وہ جو بہہ گئے !

بی بی سی اردو کے وسعت اللہ خان پاکستان میں آنے والے سیلاب سے متاثرہ علاقہ جات کے دورے کا احوال ایک ڈائری کی صورت میں بیان کر رہے ہیں۔ پیش ہے اس سلسلے کی سینتیسویں کڑی۔

اتوار انیس ستمبر (بارکھان)

جب بھی آپ بلوچستان، سندھ و پنجاب کے دیہی علاقوں میں جائیں۔۔۔ایک بات ہمیشہ ذہن میں رکھیے۔یہاں کے لوگوں کا تصورِ زمان و مکان آپ کی شہری دنیا سے الگ ہے اور اگر آپ پر یہ راز بروقت نہ کھلے تو پھر آپ خسارے میں ہیں۔

مثلاً جب کوئی انگریز کہتا ہے کہ وہ دس منٹ میں آرہا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ سوا دس منٹ میں آپ کے سامنے ہوگا۔جب کوئی اربن پاکستانی کہے کہ وہ دس منٹ میں آرہا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ وہ دس منٹ سے تیس منٹ کے درمیان آپ کے سامنے ہوگا۔ لیکن اندرونِ پنجاب، سندھ ، بلوچستان یا پختون خواہ کا آدمی یہ کہے کہ بس وہ دس منٹ میں پہنچ رہا ہے تو یہ دس منٹ دو سے ڈھائی گھنٹے پر بھی محیط ہوسکتے ہیں۔یہی حال فاصلوں کی پیمائش کا بھی ہے۔شہری ڈکشنری میں سامنے والے گاؤں کا مطلب ہے دس گز سے لے کر ایک کلومیٹر تک۔ لیکن دیہی ڈکشنری کے حساب سے جب کوئی آپ سے یہ کہے کہ فلاں گاؤں ! بس سامنے ہی تو ہے۔ دس منٹ کے فاصلے پر۔۔۔اس کا مطلب ایک سے پچاس کیلومیٹر تک کچھ بھی ہوسکتا ہے۔

سیلاب ڈائری: خصوصی ضمیمہ

سوال یہ ہے کہ دیہی علاقوں میں اکثر لوگوں کا زمان و مکان اتنا مختلف کیوں ہے۔اس کا فوری جواب تو یہ ہے کہ وہاں کی روزمرہ زندگی کے چوبیس گھنٹوں میں اکثر لوگوں کو چند نپے تلے کام ہی کرنے ہوتے ہیں۔ کبھی کبھار ہی ایسا ہوتا ہے کہ انہیں اپنا علاقہ چھوڑ کر کسی دور دراز مقام پر جانا پڑ جائے۔چنانچہ ان کے لیے چوبیس گھنٹے کا کلاک اور فاصلے کا پیمانہ بالکل مختلف انداز میں کام کرتا ہے۔انکی ٹائم مینجمنٹ انکے ماحول، رفتار اور مصروفیت کے حساب سے ہے۔ اس کلاک اور رفتاری پیمانے کو اپنے حق میں کرنے کا ایک ہی فارمولا ہے۔یعنی انکے بتائے ہوئے فاصلے اور وقت کو کم از کم تین سے ضرب دے لی جائے تو آپ کی ٹینشن قدرے کم ہوسکتی ہے۔

اتنی لمبی تقریر کرنے کا مقصد یہ ہے کہ جب کل سہہ پہر ساڑھے چار بجے میں نے بارکھان جانے کے لیے موسی خیل چھوڑا تو تمام مقامی لوگ کہہ رہے تھے کہ آپ دو سے ڈھائی گھنٹے میں براستہ کنگری و رکھنی بارکھان پہنچ جائیں گے۔ میں نے دل ہی دل میں اس فاصلے کو تین سے ضرب دے کر ساڑھے سات گھنٹے کے سفر کے لیے خود کو ذہنی طور پر آمادہ کرلیا۔

کہنے کو موسی خیل سے کنگری تک کی سڑک بالکل پختہ ہے۔ لیکن کوئی ایک فرلانگ ایسا نہیں جو سالم ہو۔دو ہزار چار میں بننے والی اس چھہتر کلومیٹر کی سڑک کو چھ برس کے دوران ہی کوڑھ کے مرض نے آلیا۔ کہیں بارش نے ڈامر کی پتلی چادر کھینچ لی۔کہیں شدید گرمی کے سبب نرم ہونے والی ڈامر بھاری گاڑیوں کے ٹائروں تلے آ کر ایسے سکڑ گئی کہ بیچ سڑک میں لمبے اور گہرے ٹریک بن گئے۔کہیں سڑک درمیان میں اونٹ کے کوہان کی طرح سمٹ گئی۔ رہی سہی کسر بارشوں نے پوری کردی اور نیم دلی سے کوٹے گئے پتھروں کو ڈامر کی قید سے آزاد کردیا۔سڑک کیا ہے ترقی کے نام پر ایک سیاہ قے کی لکیر ہے جو چلے چلے جارہی ہے۔ میرا اندازہ ہے کہ سو روپے کے بجٹ میں صرف تیس روپے کی سڑک بنائی گئی ہے۔ لیکن اپنا خون جلانے سے فائدہ؟ غالب ڈیڑھ سو برس پہلے ہی پاکستان میں سرکاری انفراسٹرکچر بنانے والے ٹھیکیداروں کے بارے میں کہہ مرا ہے کہ:

نکالا چاہتا ہے کام کیا طعنوں سے تو غال

تیرے بے مہر کہنے سے وہ تجھ پے مہرباں کیوں ہو۔

Image caption سڑک کہاں گئی ۔۔۔؟

موسی خیل سے نکلنے کے لگ بھگ سوا گھنٹے بعد یہ کوڑھ زدہ سڑک بھی ایک جگہ اچانک غائب ہوگئی۔سامنے نیم خشک پہاڑی نالہ تھا اور اس پر بنا ہوا ایک چوتھائی پل پہاڑی طغیانی کے ہمراہ نکل لیا تھا۔پتہ یہ چلا کہ یہ پل بھی اس سڑک کی طرح اپنی زندگی کی صرف چھ بہاریں ہی دیکھ پایا اور مرگیا۔متبادل کے طور پر اب ہر گاڑی اس پہاڑی ندی کو اپنے زور پر پار کرنے کے لیے آزاد تھی۔یہ مرحلہ لگ بھگ آدھے گھنٹے میں مکمل ہوا اور ہم پھر پکی سڑک پر فراٹے بھرنے لگے۔ تقریباً ڈیڑھ گھنٹے بعد موسی خیل سے لورالائی ڈیرہ غازی خان شاہراہ تک ٹی جنکشن بنانے والے مقام پر کنگری کا سٹاپ آیا۔ وہی اکادکا چائے خانے، کچھ مال بردار ٹرک، چارپائیوں اور چٹائیوں پر بیٹھ کر قہوہ سڑکتے لوگ۔۔۔میں اپنے حصے کا قہوہ آنے تک ایک چٹائی پر آنکھیں بند کرکے لمبا لمبا لیٹ گیا۔ کسی ٹرک کی کھڑکی سے کشور کی آواز بہہ نکلی تھی

زندگی اک سفر ہے سہانا

یہاں کل کیا ہو کس نے جانا۔

ذرا دیر بعد میں اٹھ بیٹھا۔مگر اٹھتے ہی دو باتیں محسوس کیں۔ ایک یہ کہ ہر طرف اندھیرا تھا اور ٹیوب لائٹیں روشن تھیں۔دوم یہ کہ صحافی جہانگیر موسی خیل اور ڈرائیور عبدالسلام مجھے عجیب سی نظروں سے دیکھ رہے تھے۔میں نے پوچھا کیا ہوا۔

آپ بتائیں جناب آپ کی طبیعت ٹھیک ہے ؟

ہاں ! بالکل ٹھیک ہے لیکن یہ اندھیرا کیوں ہوگیا ؟

جناب آپ سو گئے تھے !۔

میں سو گیا تھا ؟ کیسے سو گیا تھا ؟ ابھی ابھی تو کشور کمار کا گانا سن رہا تھا ؟

جی وہ ڈیڑھ گھنٹے پہلے کی بات ہے۔اس دوران وہ ٹرک بھی چلا گیا جس میں گانا بج رہا تھا۔اور ہم دونوں دو بار قہوہ بھی پی چکے ہیں ! آپ اس طرح خراٹے لے رہے تھے کہ ہم نے اٹھانا مناسب نہیں سمجھا !

مجھے کافی دیر تک یقین نہیں آیا کہ میں ڈیڑھ گھنٹے تک سوتا رہا۔ لیکن کوئی بات نہیں بقول عزیز حامد مدنی:

ہزار طرح کے قصے سفر میں ہوتے ہیں

تھکن زدہ بیٹری چارج ہوچکی تھی اور میں خود کو نہایت ہلکا پھلکا محسوس کررہا تھا۔گاڑی پھر ڈی جی خان کی جانب رواں دواں ہوگئی۔اور ایک گھنٹے کے بعد رکھنی کا بازار آگیا۔رکھنی ضلع بھارکھان کا کمرشل مرکز ہے۔پنجاب کے آڑھتی یہیں پر آکر بارکھان کی مرچوں اور ٹماٹر کے سودے کرتے ہیں۔بارکھان کی ڈیڑھ لاکھ آبادی کی قسمت بھلے بلوچستان سے وابستہ ہے لیکن معیشت، تعلیم اور صحت ڈیرہ غازی خان اور ملتان سے جڑی ہوئی ہے۔

نوے فیصد زرعی اجناس ڈی جی خان کی منڈی میں جاتی ہیں۔ نوے فیصد مریض ڈیڑھ سو میل کا پرپیچ فاصلہ طے کرکے ڈی جی خان اور ملتان کے اسپتالوں میں جاتے ہیں۔ ہر سال کئی حاملہ خواتین کسی کوالیفائڈ گائنا کالوجسٹ کی تلاش میں فورٹ منرو کی چڑھائی اترتے اترتے گاڑی میں ہی جان دے دیتی ہیں۔جسے سکول سے آگے پڑھنے کا شوق ہو وہ بھی کوہ سلیمان کے دوسری جانب پنجاب کے تعلیمی اداروں میں داخلہ لیتا ہے۔ کیونکہ بارکھان کے سکول و کالجز پر خود اہلِ بارکھان کو بھی اعتبار نہیں۔ بارکھان کے کھیتران سردار کوئٹہ کا رخ صرف سرکاری کاموں کے لیے کرتے ہیں۔دل اور ایک اضافی گھر ڈی جی خان اور ملتان میں ہی ہوتا ہے۔

موسی خیل کے جعفروں کی’جافرکی‘ کی طرح ’کھیترانی‘ بھی سرائیکی زبان ہی کی ایک شکل ہے۔یہ تعلق بلا سبب نہیں۔ لگ بھگ ڈھائی سو برس پہلے تونسہ اور ڈی جی خان کے درمیان واہووا کے علاقے میں آباد کھیترانوں نے جگہ تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا اور وہ محمد خان کھیتران کی قیادت میں کوہ سلمان کے دوسری جانب بارکھان میں آکر آباد ہوگئے۔یہاں پہلے سے جو ہندو جاٹ آباد تھے ان میں سے بہت سے نئے حملہ آوروں کے مطیع ہوکر ان میں گھل مل گئے اور کئی علاقے سے چلے گئے۔

لیکن کھیترانوں کو نئی سرزمین میں سیاسی قوت بنانے کا سہرا میر حاجی خان کے سر جاتا ہے جس نے نہ صرف ژوب کے کاکڑوں کو شکست دی بلکہ مری قبائل کے بار بار حملے روکنے کے لیے کرم خان بجارانی کے قلعہ ماوند کو بھی برباد کر ڈالا۔ لیکن جب بیرونی دشمنوں نے کھیترانوں کو بارکھان کے علاقے کا قانونی وارث تسلیم کرلیا تو کھیترانوں نے آپس میں لڑنا شروع کردیا۔خانہ جنگیوں سے تنگ آکر اٹھارہ سو اسی میں کھیترانوں کا ایک وفد ڈیرہ غازی خان کے انگریز ڈپٹی کے پاس یہ درخواست لے کر پہنچا کہ اگر ملکہ ہمیں اپنے سایہ عاطفت میں لے لے تو اسکے عوض محصول ادا کرنے کو بھی تیار ہیں۔چنانچہ پولٹیکل ایجنٹ تھل چوٹیالی مسٹر بروس کی قیادت میں تین برس بعد ایک تاریخی جرگہ منعقد ہوا۔جس میں کھیترانوں کے علاقے کی قانونی حد بندی ہوگئی اور کھیترانوں کی مری ، لونی اور کاکڑ قبیلے سے باضابطہ صلح صفائی بھی کروا دی گئی۔ تب سے آج تک بارکھان کی چڑیا بھی کھیترانوں کی اجازت سے اڑتی ہے۔

رات گیارہ بجے جب ہمارا تین رکنی قافلہ بارکھان شہر میں داخل ہوا تو قیام کے لیے ایک ہی جگہ تھی۔ کھیتران ہاؤس۔ کھانا۔۔۔بستر۔۔۔مسلح دربان اور ایک بڑے سے ہال میں دورویہ قطاروں میں بیٹھے کھیترانی۔لوگ آرہے ہیں۔۔۔لوگ جارہے ہیں۔۔۔کھانا آرہا ہے۔۔۔کھانا جارہا ہے۔۔۔ صحن میں بیسیوں بڑی بڑی چارپائیاں ہیں۔۔۔کوئی لیٹا ہے۔۔کوئی بیٹھا ہے۔۔۔کوئی نیم دراز ہے۔۔۔۔سب کچھ آنکھ کے اشارے پر ہو رہا ہے۔۔۔۔سردار کے جواں سال بیٹے انعام اور بھتیجے غفور نے پوچھا:

کیا شیڈول ہے؟؟

بس آپ سے گپ شپ کریں گے، ڈی سی سے ملیں گے۔مقامی صحافیوں سے ملیں گے۔شہر کو دیکھیں گے۔سیلاب زدہ علاقوں میں جائیں گے اور کیا ۔۔۔۔۔

ٹھیک ہے۔آپ یہاں آرام سے رہیں صبح سب ہوجائے گا۔۔ڈی سی بھی آجائے گا۔۔۔صحافی بھی آجائیں گے۔۔آپ کو سیلاب زدہ علاقے بھی دکھا دیں گے۔

آپ کی بڑی مہربانی۔کیا یہ ممکن ہے کہ ہم ڈی سی اور صحافیوں سے شہر میں مل لیں اور متاثرہ علاقے بھی خود دیکھ لیں۔

بھلے۔۔۔جیسے آپ چاہیں۔۔موسٹ ویلکم۔

صبح ناشتے کے بعد بارکھان شہر کا رخ کیا۔آٹھ ہزار کی آبادی ہے۔شہر کے دوسرے کنارے پر فرنٹیئر کور کا قلعہ ہے۔فرنٹیر کور والے جہاں بھی قلعہ بناتے ہیں وہاں ایک سکول بھی قائم کرتے ہیں۔بارکھان میں قائم ایف سی ماڈل سکول کی عمارت شاندار اور صاف ستھری بھی ہے اور ضلع بھر میں قائم چھ سو ستر بوائز اینڈ گرلز سرکاری سکولوں کے برعکس زندگی کے آثار بھی ہیں۔گو ضلع بارکھان کا سالانہ سرکاری تعلیمی بجٹ دو کروڑ روپے کے لگ بھگ ہے اور یہ خرچ بھی ہوتا ہے لیکن کہاں خرچ ہوتا ہے بظاہر کوئی نہیں جانتا۔ حالانکہ سب جانتے ہیں۔

شہر میں آفیسرز کلب کے سامنے ایک مقامی صحافی محمد ظفر سے ملاقات ہوئی۔محمد ظفر کے ہمراہ ہم ڈی سی بارکھان گل محمد خروٹ کے گھر پہنچے۔اتوار کی چھٹی کے باوجود ڈی سی بڑے تپاک سے ملے۔اور انہوں نے نقصانات کی مکمل سروے رپورٹ کی ایک نقل میرے حوالے کردی ۔اس رپورٹ کے مطابق:

’بیس جولائی سے اگست کے پہلے ہفتے تک بارکھان میں شدید بارشوں اور پہاڑی نالوں میں آنے والی طغیانی کے سبب ضلع میں تین سو چودہ دیہات کے تین ہزار تین سو اسی افراد متاثر ہوئے۔اٹھارہ افراد ہلاک ہوئے۔بیس ہزار ایکڑ کے لگ بھگ زرعی اراضی زیرِ آب آئی جس میں آٹھ ہزار ایکڑ پر لگی فصلیں تباہ ہوگئیں۔دو سو اکیاسی ٹیوب ویل ناکارہ ہوگئے۔ڈھائی ہزار کے قریب جانور بہہ گئے یا مرگئے۔اور چھ سو تین مکانات کو کلی یا جزوی نقصان پہنچا جن میں ننانوے فیصد کچے مکانات یا جھونپڑے تھے۔ کل نقصانات کا ابتدائی تخمینہ پچاس کروڑ کے لگ بھگ ہے۔متاثرین کو محض دو سو انیس ٹینٹ میسر آسکے۔راشن اور دیگر ضروریات کی بہم رسانی میں ریڈ کراس، ڈیرہ غازی خان اور ضلع قلعہ سیف اللہ کی انتظامیہ، فرنٹییر کور، صوبائی ڈزآسٹر مینجمنٹ اتھارٹی ، پاکستان پٹرولیم لمیٹڈ اور سحر اور بیج نامی این جی اوز نے نمایاں کردار ادا کیا۔متاثرین کو نقد امداد ملنا باقی ہے۔ زیادہ تر جانی و مالی نقصان تحصیل کی آٹھ یونین کونسلوں میں سے دو یعنی بارکھان صدر اور نہڑ کوٹ میں ہوا ہے۔‘

ڈی سی گل محمد خروٹ سے ملاقات کے بعد صحافی محمد ظفر کی رہنمائی میں ہم بارکھان شہر سے چار پانچ کیلومیٹر باہر طوطا زکوانی گاؤں کی جانب روانہ ہوئے۔ظفر نے بتایا کہ بیس سے بائیس اور پھر انتیس جولائی کو طوفانی بارشوں کے سبب بارکھان شہر میں پہلی مرتبہ چار سے پانچ فٹ پانی کھڑا ہوا۔سب سے زیادہ تباہی کوہلو اور بارکھان کے درمیانی پہاڑ کوہ جاندران سے نکلنے والے پہاڑی نالے ہن نے مچائی۔

پانی کا دباؤ اتنا زیادہ تھا کہ وہ بارکھان اور کوہلو کے اضلاع کو ملانے والا نررڑ پل کا آدھا حصہ اپنے ساتھ لے گیا۔ہن ندی کے ساتھ ساتھ جتنے بھی مکانات اور جھونپڑے تھے سب صاف ہوگئے۔لگ بھگ پچاس لوگ پانی میں بہہ گئے جن میں سے اکتیس زندہ بچ گئے مگر اٹھارہ کی لاشیں تیس کیلومیٹر دور سے ملیں اور ایک لاپتہ ہے۔ان میں سے سولہ افراد صرف طوطا زکوانی کے گاؤں میں بہہ گئے۔یہ سب مزدور تھے اور ساتھ ساتھ دو تین جھونپڑیوں میں رہ رہے تھے۔ان میں ایک ہی خاندان کے سات افراد بھی شامل تھے۔صرف دو بچ سکے ایک پانچ سال کا بچہ درخت سے لٹک گیا۔جبکہ آٹھ سال کا ایک بچہ آٹھ کلومیٹر تک بہتا چلا گیا کہ اسے پانی نے ستار ڈوم نامی گاؤں میں اچھال دیا اور وہ ایک گھر میں جا کر گرا۔عام طور سے ہن ندی میں طغیانی کا دورانیہ آٹھ سے نو گھنٹے کا ہوتا ہے۔لیکن پہلی دفعہ ایسا ہوا کہ اس نالے میں چھتیس گھنٹے تک پانی کی سطح کم نہیں ہوئی۔

میں نے طوطا زکوانی گاؤں میں تین میں سے ایک جھونپڑی کا گھاس پھونس دیکھا۔باقی دو کا نام و نشان بھی نہیں تھا۔ہن ندی اس وقت خشک تھی اور اس کا پاٹ جھونپڑیوں سے کوئی ہزار گز دور تھا۔اس کا مطلب یہ ہوا کہ جب طغیانی آئی ہوگی تو پانی کی مقدار اس قدر زیادہ ہوگی کہ اسکے لیے سو فٹ چوڑا اور آٹھ نو فٹ گہرا پاٹ بھی کم پڑ گیا ہوگا۔چنانچہ ندی دو حصوں میں تقسیم ہوگئی اور دوسرا حصہ طوطا زکوانی میں گھس کر سولہ لوگ اور بیسیوں مکانات کی آدھی، پونی، پوری دیواریں لے گیا۔ جس جگہ مجھے بتایا گیا کہ یہاں پندرہ سے بیس گھر ایک ساتھ بنے ہوئے تھے وہاں اب صرف ناہموار زمین دکھائی دے رہی تھی۔

کون کہتا ہے پانی اندھا ہوتا ہے۔ اندھا ہوتا تو طوطا زکوانی کے کسی پکے گھر پر بھی تو اس کا ہاتھ پڑتا۔اس کا زور بھی بس جھونپڑوں اور کچے گھروں پر ہی چلتا ہے۔پانی بھی جانتا ہے کہ اسے نابینا کا روپ دھار نے کے باوجود بارکھان سے کس طرح گزرنا ہے۔

دوپہر کے دو بج چکے ہیں۔ میں بارکھان ہاؤس دوبارہ پہنچ گیا ہوں۔ میزبانوں سے اجازت طلب کی ہے۔ کیونکہ کوہلو کا سفر درپیش ہے۔ دو دن پہلے لورالائی میں جب کمشنر ژوب ڈویژن میر اختیار خان بنگلزئی کو میں اپنا سفری شیڈول بتا رہا تھا تو وہ کوہلو کا نام سن کر چونکے تھے۔انہوں نے کہا تھا کہ ویسے تو آپ صحافی لوگ ہر جگہ جاسکتے ہیں۔ لیکن میں آپ کی جگہ ہوتا تو کوہلو نہ جاتا۔

سب کہتے ہیں دن ہی دن میں سفر کرنا۔ زیادہ دیر مت ٹھہرنا۔ حالات کا کچھ پتہ نہیں۔۔۔راستہ اچھا نہیں ہے۔۔۔میرا پچھلا ڈرائیور بھی کوہلو کا نام سن کر ہی بھاگا تھا۔ موجودہ ڈرائیور عبدالسلام نے بس اتنا کہا ہے کہ کوشش کیجیے گا کہ پانچ ساڑھے پانچ تک کوہلو چھوڑ دیں۔صحافی جہانگیر موسی خیل بھی زیرِ لب کہہ رہا ہے آپ واقعی کوہلو جانا چاہتے ہیں تو آپ کی مرضی۔ہم تو آپ کے میزبان ہیں۔۔آپ کے ساتھ ہی چلیں گے۔ سوائے میرے کوئی خوشی سے کوہلو نہیں جانا چاہ رہا۔ کیوں ؟؟؟ اب میں یہی جاننے کوہلو جاؤں گا ۔۔۔زیادہ سے زیادہ کیا ہوگا۔۔۔جو کچھ بھی ہوگا آپ کو ضرور بتاؤں گا۔

فی الحال تو مجھے سنسان سڑک پر دونوں طرف کی پہاڑیوں پرکچھ کچھ فاصلے پر ایف سی کے بنکرز دکھائی دے رہے ہیں۔واقعی یہ سڑک اب تک کی سڑکوں سے ذرا مختلف ہے۔ اگلے سینتیس کلومیٹر کا سفر یقیناً پرکشش ہونا چاہئیے۔۔۔ویسے بھی آج کا دن بہت لمبا ہے۔مجھے آج ہی آج کوہلو سے لورالائی بھی واپس پہنچنا ہے۔لیکن یہ بات میں فی الحال کسی کو نہیں بتاؤں گا۔ کہیں جہانگیر موسی خیل ٹوپی نہ پھینک دے۔ کہیں ڈرائیور عبدالسلام بھی مجھے اتار کر فرار نہ ہوجائے۔

اسی بارے میں