عافیہ حمایت، متحدہ کی پالیسی میں تبدیلی؟

Image caption ڈاکٹر عافیہ کے لیے ایم کیو ایم کی ریلی میں ہزاروں افراد نے شرکت کی

متحدہ قومی موومنٹ کی جانب سے امریکہ میں قید پاکستانی نژاد امریکی شہری ڈاکٹر عافیہ کی رہائی کے لیے کراچی میں بڑے پیمانے پر احتجاج کو پارٹی کی طرز سیاست میں بڑی تبدیلی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

وجہ صاف ظاہر ہے۔ ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ لبرل اور سیکولر سیاست متحدہ قومی موومنٹ نے ملک کے سب سے بڑے شہر میں امریکہ کے خلاف اپنی روایتی عوامی طاقت کا مظاہرہ کیا ہے جو کہ پاکستان میں بڑی حد تک مذہبی نظریات کی حامل سیاسی جماعتوں کا ایجنڈا رہا ہے۔

ماضی میں متحدہ قومی موومنٹ نے شدت پسندی اور دہشتگردی کے خلاف سب سے بڑے احتجاجی جلسے کیے ہیں جن میں نہ صرف پاکستان میں خودکش حملوں کی مذمت کی جاتی رہی ہے بلکہ پارٹی کے قائد الطاف حسین ان مذہبی رہنماؤں کو بھی دہشتگردی میں برابر کا شریک قرار دیتے آئے ہیں جو پاکستان میں امریکی ڈرون حملوں کو خودکش بم دھماکوں کے جواز کے طور پر پیش کرتے ہیں۔

متحدہ قومی موومنٹ کے رکن قومی اسمبلی حیدر عباس رضوی اپنی جماعت کے سیاسی نظریات میں کسی بھی تبدیلی کی سختی سے تردید کرتے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ ’ایک ایسی خاتون کے لیے آواز اٹھانا، جن کے اوپر امریکی عدالت میں بھی کوئی ایسا بڑا الزام نہیں لگایا جاتا کہ جس کی بنیاد پر انہیں ایک دہشتگرد قرار دیا جاسکے، کسی لبرل، سیکولر یا مڈل کلاس پالیسی کے خلاف ہے اور نہ ہی یہ کسی بھی ایسی طرز فکر کے خلاف ہے جس کے لیے ایم کیو ایم مشہور ہے، ہم آج بھی معتدل، ماڈرن، لبرل، سیکولر، جمہوریت پسند اور پرامن جماعت ہیں‘۔

لیکن ڈاکٹر عافیہ کے حق میں نکالی گئی متحدہ قومی موومنٹ کی ریلی میں پارٹی قیادت نے شدت پسندی کے خلاف امریکی پالیسیوں پر جتنی سخت تنقید کی گئی اس کی پارٹی تاریخ میں کوئی مثال نہیں ملتی۔

حیدر عباس رضوی کہتے ہیں کہ ان کی جماعت آج بھی دہشتگردی اور شدت پسندی کو پاکستان کا ترجیحی مسئلہ سمجھتی ہے اور اسکے خلاف راست اقدامات کی حمایت کرتی ہے لیکن ان کے بقول ایم کیو ایم نے ڈرون حملوں کی کبھی حمایت نہیں کی بلکہ وہ اسے پاکستان کی سرحدوں کی خلاف ورزی تصور کرتی ہے۔

لیکن بعض تجزیہ کاروں کے خیال میں ایم کیو ایم کے امریکہ مخالف احتجاج کا محرک صرف ڈاکٹر عافیہ کا معاملہ ہی نہیں ہے۔

سینئر تجزیہ کار بابر ایاز کا کہنا ہے کہ ‘الطاف حسین نے حال ہی میں یہ کہنا شروع کیا ہے کہ ان کے خلاف ایک بین الاقوامی سازش ہورہی ہے پھر لندن میں پارٹی کے رہنما ڈاکٹر عمران فاروق قتل ہوئے جہاں وہ بالکل محفوظ سمجھے جاتے تھے تو میرے خیال میں یہ ساری چیزیں ایک دوسرے سے جڑی ہوئی نظر آتی ہیں۔’

سینئر صحافی اور تجزیہ کار ڈاکٹر توصیف احمد کا کہنا ہے کہ ’اسکاٹ لینڈ یارڈ کو اب تک لندن میں ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل کے متعلق کوئی واضح ثبوت تو نہیں ملے ہیں لیکن برطانوی حکام سے منسوب جو خبریں آرہی ہیں وہ ایم کیو ایم کی مخالفت میں آرہی ہیں۔ پھر برطانیہ اور امریکہ کا بڑی قریبی تعلق ہے اور اس خطے میں دونوں ملکوں کا بڑا کردار ہے۔ اسی لیے میرا خیال ہے کہ ایم کیو ایم کی قیادت امریکہ کے خلاف مقبول عام سیاسی مؤقف اختیار کرنے پر مجبور ہوئی ہے‘۔

اسی بارے میں