ترقی کم اور مہنگائی میں اضافہ

سٹیٹ بنک
Image caption بینک کا کہنا ہے کہ حالیہ تباہ کن سیلاب معاشی استحکام اور نمو کے امکانات کے لیے سنگین خطرات رکھتا ہے

پاکستان سٹیٹ بینک نے شرح سود میں پچاس پوائنٹس کا اضافہ کردیا ہے جس کے بعد بنیادی سود کی شرح تیرہ فیصد ہوگئی ہے۔

بینک نے پیش گوئی کہ ہے کہ سیلاب کے بعد معاشی ترقی میں کمی کے ساتھ مہنگائی میں مزید اضافہ ہوگا۔

سٹیٹ بینک نے پالیسی ریٹ میں اضافے کی وجوہات بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ مسلسل مہنگائی کا اثر خاصا ہے اور پوری معیشت اسے محسوس کررہی ہے۔ چونکہ مالی خسارے پر قابو پانے میں دشواری کی وجہ سے پورا نجی شعبہ بوجھ برداشت کررہا ہے اس لیے موقف میں سختی لانے کی ضرورت ہے۔

مرکزی بینک کا کہنا ہے کہ حالیہ تباہ کن سیلاب معاشی استحکام اور نمو کے امکانات کے لیے سنگین خطرات رکھتا ہے، سیلاب سے پہلے ہی معاشی کیفیت اور حالات نازک تھے، ابتدائی جائزوں سے ظاہر ہوا تھا کہ یہ دباؤ رواں مالی سال میں بھی کم نہ ہوگا۔

بینک کے مطابق سیلاب کے بعد کی پیش گوئیوں سے معاشی توازن بدتر ہونے کے خدشات درست معلوم ہوتے ہیں کیونکہ مجموعی طلب سے نمٹنے کے لیے درکار اقدامات ابھی تک پوری قوت و تنظیم سے شروع نہیں کیے گئے اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ معاشی ترقی میں کمی کے ساتھ مہنگائی میں مزید اضافہ ہوگا، تجارتی توازن اور مالیاتی کھاتے دونوں دباؤ کا شکار رہیں گے اور نجی شعبے کے غیر ادا شدہ قرضوں اور حکومتی قرض گیری میں اضافے کے باعث بینکاری نظام اس وقت تک دباؤ میں رہ سکتا ہے جب تک کہ ان مشکلات سے نکلنے کے لیے جامع اور مربوط اقدامات نہیں کیے جاتے۔

بی بی سی کے نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق امریکہ اور ایشیائی ترقیاتی بینک کے بعد پاکستان کے مرکزی بینک نے بھی اصلاحات کی تجویز دی ہے، بینک کے مطابق معشیت میں بہتری کے لیے محاصل میں اضافے کے لیے ٹیکس اصلاحات کا نفاذ، معاشی نمو کی بحالی کے لیے شعبہ توانائی کے قرضوں کے مسئلے کا حل نکالنا، سیلاب سے متاثرہ افراد کے لیے ریلیف کے اقدامات اور مہنگائی میں کمی کے لیے حکومت کی اسٹیٹ بینک سے قرض گیری کو محدود کرنا شامل ہیں۔

بینک کا کہنا ہے کہ سیلاب سے معیشت کو پہنچنے والے نقصان کا مکمل اور درست تخمینہ لگانا مشکل ہے، زراعت اور انفراسٹرکچر کے نقصانات زیادہ براہ راست اور نمایاں ہیں جبکہ صنعت اور محنت کش قوت کے لیے مواقع پر اثرات بالواسطہ اور غیر واضح ہوں گے۔

سٹیٹ بینک کے تجزیے کے مطابق قیمتوں میں عارضی اضافہ سیلاب کے باعث ہے، بجلی کے نرخوں میں ممکنہ اضافے، جی ایس ٹی میں اصلاحات کے نفاذ اور حکومت کے سٹیٹ بینک سے قرض گیری پر مسلسل انحصار جیسے اقدامات گرانی کی توقعات کے بارے میں غیر یقینی کیفیت کو بڑھا سکتے ہیں۔ سیلاب کے بعد مہنگائی کو دس فیصد سے نیچے لانے کے لیے آئندہ دو برسوں تک ایک پائیدار مالی و مالیاتی کوشش درکار ہو گی۔

اسی بارے میں