فتحیاب علی خان انتقال کر گئے

Image caption جنرل ایوب خان کے دور میں یونیورسٹی آرڈیننس کے خلاف تحریک میں بھی وہ سرگرم رہے۔

پاکستان کے نامور ترقی پسند سیاست دان اور مزدور رہنما فتحیاب علی خان انتقال کر گئے ہیں۔ ان کی عمر چوہتر برس تھی۔

وہ گزشتہ کئی برسوں سے عارضہ قلب میں مبتلا تھے اور مقامی ہپستال میں زیر علاج رہے۔

فتحیاب علی خان کی پیدائش انیس سو چھتیس میں حیدرآباد دکن میں ہوئی۔ پاکستان بننے کے بعد ان کا خاندان سندھ آ گیا۔

انہوں نے اپنی سیاسی سفر کا آغاز طالب علمی کے دور سے کیا۔ انیس سو ساٹھ کی دہائی میں فوجی صدر جنرل ایوب خان کے دور میں یونیورسٹی آرڈیننس کے خلاف تحریک میں بھی وہ سرگرم رہے۔

اس جدوجہد کے دوران انتظامیہ نے نیشنل اسٹوڈنٹس فیڈریشن کے جن بارہ طالب علموں کو کراچی سے حیدرآباد شہر بدر کیا ان میں فتحیاب علی خان بھی شامل تھے۔

فتحیاب علی خان کراچی یونیورسٹی میں اسٹوڈنٹس یونین کے وائس چیئرمین اور بعد میں چیئرمین بھی رہے۔

ان دنوں طلبہ یونین کے چیئرمین کا عہدہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر کے پاس ہوا کرتا تھا مگر طلبہ تحریک کے بعد یہ عہدہ اسٹوڈنٹ یونین کے پاس آ گیا۔

انہوں نے نامور مزدور رہنما مرزا ابراہیم کے ساتھ ٹریڈ یونین کی سیاست کی اور بعد میں وہ مزدور کسان پارٹی میں شامل ہوگئے جو نیشنل عوامی پارٹی میں اختلافات کے بعد افضل بنگش کی قیادت میں بنائی گئی تھی۔

جنرل ضیاالحق کے دور حکومت میں بحالی جمہوریت کی تحریک ایم آر ڈی میں بھی ان کا اہم کردار رہا۔ وہ ایم آر ڈی کے صدر رہے اور جیل بھی گئے۔ انیس سو چھیاسی میں انہیں رہا کیا گیا۔

اس وقت وہ پاکستان انسٹیٹیوٹ آف انٹرنیشنل افیئرز نامی ادارے کے چیئرمین تھے۔ ان کی اہلیہ محمودہ حسن سیکریٹری اسٹیبلشمنٹ رہیں اور بینظیر بھٹو کے دور حکومت میں انہیں آسٹریلیا میں پاکستان کی سفیر مامور کیا گیا۔ ان کے سوگواروں میں دو بیٹے شامل ہیں۔

فتحیاب علی خان کے طالب علمی کے ساتھی نفیس صدیقی کا کہنا ہے کہ ایوب خان کے دور حکومت میں پہلی آواز کراچی کے طالب علموں نے اٹھائی جس کے فتحیاب علی خان قائد تھے۔

اس دوران انہیں فوجی عدالت نے ایک سال قید کی سزا سنائی۔ رہائی کے بعد بھی انہوں نے جدوجہد جاری رکھی اور انہیں بطور سزا شہر بدر کردیا گیا۔

پاکستان میں مزدوروں اور کسانوں کی حکمرانی کے خواہشمند فتحیاب علی خان کا خواب کبھی پورا نہ ہوسکا اور وہ متعدد بار انتخاب میں حصہ لینے کے باجود کبھی کامیاب نہ ہوئے۔

فتحیاب علی کی نماز جنازہ کے ڈی اے اسکیم نمبر ون میں ادا کی گئی اور دوپہر کو مقامی قبرستان میں سپرد خاک کردیا گیا۔