نیٹو اور ایساف کا سامان برآمد

ایف سی کے ترجمان میجر فضل
Image caption یہ پہلی مرتبہ ہے کہ سکیورٹی فورسز نے اتنی بڑی مقدار میں فوجی سازوسامان برآمد کیا ہے: میجر فضل

پاکستانی سکیورٹی فورسز کا کہنا ہے کہ قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں آپریشن کے دوران نیٹو اور اسیاف فورسز کا چوری شدہ فوجی سازوسامان بڑی مقدار میں برآمد کر لیا گیا ہے جس میں ہیلی کاپٹروں کے پرزہ جات بھی شامل ہیں۔

تاہم اس آپریشن کے دوران کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی ہے۔

فرنیٹر کور کے ایک ترجمان میجر فضل نے پیر کو حیات آباد میں صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ سکیورٹی فورسز نے پچھلے دو دنوں کے دوران خیبر ایجنسی کے علاقے وزیر ڈھنڈ میں بڑے پیمانے پر آپریشن کیا ہے اور اس دوران وہاں گوداموں سے بڑی مقدار میں نیٹو اور ایساف افواج کا چوری شدہ سامان برآمد کیا گیا ۔

انہوں نے کہا کہ قبضہ میں لیا گیا زیادہ تر سامان فوجی نوعیت کا ہے تاہم ان میں بعض ایسے پرزجات بھی شامل ہیں جو ہیلی کاپٹروں میں استعمال کیے جاتے ہیں۔ بعد میں فرنٹیر کور کے اہلکاروں نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو برآمد کیا گیا سامان بھی دکھایا۔

نامہ نگار رفعت اللہ اورکزئی نے بتایا ہے کہ خیبر ایجنسی میں گزشتہ دو تین سالوں کے دوران افغانستان میں تعینات نیٹو اور امریکی افواج کے لیے سامان لے جانے والے کنٹینروں اور آئل ٹینکروں پر شدت پسندوں کی طرف سے متعدد مرتبہ حملے کیے گئے ہیں۔ اکثر حملوں میں شدت پسند سامان لوٹ کر دکانوں پر فروخت کرتے تھے۔ یہ سامان پشاور کے کارخانوں اور مارکیٹ میں کھلے عام فروخت ہو رہا ہے۔

ان حملوں میں سینکڑوں گاڑیاں نذرآتش یا دھماکہ خیز مواد سے تباہ کی جاچکی ہیں۔ پاکستان میں شدت پسند تنظمیں ان حملوں کی ذمہ داری وقتاً فوقتاً قبول کرتی رہی ہیں۔ کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان کا کہنا ہے کہ یہ حملے قبائلی علاقوں میں جاری امریکی ڈرون حملوں کے ردعمل میں کیے جا رہے ہیں اور جب تک یہ حملے بند نہیں ہوتے وہ نیٹو کو سامان اور تیل کی سپلائی کاٹتے رہیں گے۔

میجر فضل کا مزید کہنا تھا کہ یہ پہلی مرتبہ ہے کہ سکیورٹی فورسز نے اتنی بڑی مقدار میں فوجی سازوسامان برآمد کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس آپریشن کے دوران کوئی گرفتاری تو عمل میں نہیں لائی گئی ہے، البتہ جن گوداموں سے سامان برآمد کیا گیا ہے ان کے مالکان پر قبائلی روایات کے تحت ڈالا جا رہا ہے تاکہ اصل ملزمان تک پہنچا جاسکے۔

خیال رہے کہ گزشتہ کچھ عرصہ سے خیبر ایجنسی میں امریکی اور اتحادی افواج کے لیے سامان لے جانے والی گاڑیوں پر حملوں میں کمی آئی ہے تاہم اکا دکا واقعات اب بھی پیش آرہے ہیں۔ چند دن قبل بھی نیٹو کو تیل سپلائی کرنے والے ایک آئل ٹینکر پر حملہ کیا گیا تھا جس میں تین افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

اسی بارے میں