کشمیر: جماعت الدعوہ کی ’مہم‘ شروع

جماعت الدعوہ کے کارکن
Image caption میرپور کے صحافی کہتے ہیں کہ اس مہم میں مقامی لوگوں کی تعداد بہت کم ہے

کالعدم تنظیم جماعت الدعوۃ نے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں تین روزہ مہم کا آغاز کیا ہے۔

تنظیم کے مطابق اس مہم کا مقصد ’وادی میں جاری عوامی احتجاجی تحریک کے بارے میں لوگوں میں شعور پیدا کرنا‘ ہے۔

یہ مہم پیر سے شروع کی گئی ہے۔

اس مہم کا آغاز پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے شہر میرپور سے کیا گیا۔

جماعت الدعوۃ کے ترجمان یحیٰ مجاہد کا کہنا ہے کہ اس مہم میں ساڑھے تین ہزار لوگ شریک ہیں اور مقامی پولیس نے بھی اس تعداد کی تصدیق کی۔

اس مہم میں شریک لوگوں کا تعلق پاکستان اور اس کے زیر انتظام کشمیر کے مختلف علاقوں سے ہے۔

کشمیری حکام کا کہنا ہے کہ اس مہم میں شرکت کرنے والے لوگوں میں زیادہ تر کا تعلق پاکستان کے مختلف علاقوں سے ہے اور ان میں بیشتر جماعت الدعوہ کے حماتی ہیں اور ان میں سے کچھ کا تعلق جماعت اسلامی سے ہے۔

میرپور کے ایک صحافی نے بی بی سی کو بتایا کہ مقامی لوگوں کی تعداد بہت کم تھی اور اس کا اندازہ وہاں سے حاصل ہونے والی تصویروں سے بھی لگایا جاسکتا ہے۔ مہم میں شریک افراد گاڑیوں کے قافلے کی صورت میں پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے دوسرے ضلعے کوٹلی کے صدر مقام پہنچ گئے ہیں جہاں سے وہ راولاکوٹ، باغ اور پھر مظفرآباد جائیں گے۔

کالعدم تنظیم جماعت الدعوۃ کے ترجمان یحیٰ مجاہد نے بی بی سی کو بتایا کہ بدھ کو اس مہم کے اختتام پر پاکستان کے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں بڑا اجتماع ہوگا۔

ان کا کہنا ہے کہ اس مہم کا مقصد پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے عوام میں وادی میں جاری عوامی احتجاجی تحریک کے بارے میں آگاہی پیدا کرنا ہے۔

نومبر سنہ دو ہزار آٹھ میں ممبئی میں ہونے والے حملوں کے بعد اقوام متحدہ نے جماعت الدعوہ کو دہشت گرد تنظیم قرار دے دیا ہے جبکہ پاکستان نے بھی اس کو ان تنظیموں کی فہرست میں شامل کر رکھا ہے جن کی نگرانی کی جا رہی ہے۔

بھارت نے ممبئی حملوں کا الزام لشکر طیبہ اور جماعت الدعوہ پر عائد کیا تھا اور اس کا کہنا ہے کہ دونوں تنظیمیں ایک ہی ہیں۔ لیکن ان دونوں تنظیموں نے اس الزام کی تردید کی تھی اور جماعت الدعوہ کا دعویٰ ہے کہ اس کا لشکر طیبہ سے کوئی تعلق نہیں ہیں۔

اسلام آباد میں بی بی سی کے نامہ نگار ذوالفقار علی کا کہنا ہے کہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی خود مختار کشمیر کی حامی تنظیموں نے جماعت الدعوۃ کی اس سرگرمی پر سخت نکتہ چینی کی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ جماعت الدعوہ کے سامنے آنے کی وجہ سے وادی میں جاری کشمیری نوجوانوں کی تحریک کو نقصان پہنچے گا۔

ان کا خیال ہے کہ س کی وجہ سے بھارت کو’ کشمیریوں کی قومی آزادی کی تحریک‘ کے خلاف پروپیگنڈہ کرنے کا موقع ملے گا۔

اسی بارے میں