی صلاح الدین، ڈاکٹر حسن عسکری، ایس ایم مسعود اور نیر علی دادا بھی ان اڑتیس افراد میں شامل ہیں جنہوں نے یہ اشتہار جاری کیا ہے۔

لاہور سے نامہ نگار عبادالحق کا کہنا ہے کہ اشتہار میں کہاگیا کہ’ شہری برائے جمہوریت‘ کو تشویش ہے کہ ریاست کے اداروں کےدرمیان جاری اقتدار کی رسہ کشی بے یقینی پیدا کر رہی ہے جو ناامیدی اور افراتفری کا باعث ہے۔‘

Image caption جمہوریت کے تحفظ کے لیے اپنا یہ پیغام لوگوں تک پہنچایا ہے کہ غیر جمہوری اور غیر آئینی تبدیلی کو تسلیم نہیں کریں گے: امتیاز عالم

اشتہار میں کہا گیا ہے کہ تمام مقتدر ادارے اور اقتدار اعلیٰ کے شراکت دار بڑے قومی معاملات پر وسیع اتفاق رائے پیدا کریں۔

جمہوریت کے دفاع میں جانےوالے اس اشتہار میں کہا گیا کہ’ وفاق اور قومی ریاست کا مستقبل جمہوریت، آئینی، وفاقی اور جمہوری نظام کے تسلسل سے وابستہ ہے جب کہ عوام کی منشاء کا احترام کیا جائے جس کی نمائندگی منتخب ادارے اور جمہوری حکومتیں کرتی ہیں۔‘

اشتہار میں یہ بھی کہاگیا کہ’ تمام ادارے آئینی ڈھانچے کے اندر اپنے فرائص انجام دیں اور کسی بھی غیر جمہوری اور غیر آئینی تبدیلی کی کوشش کا آلہ کار نہ بنیں۔‘

اس اشتہار میں یہ بھی کہا گیا کہ ریاست کے ادارے اور میڈیا اپنا کام آئین اور جمہوری اقدار کے مطابق کریں اور عوامی منشا کا احترام کرتے ہوئے اپنی ادارتی حدود کو پھلانگنے سے احتراز کرنا چاہیے۔

جمہوریت کے دفاع کے لیے اشتہار چھپانے کا خیال دانشور اور صحافی امتیاز عالم کا ہے اور انہوں نےاشتہار شائع کروانے کی وجہ بتائے ہوئے کہا کہ ’جس طرح ادارے لڑ رہے ہیں اور جس انداز میں میڈیا حکومت کی اکھاڑ پچھاڑ میں مصروف ہے اس سے یہ ڈر ہے کہ وہ جمہوریت جو بڑی قربانیوں سے بحال ہوئی ہے وہ کہیں دوبارہ پٹری سے نہ اتر جائے۔‘

امتیاز عالم نے بتایا کہ اشتہار کو چھپانے سے قبل ایک قرار داد تیار کی گئی اور اس پر مختلف لوگوں کی رائے لی گئی اور پھر اسے ایک پریس ریلیز کی شکل میں جاری کیا۔

لیکن بقول ان کے میڈیا کے ایک بڑے حصے نے اسے شائع نہیں ہے جس کے بعد اس قرار داد کو ایک اشتہار کی شکل میں شائع کروانا پڑا۔

انہوں نے یہ بتایا کہ اس اشتہار کی اشاعت پر جو اخراجات آئے وہ ہم خیال ساتھیوں نے برداشت کیے اور کچھ اخبارات نے تو یہ اشتہار بغیر کسی معاوضے کے مفاد عامہ میں شائع کیا۔

امتیاز عالم نے کہا کہ اشتہار کے ذریعے جمہوریت کے تحفظ کے لیے اپنا یہ پیغام لوگوں تک پہنچایا ہے کہ غیر جمہوری اور غیر آئینی تبدیلی کو تسلیم نہیں کریں گے۔

اسی بارے میں