وطن کارڈ جاری مگر دھکم پیل میں چھ زخمی

Image caption ’متاثرین نے دھکے دے کر گیٹ توڑ دیا اور اس سے چھ افراد زخمی ہوگئے‘

صوبہ خیبر پختون خوا میں بدھ کو سیلاب متاثرین کو بیس بیس ہزار روپے دینے کے لیے وطن کارڈ جاری کر دیے گئے ہیں لیکن پہلے ہی روز نوشہرہ میں بھگدڑ اور دھکم پیل سے کم سے کم چھ افراد شدید زخمی ہوئے ہیں۔

متاثرین کو امداد فراہم کرنے کا ایک انوکھا طریقہ آج نوشہرہ ضلع میں دیکھنے کو ملا جب بڑی تعداد میں متاثرین کو گورنمنٹ ہائی سکول نمبر ایک میں یہ کہہ کر بلایا گیا کہ وزیر اعلیٰ انھیں وطن کارڈ دیں گے جس سے وہ بیس ہزار روپے حاصل کر سکیں گے۔

حیران کن بات یہ ہے کہ سیکیورٹی خدشات کی وجہ سے وزیر اعلیٰ امیر حیدر خان ہوتی نے کوئی پچاس افراد کو چھاؤنی کے علاقے میں ایک تقریب میں وطن کارڈ دیے جبکہ سکول میں آئے بزرگ شہری اور خواتین دھکے کھاتے رہے۔

پشاور سے نامہ نگار عزیز اللہ نے بتایا ہے کہ اخبارات میں وطن کارڈ جاری کرنے کے حوالے سے بڑے بڑے اشتہارات بھی جاری کیے گئے تھے جس میں رابطے کے لیے قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے قائم ادارے کے فون نمبر دیے گئے تھے۔جب اس ادارے کے ترجمان سے پوچھا گیا کہ یہ کارڈ کہاں ملیں گے تو انھوں نے کہا انھیں نہیں معلوم کہ یہ تقریب کہاں منعقد ہوگی۔

مقامی صحافی سلیم جان نے بی بی سی کو بتایا کہ صبح آٹھ بجے سے ہی متاثرین گورنمنٹ ہائی سکول کے گیٹ کے قریب پہنچ گئے تھے لیکن گیٹ بند کر دیا گیا تھا جس کے بعد متاثرین نے سکول کے گیٹ کو دھکے دے کر توڑ دیا اور اس موقع پر سیکیورٹی کے انتظامات نہ ہونے کے برابر تھے۔ زخمیوں میں بزرگ اور بچے بھی شامل ہیں۔ انھوں نے کہا کہ بھگدڑ سے دو درجن کے لگ بھگ زخمیوں کو ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال لایا گیا ہے۔

اس بارے میں نوشہرہ کے ضلعی رابطہ افسر علی عنان قمر سے رابطہ قائم کیا گیا تو انھوں نے کہا کہ انھوں نے صرف پیر سباق کے متاثرین کو بلایا تھا لیکن دیگر علاقوں سے بھی لوگ پہنچ گئے تھے جس کے بعد متاثرین نے دھکے دے کر گیٹ توڑ دیا اور اس سے چھ افراد زخمی ہوگئے۔

ڈی سی او کے مطابق آج ایک ہزار افراد کو کارڈ جاری کرنا تھے لیکن یہ ٹارگٹ حاصل نہیں کیا جا سکا۔ نوشہرہ ڈسٹرکٹ میں کل چالیس ہزار افراد کو یہ کارڈ جاری کیے جائیں گے جس سے وہ بیس ہزار روپے اے ٹی ایم مشین سے حاصل کر سکیں گے۔.

اسی بارے میں