عافیہ کے لیے ایم کیو ایم کی ریلی

Image caption ریلی میں ہزاروں لوگوں نے شرکت کی۔

کراچی میں متحدہ قومی موومنٹ کی جانب سے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی سزا کے خلاف احتجاجی جلوس نکالا گیا۔

امریکی عدالت کی جانب سے پاکستانی سائنسدان کو چھیاسی سال کی سزا کے خلاف ایم اے جناح روڈ پر نمائش چورنگی سے تبت سینٹر تک ریلی میں ہزاروں لوگوں نے شرکت کی۔

شرکاء کے ہاتھوں میں ڈاکٹر عافیہ کی رہائی کے بینر اور تصاویر تھیں۔

کراچی سے بی بی سی کے نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق ریلی سے قبل ہی ایم اے جناح روڈ پر عام ٹریفک کو معطل اور تمام کاروبار کو بند کردیا گیا تھا جب کہ ریلی کی گزرگاہ اور بلند عمارتوں پر پولیس اور رینجرز کے اہلکار تعینات تھے۔

ڈاکٹر عافیہ کی سزا کے خلاف یہ ریلی اب تک کا سب سے بڑا احتجاجی اجتماع تھا جو حکومت میں شامل جماعت نے کیا ہے۔

متحدہ قومی موومنٹ کے سربراہ الطاف حسین نے اپنے خطاب میں ڈرون حملوں، عراق اور افغانستان پر امریکی حملوں کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔

’ میں مطالبہ امریکی حکام اور اپیل وہاں کے عوام سے کرتا ہوں کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی سزا کو کالعدم قرار دے کر باعزت طور پر جتنی جلدی ممکن ہو رہا کر کے انصاف کا بول بالا کریں۔ لاکھوں کروڑوں لوگوں کی دعائیں حاصل کریں۔ اگر ظلم و جبر کا یہ سلسلہ جاری رہا اور ڈاکٹر عافیہ کو رہا نہیں کیا گیا تو یہ دعائیں بد دعاؤں میں بھی تبدیل ہوسکتی ہیں‘۔

الطاف حسین کا کہنا تھا کہ جب پاکستان کی سرزمین پر ڈرون حملے ہوتے ہیں تو یہ دلیل دی جاتی ہے کہ افغانستان سے کچھ طالبان پاکستان میں داخل ہوگئے تھے اس لیے حملہ کر کے انہیں ہلاک کیا گیا۔ لیکن ان حملوں میں کئی بے گناہ خواتین، بچے اور بوڑھے ہلاک ہوجاتے ہیں ان کے قتل کی سزا کس کو ملنی چاہیے۔

ریلی سے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی بہن ڈاکٹر فوزیہ نے بھی خطاب کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر سزا سے قبل ایسی ریلیاں منعقد کی جاتیں تو ان کی بہن کو سزا نہیں ہوتی۔

ان کا کہنا تھا کہ انہیں اب بھی امید ہے کہ اگر سب مل کر دباؤ ڈالیں اور انہیں یہ پتہ ہے کہ ایم کیو ایم بہت کچھ کر بھی سکتی ہے کیونکہ وہ حکومت کا حصہ ہے۔

ریلی میں پاکستان پیپلز پارٹی سمیت دیگر سیاسی اور مذہبی جماعتوں کے رہنماؤں نے بھی شرکت کی جب کہ اقلیتی برداری کے بھی کچھ نمائندے نظر آئے۔

اسی بارے میں